اسلام آباد ہائیکورٹ کے تفصیلی فیصلے کی وجہ سے سپریم کورٹ میں وزارت تعلیم کو طارق بنوری کیخلاف کارروائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے

اسلام آباد(قاضی بلال وقائع نگارخصوصی)ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر طار ق بنوری کیخلاف ادارہ کو بدنام کرنے کے بیانات پر تادیبی کارروائی کا فیصلہ کرلیا گیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق طارق بنوری کیخلاف سابق چیئرمین عطاء الرحمان متحرک ہو چکے ہیں اور وزارت تعلیم بھی ان کا بھر پور ساتھ دے رہی ہے حکومت نے ہر حال میں ڈاکٹر طارق بنوری کو ہٹانے فیصلہ کر لیا ہے سپریم کورٹ میں دائر رٹ کی جلد سماعت کیلئے بھی درخواست دی جائے گی ۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے تفصیلی فیصلے کی وجہ سے سپریم کورٹ میں وزارت تعلیم کو طارق بنوری کیخلاف کارروائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔دوسری جانب ایچ ای سی کے شعبہ تعلقات عامہ نے بھی طارق بنوری کے ایک نجی ٹی وی انٹرویو کی تردید جاری ہے اور ان کے الزاما ت کو مسترد کر دیا تھا اس حوالے سے ہائیر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی)نے ایک ٹیلی ویژن پروگرام میں ڈاکٹر طارق بنوری کی طرف سے لگائے گئے الزامات مسترد کردیے ہیں کہ ملک میں جامعات کو فنڈز کی تقسیم اس مقصد کے لیے طے شدہ فارمولے کے تحت نہیں کی جارہی اور یہ کہ کچھ جامعات کو دوسری جامعات پر ترجیح دی جاتی ہے۔ بنوری نے معاشی طور پر مشکل صورتحال سے نبرد آزما جامعات کو دی جانے والی اسپیشل سپلیمنٹری گرانٹ (special supplementary grant) جو کہ عدالتی فیصلے اور تمام ضروری تصدیقی عمل(Approvals) کے بعد مہیا کی گئی تھیڑکے حوالے سے تصویر کشی کرنے کی کوشش کی ہے کہ یہ گرانٹ پسند(favoritism) کی بنیاد پر اداروں کو خوش کرنے کے لیے دی گئی۔ یہ بات واضح کرنا اہم ہے کہ طارق بنوری کی طرف سے ٹی وی پروگرام میں بتایا گیا عدد یعنی چھ ارب روپے کی گرانٹ درست نہیں ہے۔ ای سی سی نے عدالتی فیصلے ، نہ کہ کسی ادارے کو پسندکرنے کی بنیاد پر، دوارب روپے کا ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ منظور کیا تھا۔ ایچ ای سی اپنے قیام سے ہی وفاقی حکومت کی طرف سے سرکاری جامعات کے لیے مختص فنڈزطے کردہ فامولے کے تحت تقسیم کرتا آیا ہے۔یونیورسٹی آف پشاور کے چند پینشنرز /ملازمین کی جانب سے پشاور ہائی کورٹ میں پینشن / تنخواہوں کی عدم ادائیگی سے متعلق دائر ایک درخواست کے جواب میں یونیورسٹی نے موقف اختیار کیا کہ یہ مسئلہ ایچ ای سی کی طرف سے دیے گئے ناکافی ریکرنگ فنڈز کے سبب کھڑا ہوا ۔ عدالت نے وفاقی وزیر تعلیم سمیت چیئرمین ایچ ای سی اور وفاقی و صوبائی سیکرٹریز برائے اعلٰی تعلیم و وزارت خزانہ کی ذاتی حاضری کی خواہش ظاہر کی۔عدالت میں حاضری پر وزارت اور ایچ ای سی کے نمائندگان نے وضاحت کی کہ ان جامعات کے 90فیصد مسائل کی وجہ وسائل کا ناقص استعمال اورملازمین کی تعداد میں تاریخی کثرت ہے۔ عدالت نے ہدایت کی کہ وزارت اور ایچ ای سی کے متعلقہ عہدہ داران سرکاری جامعات کے وائس چانسلرز کے ساتھ بیٹھ کر معاشی مسئلے کا قابل عمل حل پیش کریںاور ایک ماہ میں عدالت میں رپورٹ پیش کریں۔ عدالتی حکم پر عمل درآمد کرتے ہوئے 17مارچ 2021کو ایک آن لائن اجلاس کا انعقاد کیا گیاجس میں وزارت وفاقی تعلیم، وزارت خزانہ اور چنیدہ وائس چانسلرز نے شرکت کی اور قلیل مدتی، درمیانی اور طویل مدتی حل تجویز کیے گئے۔اس اجلاس کے بعد 19مارچ 2021کو وفاقی وزیر تعلیم اور چیئرمین ایچ ای سی کی گورنر خیبر پختونخواہ اور چار جامعات جن کی پینشن کی مد میں واجبات ایک ارب پچانوے کروڑ ہیں کے وائس چانسلرز کے ساتھ پشاور میں ایک اور مشاورت منعقد ہوئی۔ان جامعات میں یونیورسٹی آ ف پشاور، یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، یونیورسٹی آف ایگریکلچر اور اسلامیہ یونیورسٹی پشاور شامل ہیں۔ اجلاس کے دوران اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ مذکورہ جامعات اپنا اصلاحی منصوبہ ای سی سی کو پیش کریں گی جس پر عمل درآمد کے لیے امدادی پیکچ کی فراہمی کے ذریعے معاونت فراہم کی جائے گی۔ اسی طرح ایچ ای سی نے وزارت وفاقی تعلیم کو درخواست کی کہ خیبر پختونخواہ، سندھ اور بلوچستان میںمعاشی مسائل کی شکار 11جامعات کو سپلیمنٹری گرانٹ فراہم کی جائے۔ ای سی سی نے معاشی مشکلات سے دوچار جامعات کے لیے دو ارب روپے کی ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ کی منظوری دیتے ہوئے ہدایات دیں کہ ان فنڈز کو پینشن کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔یہ فنڈز خیبر پختونخواہ اور بلوچستان کی سب سے زیادہ معاشی مشکلات والی جامعات میں تقسیم کیے گئے اور وفاقی وزیر تعلیم کی صدارت میں منعقد کردہ ایک اجلاس جس میں وائس چانسلرز اور وزارت خزانہ کے نمائندگان نے شرکت کی میں ڈاٹا کے تجزیے کی بنیاد پرطے کردہ متفقہ رقم ہر ادارے کو دی گئی۔ ان جامعات میں تقسیم کی گئی رقم کی تفصیل درج ذیل ہے۔ یونیورسٹی آف پشاور کو 520ملین روپے، اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور کو 204ملین روپے، یونیورسٹی آف ایگریکلچر پشاور کو 284ملین روپے، یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی پشاور کو 292ملین روپے، یونیورسٹی آ ف بلوچستان کوئٹہ کو 350ملین روپے، بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اینڈ مینجمنٹ سائنسز کوئٹہ کو 300ملین روپے، اور بولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز کوئٹہ کو 50ملین روپے دیے گئے۔ مزیدیہ کہ طارق بنوری نیقبل ازیں بھی پریس کو غلط بیانات دیے کہ انہیں عہدے سے اس لیے ہٹایا گیا کہ انہوں نے کراچی یونیورسٹی کے کچھ تحقیقی مراکز جو ان کے دعوے کے مطابق ڈاکٹر عطاء الرحمان کی زیر سرپرستی کام کررہے ہیں کے اکائونٹس کا آڈٹ کرانے کی کوشش کی۔

