مجھے کافی عرصہ تک ہراساں کیا جاتا رہا اداکارہ عائشہ عمر

شوبز کیریئر کے آغاز میں جنسی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا تھا اور انہیں خود سے دگنی عمر کا شخص کافی عرصے تک ہراساں کرتا رہا تھا

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ)خواتین کے حقوق اور سماجی مسائل پر کھل کر بات کرنے والی اداکارہ عائشہ عمر نے ایک بار پھر اپنے ساتھ ہونے والے نامناسب واقعات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ نہ صرف بچپن میں بلکہ شوبز انڈسٹری میں آنے کے فوری بعد کافی عرصے تک جنسی ہراسانی کا نشانہ بنتی رہیں۔عائشہ عمر سال 2020 اور 2021 میں بھی مختلف انٹرویوز اور سوشل میڈیا پوسٹس کے ذریعے اپنے ساتھ ہونے والے نامناسب واقعات پر بات کر چکی ہیں۔عائشہ عمر نے ماضی میں بتایا تھا کہ انہیں شوبز کیریئر کے آغاز میں جنسی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا تھا اور انہیں خود سے دگنی عمر کا شخص کافی عرصے تک ہراساں کرتا رہا تھا۔اداکارہ نے یہ بھی بتایا تھا کہ انہوں نے جنسی ہراسانی کے واقعات پر 15 سال تک کسی سے کوئی بات نہیں کی تھی مگر اب وہ اس معاملے پر بات کرنے لگی ہیں۔اب ایک بار پھر انہوں نے اپنے ساتھ ہونے والے واقعات پر کھل کر بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ نہ صرف بچپن میں بلکہ شوبز کیریئر کے آغاز میں بھی جنسی ہراسانی کا نشانہ بنیں اور شروع میں تو انہیں کچھ سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا کہ ان کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔عائشہ عمر نے حال ہی میں فیوچیا میگزین کو دیے گئے انٹرویو میں بتایا کہ جب وہ 2 سال کی تھیں، تب ان کے والد انتقال کر گئے تھے اور ان کی پرورش والدہ نے کی۔اداکارہ نے بتایا کہ والد کے انتقال کے بعد ان کے معاشی مسائل انتہائی خراب ہو چکے تھے اور ان کے پاس تعلیم جاری رکھنے کے لیے بھی پیسے نہیں تھے مگر شکر ہے کہ انہیں لاہور گرامر اسکول میں اسکالرشپ مل گئی۔عائشہ عمر نے بتایا کہ انہوں نے صرف اسکول بلکہ کالج کی تعلیم بھی اسکالرشپ پر حاصل کی اور انہیں نیشنل کالج آف آرٹس پرفارمنگ (این سی اے) لاہور نے بھی اسکالرشپ دی تھی۔اداکارہ کے مطابق انہوں نے زمانہ طالب علمی یعنی اسکول کے وقت سے ہی بطور چائلڈ آرٹسٹ کام شروع کیا اور بچپن میں ہی پیسے کمانے لگیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ انہوں نے بچپن سے ہی والدہ کی مالی مدد کرنا شروع کی تھی اور تاحال وہ پورے گھر کو چلا رہی ہیں اور ایک طرح سے وہ تین گھر چلاتی ہیں۔عائشہ عمر کے مطابق ان کی والدہ لاہور میں رہتی ہیں اور وہ انہیں ہر طرح کے اخراجات دیتی ہیں جب کہ وہ خود کراچی میں کرائے کے فلیٹ میں رہتی ہیں اور ان کے چھوٹے بھائی ڈینمارک میں پڑھتے ہیں، جن کے اخراجات بھی وہ ہی برداشت کرتی ہیں۔