تجزیہ کار برائے سفارتی و دفاعی امور عبدلقیوم چوہدری سے ملاقات کے دوران گفتگو

سلام آباد (نیوزرپورٹر) صدر آزاد جموں وکشمیر بیرسٹر سلطان محمود چودھری نے کہا ہے کہ جو انجام امریکہ کا افغانستان میں ہوا ہے وہی بھارت کا مقبوضہ کشمیر میں ہو گا ۔ میں نے سات سال قبل مودی کو چیلنج کیا تھا کہ وہ دنیا میں جہاں بھی جائے گا میں اس کا پیچھا کروں گا اور میں نے ساری دنیا میں اس کا پیچھا کیا بھی، اب میں ایک مرتبہ پھر مودی کو چیلنج کرتا ہوں کہ وہ دنیا میں جس جس عالمی فورم پر جائے گا اس جگہ مجھے بطور صدر ریاست آزاد جموں و کشمیر پہلے سے موجود پائے گا۔ان خیالات کا اظہار قائد کشمیر صدر آزاد جموں و کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کشمیر ہاس اسلام آباد میں تجزیہ کار برائے سفارتی و دفاعی امور عبدلقیوم چوہدری سے ملاقات کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت افغانستان کے حالات سے سبق سیکھے جو انجام امریکہ کا افغانستان میں ہوا ہے وہی انجام بھارت کا مقبوضہ کشمیر میں ہو گا ۔جس طرح تمام تر وسائل کے باوجود امریکہ کو افغانستان سے بھاگنا پڑا ہے اسی طرح ایک دن بھارت کو بھی مقبوضہ کشمیر سے بھاگنا پڑے گا۔ملاقات میں قیوم چودھری نے قائد کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کو صدر آزاد جموں و کشمیر کا اعلی ترین منصب سنبھالنے پر مبارکباد پیش کی۔ بیرسٹر سلطان نے واضح طور پر کہا کہ وہ اپنے وسیع تر سیاسی تجربے کی بدولت تحریک آزادی کے بیس کیمپ میں صدرِ ریاست کے عہدہ کو صحیح معنوں میں کام کرنے والا بااختیار اور باوقار عہدہ بنائیں گے۔ صدر آزاد جموں و کشمیر نے ایک طویل عرصہ سے پاکستان کی قومی سلامتی، دفاع اور استحکام کیلئے تعمیری کالموں میں قیوم چوہدری کے جانثار اور راسخ نقطہ نظر کو بے حد سراہا اور اس بے لوث کام کو ہمیشہ جاری و ساری رکھنے کا مشورہ دیا۔انہوں نے کہا سید علی گیلانی مرحوم نے مقبوضہ کشمیر کے عوام کی ذہنی اور فکری جو لامبندی کی ہے اور جو نعرہ دیا ہے کہ "اسلام کی نسبت سے ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہمارا ہے” یہ بات اب تمام کشمیری نوجوانوں میں اسطرح سے سرایت کر چکی ہے کہ ہر ہر کشمیری نوجوان خود علی گیلانی بن چکا ہے۔ یاد رہے کہ صدر آزاد کشمیر بیرسٹر سلطان محمود عالمی سطح پر بیس کیمپ سے وہ واحد انفولینشل کشمیری لیڈر ہیں جو سابق وزیراعظم کی حیثیت سے 2013 میں مقبوضہ کشمیر کا سرکاری دورہ کر چکے ہیں جہاں پر وہ آل پارٹیز حریت کانفرنس کے رہنماں سمیت بزرگ کشمیری حریت لیڈر، تحریک آزادی کے سرخیل سید علی گیلانی سے ملاقاتیں کرنے اور دنیا کی خوفناک فوجی چھاونی کے اندر سری نگر لال چوک میں کھڑے ہو کر بھارت کو للکارنے کا حوصلہ اور اعزاز بھی رکھتے ہیں۔




