بلوچستان کے اگلے وزیراعلیٰ میر عبدالقدوس بزنجو ہوں گے


وزیراعلیٰ جام کمال کے بعد سپیکر بلوچستان اسمبلی میر عبدالقدوس بزنجو بھی اپنے عہدے سے مستعفیٰ


آنے والے دنوں میں وہ وزیراعلیٰ بلوچستان کے امیدوار ہوں گے

کوئٹہ: وزیراعلیٰ جام کمال کے استععفیٰ کے بعد سپیکر بلوچستان اسمبلی میر عبدالقدوس بزنجو بھی اپنے عہدے سے مستعفیٰ ہوگئے ہیں۔اسپیکر اسمبلی کے مستعفی ہونے کے بعد بلوچستان اسمبلی کا اجلاس بھی غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردیا گیا۔ میر عبدالقدوس بزنجو نے سیکریٹری بلوچستان اسمبلی کو اپنا استعفی جمع کرادیا۔
پچیس اکتوبرکو بلوچستان اسمبلی کا اجلاس اسپیکر عبدالقدوس بزنجو کی صدارت میں شروع ہوا ۔ یاد رہے کہ اس اجلاس میں وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ ہونا تھی تاہم اتوار کو وزیراعلی جام کمال کے مستعفی ٰ ہو جانے کے بعداس اجلاس میں سابق وزیراعلی جام کمال سمیت ان کا کوئی اتحادی اجلاس میں شریک نہیں ہوا۔
اجلاس کے دوران بات کرتے ہوئے سپیکر عبد القداس بزنجو نے کہا کہ تین خواتین ارکان سمیت چار ارکان کو غائب کرنے کی مذمت کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلی بلوچستان جام کمال کے خلاف تحریک عدم اعتماد آئی تھی تاہم آئین کے آرٹیکل 130 کی شق 8 کے تحت وہ مستعفی ہوگئے ہیں۔لہذا اب تحریک پیش کرنے کی ضرورت نہیں رہی انہوں نے ہدایت دی کہ تحریک عدم اعتماد کا کوئی ایک محرک اپنی قرارد واپس لے جس پر بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) کے سردار عبد الرحمن کھیتران نے ایوان میں تحریک کو واپس لے لی۔
اجلاس میں بات کرتے ہوئے بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے رہنما ملک نصیر شاہوانی نے کہا کہ سابق وزیراعلی نے نہ صرف اپوزیشن بلکہ اپنی پارٹی کے ارکان کو بھی خود سے دور رکھا، غلط رویوں اور پالیسوں کے باعث آج جام کمال کہاں پہنچ گئے۔
سردار عبدالرحمن کھیتران نے اسپیکر اسمبلی عبدالقدوس بزنجو کو اسمبلی اجلاس کے بعد مستعفی ہونے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ میں نے پہلے کہا تھا کہ جام کمال کو ہٹا کر دم لوں گا، آنے والے وقت میں عبدالقدوس بزنجو قائد ایوان کی نشست پر ہوں گے۔انہوں نے اجلاس کے دوران سابق وزیر اعلی جام کمال پر ایک مرتبہ پھر ہارس ٹریڈنگ کا الزام عائد کیا اور کہا کہ مجھے 20 کروڑ روپے کی آفر دی گئی، نہ ماننے پر دھمکیاں دی گئیں۔ان کا کہنا تھا کہ جمہوری تحریک کا راستہ غیر جمہوری طریقے سے روکنے کی کوشش کی گئی، سیاہ دور گزر چکا، بلوچستان کی ترقی کا نیا نظام بنائیں گے۔ اپوزیشن بھی ہماری طرح عوام کے ووٹ سے منتخب ہو کر آئی ہے، حالیہ بجٹ میں اپوزیشن کے ساتھ جو رویہ اختیار کیا گیا وہ افسوسناک ہے۔
بعد ازاں اسپیکر اسمبلی نے سیکریٹری اسمبلی کو اپنا استعفی جمع کرایا جس کے بعد بلوچستان اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردیا گیا۔
اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بی اے پی کے مرکزی رہنما سردار صالح بھوتانی نے بتایا کہ وزارت اعلی کے لیے چند ناموں پر غور کیا جارہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایک جماعت نہیں بلکہ اتحادیوں سے مشاورت بھی لازمی ہوتی ہے، کوشش ہو گی جس مقصد کے لیے تبدیلی کی گئی وہ عملی طور پر بھی نظر آئے۔انہوں نے بتایا کہ اپوزیشن اراکین کو کابینہ میں شامل کرنے کے حوالے سے بھی فیصلہ کچھ دن میں ہو جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ جن لوگوں نے تحریک عدم اعتماد میں ساتھ دیا انہیں شامل کریں گے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز بلوچستان کے وزیراعلی جام کمال خان علیانی نے کئی روز تک جاری رہنے والے تنازع کے بعد استعفی دے دیا تھا۔
بلوچستان کے گورنر کے ترجمان پائند خان خروٹی نے بیان میں کہا تھا کہ جام کمال خان نے اپنا استعفی گورنر بلوچستان سید ظہور احمد آغا کو جمع کرایا جسے گورنر بلوچستان نے منظور کر لیا ہے۔چیف سیکریٹری بلوچستان مطہر نیاز رانا کی جانب سے جاری نوٹفیکیشن میں کہا گیا کہ استعفی منظور کرلیا گیا ہے اور کابینہ تحلیل ہوگئی ہے۔
یادرہے کہ 20 اکتوبر کو بلوچستان اسمبلی میں وزیراعلی جام کمال کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کردی گئی تھی۔
بلوچستان عوامی پارٹی کے ترجمان سردار عبدالرحمن کھیتران نے اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ 65 کا ایوان ہے، جام کمال خان ہمارے لیے قابل احترام شخصیت ہیں، یہ ایک قبیلے کے سردار ہیں، ان کو قائد ایوان بھی اکثریت کے بل بوتے پر منتخب کیا گیا تھا اور آج بھی اکثریت کے بل بوتے پر یہ قرارداد آ گئی ہے اور اس ایوان نے فیصلہ کردیا ہے حالانکہ ہمارے اراکین اسمبلی مسنگ پرسن میں آ گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کسی کا گلا دبا کر کوئی اقتدار میں نہیں رہ سکتا، یہ بلوچستان کی روایت نہیں ہے کہ کسی کو آپ مسنگ اور اغوا کریں اور ایوان کے تقدس کو پامال کریں، کسی کو اس کی اجازت نہیں دی جائے گی۔سردار عبدالرحمن نے لاپتا افراد کی بازیابی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر لاپتا افراد کو بازیاب نہ کرایا گیا تو یہ ایوان اور پورا بلوچستان احتجاج کرے گا، ہم اس سطح پر نہیں جانا چاہتے، ہمارے لیے ہر ادارہ قابل اعتماد ہے۔انہوں نے کہا تھا کہ جب ایوان کا ایک شخص سے اعتماد اٹھ گیا ہے تو بہتر یہی ہو گا کہ جام کمال خان استعفی دے دیں، اقتدار سے چپکے رہنے کا فائدہ نہیں ہے، آج پانچ لاپتا ہیں، کل مزید پانچ لاپتا کر لیں گے، شاید ان کی کرسی بچ جائے لیکن اب یہ ایوان نہیں چلے گا۔