وال آف کمنٹس میں مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے شہریوں کے تاثرات

آج کے پاک بھارت میچ کے لئے اعلان کر دہ پاکستان کا بارہ رکنی اسکواڈ
اسلام آباد(محمدرضوان ملک /نیوزرپورٹر) ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کا بڑا مقابلہ آج (اتوار کو) ہونے جارہا ہے،پاکستان اور بھارت کی کرکٹ ٹیمیں آج رات سات بجے اس بڑے مقابلے کیلئے مدمقابل ہوں گی۔پاک بھارت کا یہ میچ محض کھیل ہی نہیں دونوں ممالک کے درمیان ایک جنگ کا سا ماحول ہوتا ہے ۔جس کے باعث دونوں ٹیموں پر دبائو ہوتا ہے ۔ اس میچ میں دیکھنا یہ ہوگا کہ کون سے ٹیم دبائو (پریشر) کو کتنا برداشت کر سکتی ہے اس حوالے دیکھا جائے تو بھارت نے ماضی میں اکثر بڑے ٹورنامنٹس میں معمول کے میچوں میں پاکستان کے مقابلے میں زیادہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔اس میچ کے پریشر کا اندازہ اس بات سے بھی کیا جاسکتا ہے کہ اس میچ کے تمام ٹکٹس ایک گھنٹے ہی میں فروخت ہو گئے تھے۔دونوں ٹیموں کو اس حوالے سے بھرپور سپورٹ بھی ہوگی کیونکہ بڑی تعداد میں پاکستانی اور بھارتی متحدہ عرب امارات میں ملازمت کے سلسلہ میں رہائش پذیر ہیں اور وہ اپنی اپنی ٹیم کا حوصلہ بڑھانے کے لئے متحرک رہتے ہیں۔ پاکستانی ٹیم کی حوصلہ افزائی کے لئے کئی ایک وفاقی وزراء گورنرز اور شوبز سے تعلق رکھنے والی شخصیات پہلے ہی برائہ راست میچ دیکھنے اور اپنی ٹیم کی حوصلہ افزائی کیلئے دبئی پہنچ چکی ہیں۔تاہم علم الاعداد اور نجوم کی روشنی میں ستاروں کی چال کو دیکھا جائے تو بھارت کو پاکستان پر برتری حاصل ہے اور بھارت کی اس میچ میں کامیابی کا تناسب 65 فیصد جبکہ پاکستان کا 35 فیصد نظر آتا ہے ۔ ماہر علم نجوم و اعداد محمد عبداللہ ہاشمی کے مطابق پاکستان کا زائچہ بظاہر تو اچھا ہے لیکن کچھ دنوں سے راہئو پاکستان کے زائچے میں ہبوط میں ہے جس کی وجہ سے ملک میں چیزیں الٹ پلٹ ہو رہی ہیں اس کا اثر کھیل پر بھی پڑسکتا ہے۔ تاہم انہوںنے کہا کہ اگر پاکستان پہلے سات اور اچھے کھیل کا مظاہرہ کر گیا تو پھر راہو کے برے اثرات کمزور ہو جاتے ہیں مثلا اگر پاکستان پہلے سات اورز میں ساٹھ ستر تک اسکورکر لیتا ہے اور اس کے ایک دو کھلاڑی آئوٹ ہوتے ہیں یا اگر پہلے بولنگ کرتے ہوئے پہلے سات اور میں بھارت کے دو سے تین کھلاڑی آئوٹ لیتا ہے تو پھر پاکستان کا پلڑا بھاری ہوسکتا ہے۔ کیونکہ اگر آپ کچھ دیر مزاحمت کر جائیں تو راہو کا حبوط کمزور ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی طرف سے محمد حفیظ ، بابر اعظم اور عماد وسیم اچھا کھیل پیش کریں گے کیونکہ ان کے زائچوں میں ستارے شرف میں ہیں جبکہ محمدرضوان ، شعیب ملک اور شاداب خان سے زیادہ بہتر کارکردگی کی توقع نہیں ہے۔پاکستان نے اس میچ کے لئے بارہ رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا ہے جن میں کپتان بابر اعظم کے علاوہ آصف علی، فخر زمان، حیدر علی، محمد رضوان، عماد وسیم، محمد حفیظ، شاداب خان، شعیب ملک، حارث رئوف ، حسن علی اور شاہین شاہ آفریدی شامل ہیں۔ ان بارہ میں سے کون سے گیارہ کھلاڑی آج ایکشن میں ہوں گے ۔زیادہ امکان یہی ہے کہ حیدر علی، آصف علی اور حارث رئوف میں سے کوئی ایک بارہویں کھلاڑی کے طور پر میدان میں آئے گا۔

اسلام آباد میں اس حوالے سے سٹریٹ چمپئینز کے زیراہتمام سپر مارکیٹ میں ایک وال آف کمنٹس بھی سجائی گئی ہے ہفتہ کو مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے اس وال آف کمنٹس کا دورہ کیا اور اپنی ٹیم کی حوصلہ افزائی کے لئے کمنٹس تحریر کئے۔وال آف کمنٹس پر اپنے تاثرات تحریر کرنیو الوں میں چئیرمین و ڈپٹی چئیرمین سینٹ، سپیکر و ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی ، وزیر مملکت برائے اطلاعات فرخ حبیب، علی ظفر، نسیم وکی ، ریذیڈنٹ ایڈیٹر شاہزادانور فاروقی ،سنئیر صحافی جاوید چودھری اور دیگر شامل تھے۔
اس زبردست میچ کیلئے عوام میں جوش وخروش عروج پر پہنچ گیا ہے۔ میچ سے قبل کھلاڑیوں سے ملاقات میں ہیڈکوچ ثقلین مشتاق اور کرکٹ بورڈ کے سربراہ رمیز راجہ نے فتح کیلئے حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ یہ قومی ٹیم کیلئے تاریخ ساز موقع ہے۔ پی سی بی کے چیئرمین رمیز راجہ نے کھلاڑیوں سے فون پر رابطہ کر کے ان کی حوصلہ افزائی اور کہا کہ بھارت کے خلاف میچ کے دبائو میں آنے کے بجائے پورے ٹورنامنٹ پر نگاہ رکھیں، پوری قوم کی نظریں آپ پر مرکوز ہے۔ رمیز راجہ نے کرکٹرز کو بے خوف ہوکر ٹینشن فری ماحول میں کھیلنے اور کپتان بابراعظم کو جارحانہ انداز میں قیادت کرنے کا مشورہ دے دیا۔ رمیز راجہ نے کہا کہ شکست کا خوف ذہن سے نکال کر اپنی سو فیصد کارکردگی دکھائیں اور اچھی کرکٹ کے ساتھ ملک کے وقار کو مقدم رکھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کھلاڑی اس اہم ترین مقابلے میں بے خوف ہوکر اور جارحانہ کرکٹ کھیلیں، اس کے ساتھ ساتھ فیلڈنگ میں بھی جان ماریں اور نتیجہ اللہ پر چھوڑ دیں ۔
ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے پاک بھارت شوڈان کے لیے آئی سی سی بھی متحرک ہوگئی۔ ہائی وولٹیج میچ میں کسی بھی قسم کی گڑبڑ اور اشتعال انگیزی کو روکنے کے لیے حکمت عملی کا اعلان کردیا ہے جس کے تحت میچ کے دوران سیاسی بینر اسٹیڈیم میں لینے پر پابندی ہوگی ۔ آئی سی سی نے کہا ہے کہ سیاسی بینر والے تماشائی کو فوری طور پر گراونڈ سے باہر بھیج دیا جائے گا ۔ تماشائیوں سید رخواست ہے کہ وہ کھیل اور کھلاڑیوں کا احترام کریں، نازیبا نعرے بازیوں سے گریز کریں ۔ علاوہ ازیں اس میچ کے لیے سیکیورٹی کے بھی سخت انتظامات کئے گئے ہیں جبکہ اس میچ کے حوالے سے سٹے بازوں کے فعال ہونے کی بھی اطلاعات ملی ہیں۔ جس پر کڑی نگاہ رکھی جارہی ہے۔
اگر دونوں ممالک کے سابق سٹار کھلاڑیوں کی رائے کو دیکھا جائے تو اس میں بھی بھارت کو کچھ ایڈوانٹیج دیا گیا ہے پاکستان کے سابق کپتان وسیم اکرم نے کہا کہ سوریا کمار دونوں ٹیموں میں فرق ہوسکتے ہیں۔ دبائو والے میچ میں جو اچھا کھیلے گا، وہ جیت جائے گا۔سابق بھارتی کپتان سنیل گاواسکر کا موقف تھا کہ پاکستان اور بھارت کے میچ کا الگ ہی دبائو ہوتا ہے، ایسے میں کسی کو فیورٹ قرار دینا مشکل ہے ۔ انضمام الحق نے پاک بھارت میچ کو فائنل سے قبل ہی فائنل مقابلہ قرار دیا اور کہا کہ کپتان بابر اعظم اور وکٹ کیپر محمد رضوان اپنے اسٹرائیک ریٹ کو بہتر بنائیں جبکہ اسکورنگ ریٹ کوبھی بہتر بنا نے کی ضرورت ہے۔ کسی بھی ٹورنامنٹ میں یہ یقینی طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ کوئی خاص ٹیم جیتے گی تاہم میری رائے میں بھارت کے ٹورنامنٹ جیتنے کے زیادہ امکانات ہیں۔سابق ٹیسٹ کر کٹر اقبال قاسم کا کہنا ہے کہ پاکستان غیر متوقع نتائج دینے والی ٹیم ہے، پاک بھارت میچ سے پہلے پیشن گوئی کرنا آسان نہیں ہے۔شکر ہے شعیب اور حفیظ ٹیم میں ہیں، بڑے میچ کا دباو برداشت کرنے والے یہ دونوں ہی ہیں۔ بھارت نے بابر اعظم اور رضوان کو ٹارگٹ کر رکھا ہے ۔ سابق کپتان سلیم ملک نے کہا کہ میچ سخت ہوگا، امید ہے کہ ہمارے کھلاڑی قوم کو مایوس نہیں کریں گے۔ سابق بھارتی کپتان اظہر الدین نے کہا ہے کہ میچ یک طرفہ ہوگا، ایک ٹیم دبائو میں آجائے گی، بھارت کی ٹیم مضبوط ہے۔اس اہم میچ کے لئے قومی اسکواڈ ہفتے کی شام 6 سے 9 بجے تک آئی سی سی اکیڈمی اوول ون میں آخری بار اس بڑے میچ کیلئے پریکٹس کی ۔
بشکریہ:نوائے وقت


