
اسلام آباد :کینٹ بورڈز ایشو حکومت کی بے حسی اور تاخیر مسئلہ کو سنگینی کی طرف دھکیل رہی ہے، نجی تعلیمی اداروں کی کینٹ حدودِ سے بیدخلی بڑا المیہ ہو گا، حکومت فلفور کینٹ قانون میں ترمیم کے لیے آرڈیننس لائے، 90 دن کے اندر ایکٹ میں ترمیم کا بل قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے، معاملہ کو فوری حل کرنے کے لئیے از خود نوٹس لیں تاکہ 40 لاکھ بچوں کے مستقبل اور 4 لاکھ اساتذہ اور دیگر ملازمین کے روز گار کو بچایا جا سکے، ان خیالات کا اظہار آل پاکستان پرائیویٹ سکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن پنجاب کے صدر راجہ محمد الیاس کیانی نے مرکزی نائب صدر ملک دین اعوان، رانا سہیل ، سیکرٹری جنرل محمد اشرف ہراج ،ڈویژنل صدر عرفان مظفر کیانی ، سردار گل زبیر ،عبدالرحیم کے ہمراہ مسلسل تیسرے دن نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے باہر منعقدہ احتجاجی کیمپ اپسکا کے عہدیداران،سکولز سربراہان ،اساتذہ طلبا سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر اپسما ضلع راولپنڈی کے صدر ابرار احمد ایڈوکیٹ کرنل فواد، ڈاکٹر اعجاز، راجہ نعمان، کامران احمد موجود تھے، الیاس کیانی نے کہا کہ ملک میں 3 کروڑ بچے آوٹ آف سکول ہیں، ریاست کے پاس بچوں کو سکولز میں لانے کا کوئی انتظام نہیں، نجی تعلیمی ادارے ملکی آبادی 62 فیصد بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کر رہے ہیں، کینٹ حدودِ سے نجی تعلیمی اداروں کو نکالنا تعلیم دشمنی ہے، آل پاکستان پرائیویٹ سکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن کسی صورت اس سازش کو کامیاب نہیں ہونے دے گی، ہم نے حکومتی ذمہ داران کے ساتھ ساتھ اعلی عدلیہ کا دروازہ بھی کھٹکھٹا رکھا ہے، نظرثانی کی درخواست پر بنچ کی تشکیل ہو چکی ہے سماعت 5 جنوری کے لیے مقرر ہے، کیمپ میں اپسکا عہدیداران، اساتذہ،طلبا کی بڑی تعداد کیمپ میں موجود تھی اور شدید نعرہ بازی کی کہ میرا سکول گھر سے دور نامنظور نامنظور، ایک ریاست دو دستور نامنظور نامنظور اس موقع پر شکور چشتی، عامر علی رضا، عامر رفیق، انیس اقبال، عمران درانی ،چوہدری ارشد ،دیگر موجود تھے۔




