سپریم کورٹ ملازمین کی تنخواہیں اور مراعات ،پاکستان انفارمیشن کمیشن کے فیصلے نے عدلیہ کو مشکل میں ڈال دیا ،اسلام آباد ہائی کورٹ نے کمیشن کے فیصلے کے خلاف اٹارنی جنرل سے معاونت طلب کر لی


شہری نے رجسٹرار سے سپریم کورٹ اسٹاف کی تنخواہوں و دیگر معلومات مانگی تھیں اور پاکستان انفارمشین کمیشن نے بھی شہری کے حکم میں فیصلہ سنایا تھا،رجسٹرار سپریم کورٹ نے کمیشن کا فیصلہ ہائی کورٹ میں چیلنج کررکھا ہے

اسلام آباد:اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان انفارمیشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف قانونی سوالات پر اٹارنی جنرل سے معاونت طلب کرتے ہوئیسماعت 3 ہفتوں کے لیے ملتوی کردی۔جمعرات کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں پاکستان انفارمیشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف رجسٹرار سپریم کورٹ کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان اسلام آباد ہائی کورٹ کے سامنے پیش ہوئے۔
عدالت نے سوال اٹھایا کہ کیا رجسٹرار سپریم کورٹ ایسی درخواست دائر کر سکتا ہے؟۔عدالت نے درخواست کے قابل سماعت ہونے سے متعلق اٹارنی جنرل سے معاونت طلب کرلی۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے عدالت کو بتایا کہ کمیشن نے رجسٹرار سپریم کورٹ سے کہا ہے کہ معلومات شہری کو دیں اورکمیشن نے معلومات تک رسائی کے ایکٹ کے تحت فیصلہ دیا۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ کورٹ آئینی عدالت ہے اور یہ فیڈرل لا کے تحت نہیں آتا۔ قانونی طور پر کمیشن سپریم کورٹ کے خلاف حکم نہیں دے سکتا، کمیشن نے کہا ہے کہ ہمارے پاس اپنے فیصلے پر نظرثانی کا اختیار نہیں۔چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے استفسار کیا کہ رجسٹرار کے خلاف رٹ نہیں ہوسکتی تووہ متاثرہ فریق کیسے ہوسکتا ہے؟ ہائیکورٹ رجسٹرار کے خلاف فیصلہ دے تو وہ اسے چیلنج کہاں کرے گا؟۔
عدالت نے قانونی سوالات پر اٹارنی جنرل سے معاونت طلب کرتے ہوئے سماعت 3 ہفتوں کے لیے ملتوی کردی۔
شہری نے رجسٹرار سے سپریم کورٹ اسٹاف کی تنخواہوں و دیگر معلومات مانگی تھیں۔ پاکستان انفارمشین کمیشن نے بھی شہری کے حکم میں فیصلہ سنایا تھا۔رجسٹرار سپریم کورٹ نے کمیشن کا فیصلہ ہائی کورٹ میں چیلنج کررکھا ہے۔