وزیراعظم سرکاری اراضی پر قابض مافیا اور سہولت کاروں کے خلاف کارروائی کے لیے پرعزم


اسلام آباد:وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ تمام تجاوزات زدہ سرکاری اراضی اور تین بڑے شہروں کی کل قیمت تقریبا 5ہزار 595 ارب روپے ہے۔وزیر اعظم عمران خان نے ڈیجیٹل لینڈ سروے کے حیران کن نتائج کی روشنی میں سرکاری اراضی پر قبضہ کرنے والے لینڈ مافیا اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائی کا عزم ظاہر کیا ہے۔
وزیر اعظم نے رواں سال ستمبر میں زمین کے ریکارڈ میں ترمیم کو روکنے، تصویروں کے ذریعے تعمیرات کی نگرانی کو یقینی بنانے اور زمین کی ملکیت کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کے لیے اسلام آباد کا کیڈسٹرل نقشہ جاری کیا تھا۔
سروے آف پاکستان کو کیڈسٹرل میپنگ کا کام سونپا گیا تھا، پہلے مرحلے میں تین بڑے شہروں کراچی، لاہور اور اسلام آباد کے لینڈ ریونیو ریکارڈ اور ملک کی ریاستی اراضی کے ڈیٹا کو ڈیجیٹائز کرنا تھا جو کہ اب مکمل ہو چکا ہے۔ریاستی اراضی کا یہ سروے محکمہ جنگلات، ریلوے، سول ایوی ایشن اتھارٹی، نیشنل ہائی ویز اور ایوکیو ٹرسٹ پراپرٹی کی زمینوں پر کیا گیا۔
ڈیجیٹل لینڈ سروے کے حیران کن نتائج کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعظم نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ تمام تجاوزات زدہ سرکاری اراضی اور تین بڑے شہروں کی کل قیمت تقریبا 5ہزار 595 ارب روپے ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اسی طرح جنگلات کی زیر قبضہ زمین کی مالیت تقریبا ایک ہزار 869 ارب روپے ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جنگلات کی زمینوں پر لینڈ مافیا کے قبضے سے پاکستان کو جنگلات کے مناسب حجم کے حوالے سے درپیش موجودہ کمی میں مزید شدت پیدا ہوئی اور اس مصدقہ ڈیجیٹل ریکارڈ کی مدد سے اب ہم ان لینڈ مافیاز اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائی کریں گے۔
عمران خان نے کہا کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر احتجاج کی طرح جب ہم نے ڈیجیٹل لینڈ ریکارڈز کے لیے پاکستان کی کیڈیسٹرل میپنگ کا آغاز کیا تو اس میں بھی ہمیں شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ان کا کہنا تھا کہ سرکاری اراضی کے سروے کے پہلے مرحلے کے نتائج سے اس مزاحمت کی وجوہات سامنے آ گئیں کہ سیاسی اشرافیہ لینڈ مافیا کیساتھ مل کر جنگلات سمیت بڑے سرکاری رقبے پر قابض تھی۔
ستمبر میں اسلام آباد کے لیے کیڈسٹرل میپ کے اجرا کے موقع پر وزیر اعظم عمران نے کہا تھا کہ دارالحکومت میں تقریبا 400 ارب روپے کی اراضی پر غیر قانونی قبضہ ہے یا اسے استعمال میں نہیں لایا گیا جبکہ تقریبا 1ہزار ایکڑ جنگلاتی اراضی پر قبضہ ہے۔انہوں نے کہا تھا کہ تین شہروں کی کیڈسٹرل میپنگ کو اس سال نومبر تک ڈیجیٹل خطوط پر استوار کر دیا جائے گا جبکہ ملک کے باقی حصوں کا اس کے بعد آئندہ چھ ماہ میں احاطہ کیا جائے گا۔وزیراعظم نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ملک کے نظام میں یہ صلاحیت نہیں کہ وہ غیر قانونی طور پر قبضہ شدہ ان زمینوں کو قابضین سے چھڑا سکے اور تجاوزات پر قبضہ چھڑانے سے بیرون ملک سے سرمایہ کاری کو راغب کرنے میں مدد ملے گی۔