شنہوا کے زیر اہتمام کرونا وائرس سے درپیش چیلنجز سے نمٹنے اور مواقع کے حصول کے لئے 260 سے زائد میڈیا قائدین اور سربراہان کا اجلاس


بیجنگ (شِنہوا) دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ کے 260 سے زائد اداروں کے قائدین اور نمائندے میڈیا کے ایک سربراہی اجلاس میں بہ نفس نفیس یا آن لائن اکٹھے ہوئے تاکہ نوول کروناوائرس کی وجہ سے درپیش چیلنجز اور مواقعوں کے ساتھ ساتھ عالمی وبا کی وجہ سے تشکیل پانے والے میڈیا کے نئے رجحانات سے نمٹنے کے لیے تعاون پر تبادلہ خیال کر سکیں ۔چوتھا عالمی میڈیا سربراہی اجلاس (ڈبلیو ایم ایس ) پیر کے روزمنعقد ہوا جس کی میزبانی چین کی شِنہوا نیوز ایجنسی نے کی اور جس کا موضوع "نوول کرونا وائرس کے اثرات کے تحت میڈیا کی ترقی کی حکمت عملی” پر مرکوز تھا۔شرکا نے میڈیا کی صنعت پر عالمی وبا کے اثرات کو تسلیم کیا اور نوول کروناوائرس سے نمٹنے میں میڈیا کی ذمہ داریوں پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔عالمی میڈیا سربراہی اجلاس کے ایگزیکٹو صدر اور شِنہوا کے صدر ہی پنگ نے کہاکہ عالمی وبا سے
بنی نوع انسان کی صحت کو خطرہ لاحق ہے اور میڈیا کے پاس ایک مشن موجود ہے جس کو مکمل کرنا ہے۔انہوں نے عالمی میڈیا پر زور دیا کہ وہ تمام ممالک کے اتفاق رائے اور اقدامات کی مکمل عکاسی کرے تاکہ نوول کروناوائرس کی عالمی وبا سے مشترکہ طور پر نمٹا جاسکے ،احسن طریقے سے عالمی وبا کے خلاف کہانیاں بیان کرے، مثبت معلومات پھیلائے، عام لوگوں کے کارہائے نمایاں کی عکاسی کرے اور انسانی فطرت کا وقار بیان کرے۔
ہی پنگ نے کہا کہ لوگوں کے دلوں کو جوڑنے والے ایک پل اور سماجی ترقی اور پیشرفت کے لیے ایک محرک کے طور پر عالمی میڈیا کو اس وباکے خلاف عالمی جنگ کے موقع پر یکجہتی کو فروغ دینے کے مشن کو انجام دینے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرناچاہیے اور انسانیت کی مشترکہ اقدار کی وکالت کرنے اور انسانیت کے مشترکہ مستقبل کے ساتھ ایک برادری کی تعمیر کو فروغ دینے میں اپنا مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔
کیوڈو نیوز کے صدر اور ایڈیٹر انچیف تورو میزوتانی نے وائرس کی وجہ سے روبرو رابطے میں پیش آنے والے چیلنجز کے باوجود انٹرویوز کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ میڈیا کار کنان کو اپنے ذرائع سے بات کرنی چاہیے تاکہ مستند معلومات کے حصول کو یقینی بنایا جا سکے ۔
سربراہی اجلاس کے شرکا نے کہا کہ کٹھن چیلنجز کے باوجودیہ عالمی وبا نئے مواقع بھی ساتھ لائی ہے جس نے میڈیا اداروں کو جدت طرازی اور تبدیلی کو اپنانے پر مجبور کیا ہے ۔
پرنسا لاطینہ کے صدرلیوس انریک گونزالیز ایکوسٹانے کہا کہ عالمی وبا نے میڈیا کے انضمام کو قبول کرنے کی ضرورت کو جنم دیا ہے اور میڈیا کو خبریں پھیلانے کے لیے مزید چینلز کھولنے کی نئی راہیں تلاش کرنی چاہیے۔2009میں اپنے آغاز سے ہی میڈیا تعاون کو فروغ دینا عالمی میڈیا سربراہی اجلاس کاایک اہم موضوع رہا ہے۔عالمی میڈیا سربراہی اجلاس تقریبا 100 ممالک اور خطوں کے 260 سے زائد میڈیا آٹ لیٹس اور اداروں پر مشتمل ہے اور اس کا طریقہ ہائے کار عالمی میڈیا کے لیے اعلی درجے کی مواصلات اور رابطہ کاری کا ایک پلیٹ فارم فراہم کرناہے۔ہی پنگ نے کہا کہ بیجنگ سے ماسکو تک، دوحہ سے بیجنگ تک یہ سربراہی اجلاس ہمیں ایک دوسرے کے قریب لایا ہے جبکہ تعاون اور تبادلے کے مفید نتائج برآمد ہوئے ہیں۔انہوں نے عالمی میڈیا سربراہی اجلاس کی ترقی کے لیے مشترکہ طور پر زیادہ کھلے ذہن کے ساتھ تبادلے اور تعاون کو فروغ دینے، زیادہ کاروباری جذبے کے ساتھ جدت اور ترقی کی راہیں تلاش کرنے اور مشترکہ طور پر طریقہ ہائے کار وضع کرنے اور پلیٹ فارم بنانے کے لیے زیادہ عملی اقدامات اپنانے کی تجویز پیش کی۔سربراہی اجلاس نے اپنے سرمائی کھیلوں کے تصویری مقابلے کے لیے انعامات کا بھی اعلان کیا، 65 ممالک اور خطے کے 870 فوٹوگرافروں کی جانب سے جمع کرائی گئی 2 ہزار 740 انٹریز میں سے کل 21 تصاویر (فوٹو سیریز) کو ایوارڈ دیا گیا۔