اقوام متحدہ میں چھوٹے اور کمزور ممالک کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتا ہے ،اس امتیازی سلوک کے ساتھ انصاف ممکن نہیں

اسلام آباد:سابق وزیر داخلہ اور چیئرمین انسٹی ٹیوٹ آف ریسرچ اینڈ ریفارمز (IRR) سینیٹر رحمان ملک نے کہا ہے کہ کشمیر اور فلسطین دو ایسے مقامات ہیں جہاں انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہو رہی ہے اور روزانہ کی بنیاد پر انسانیت کی تذلیل کی جا رہی ہے لیکن اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی دیگر تنظیمیں خاموش تماشائی ہیں.
انہوں نے انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر ایک سیمینار سے خطاب کیا جس کا اہتمام اسلام آباد انسٹی ٹیوٹ آف کنفلیکٹ ریزولوشن IICR نے انسٹی ٹیوٹ آف ریسرچ اینڈ ریفارمز IRR اور لیگل فورم برائے کشمیر LFK کے اشتراک سے کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 1948 میں انسانی حقوق کا عالمی منشور منظور کیا اور ہر سال 10 دسمبر کو انسانی حقوق کا دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد عوام میں ان کے سماجی، ثقافتی اور جسمانی حقوق کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا اور دنیا بھر میں ہر قسم کے جبر، امتیازی سلوک، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور ناانصافیوں کے خلاف آواز اٹھانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس فورم سے ہم دنیا بھر کی حکومتوں پر زور دیتے ہیں کہ وہ بلا تفریق سب کے لیے مساوی مواقع پیدا کریں اور عدم مساوات اور امتیاز کا خاتمہ کریں۔
رحمان ملک نے کہا کہ بدقسمتی سے اقوام متحدہ خود برابری کے اصولوں پر عمل نہیں کر رہا کیونکہ عالمی طاقتوں کو ویٹو پاور دیا گیا ہے جو باقی دنیا کے ساتھ امتیازی سلوک ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی طاقتوں کے حق میں منظور ہونے والی قراردادوں پر فوری عمل درآمد کیا جاتا ہے جبکہ چھوٹی اقوام کے حق میں منظور ہونے والی قراردادوں کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے اور اقوام متحدہ کی جانب سے کبھی ان پر عمل درآمد نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ امتیازی سلوک کے ساتھ انصاف ممکن نہیں اس لیے امن، مساوات، انصاف اور انسانی حقوق کے نگران اقوام متحدہ کی طرف سے مساوات کے قانون پر عمل نہیں کیا جا رہا ہے۔
سابق وزیر داخلہ نے کہا کہ کشمیر اور فلسطین دو ایسے مقامات ہیں جہاں انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہو رہی ہے اور انسانیت کی تذلیل کی جا رہی ہے لیکن اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی دیگر تنظیمیں خاموش تماشائی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر اور فلسطین کے مظلوم عوام کو دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے جن کی آواز اقوام متحدہ سمیت عالمی طاقتیں نہین سن رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن نے 14 جون 2018 کو خود رپورٹ دی ہے کہ صرف جنوری 1989 سے لے کر 31 جنوری 2018 تک 94,700 کشمیریوں کو قتل کیا گیا، 8,000 کو حراست میں قتل کیا گیا، 11,050 کشمیری خواتین کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کی گئی اور 7,485 افراد زخمی ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان کو آج کے انسانی حقوق کے عالمی دن کو کشمیریوں کے نام سے منسوب کرنا چاہیے تھا لیکن بدقسمتی کی بات ہے کہ آج حکومت نے کشمیر پر کوئی ایسا پروگرام منعقد نہیں کیا جس سے پوری دنیا میں کشمیریوں کے لیے آواز اٹھتی۔ انہوں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو، شہید محترمہ بینظیر بھٹو اور پیپلز پارٹی نے کشمیر کے حوالے سے جو کام کیا وہ تاریخی ہے، شہید محترمہ بے نظیر بھٹو جہاں بھی گئیں انہوں نے کشمیریوں کے لیے بات کی۔
سینیٹر رحمان ملک نے سیمینار کے آخر میں ایک قرارداد پیش کی جس میں اقوام متحدہ پر زور دیا گیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے جسے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔
کانفرنس سے جسٹس چوہان چیئرمین لیگل فورم برائے کشمیر، ڈاکٹر فرزانہ باری انسانی حقوق کی کارکن، پروفیسر ڈاکٹر سمیرا، آئی آئی او کے کے سینئر صحافی مختار بابا، شیخ متین ممبر آل پارٹیز حریت کانفرنس اور صبا اسلم بانی اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر آئی آئی سی آر نے خطاب کیا ۔سول سوسائٹی، انسانی حقوق کے کارکنوں اور مختلف یونیورسٹیوں کے طلبا کی بڑی تعداد اس موقع پر موجود تھی۔ جنیوا میں اقوام متحدہ میں خصوصی مستقل نمائندے سفیر ڈاکٹر ہیسام نے بھی ویڈیو لنک کے ذریعے سیمینار سے خطاب کیا اور انھوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا حل کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق ہونا چاہئے۔
مقررین نے انسانی حقوق کے دن کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور دنیا بھر کی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ اپنے تمام شہریوں کو بغیر کسی امتیاز کے یکساں مواقع فراہم کریں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مساوات اور عدم امتیاز کا اصول انسانی حقوق کے لیے بنیادی ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی دیگر تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ کشمیر، فلسطین اور دیگر متنازعہ علاقوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر اپنی خاموشی توڑیں اور انہیں ظلم سے نجات دلانے میں اپنا کردار ادا کریں۔



