2 خواتین ڈاکٹرز کی ڈی این اے رپورٹ میں ایک ہی شخص کے سیمپلز میچ کرگئے، یونیورسٹی کا احتجاج لیبارٹری کو حق نہیں وہ ایک لڑکی کے اجزا دوسری سے میچ کریں
لاڑکانہ کے چانڈکا میڈیکل کالج میں دو سال کے دوران 2 طالبات کی مبینہ خودکشی کے واقعات رپورٹ ہوئے، تحقیقات کے دوران گرلز ہاسٹل میں مردہ پائی گئی ڈاکٹر کی ڈی این اے رپورٹ میں ہوش اڑا دینے والے حقائق سامنے آئے ہیں۔ 2 خواتین ڈاکٹرز کی ڈی این اے رپورٹ میں ایک ہی شخص کے سیمپلز میچ کرگئے، ایک ڈاکٹر کی لاش 2021 میں ہاسٹل سے ملی تھی جبکہ دوسری ڈاکٹر کی لاش 2019 میں ملی تھی۔
لاڑکانہ کے چانڈکا میڈیکل کالج کے ہاسٹل میں دو سال کے دوران مبینہ خودکشی کے دو واقعات سامنے آئے ہیں، جن میں خواتین ڈاکٹرز نے مبینہ طور پر خودکشی کی، پہلی ڈاکٹر کی لاش 2019 جبکہ دوسری کی 2021 میں ملی تھی۔
گزشتہ سال مبینہ خودکشی کرنیوالی خاتون ڈاکٹر کی ڈی این اے رپورٹ میں تہلکہ خیز حقائق سامنے آئے ہیں، جس میں پتہ چلا ہے کہ 2019 اور 2021 میں مبینہ خودکشی کرنیوالی دونوں خواتین کے ڈی این اے سیمپل میں ایک ہی شخص کے نمونے پائے گئے ہیں۔
گزشتہ سال مبینہ طور پر خودکشی کرنیوالی طالبہ فائنل ایئر میں تھی مگر وہ ڈاکٹر بننے کا خواب یہ نوٹ لکھ کر ادھورا چھوڑ گئی کہ میرے امی ابو مجھے معاف کرنا۔
ڈی این اے رپورٹ نے تفتیش کی سمت کا تعین تو کردیا۔ سیشن جج کی نگرانی میں جوڈیشل کمیشن نے بھی واقعات کی تفتیش شروع کردی ہے۔
دوسری جانب بے نظیر میڈیکل یونیورسٹی میں پروفیسر اور قانونی ماہرین کا اجلاس ہوا جس نے رپورٹ باہر آنے پر اظہار ناراضی کردیا۔ ان کا کہنا ہے کہ چانڈکا میڈیکل کالج لاڑکانہ کی 2 طالبات کی موت کی ڈی این اے رپورٹ کیسے باہر آئیں؟۔اجلاس کے شرکا نے کہا کہ لیبارٹری انتظامیہ نے ادارے کو بدنام کرنے کی کوشش کی، رپورٹ بدنیتی پر مبنی ہے، لیبارٹری کو بھی جوڈیشل انکوائری میں شامل کیا جائے۔شرکا کا کہنا تھا کہ لیبارٹری کو حق نہیں وہ ایک لڑکی کے اجزا دوسری سے میچ کریں۔

