سابق وزیر داخلہ رحمن ملک علالت کے بعد انتقال کر گئے

جنوری میں کورونا کا شکار ہونے کے بعد سے ہسپتال میں زیر علاج تھے


اسلام آباد:پاکستان پیپلزپارٹی کے سینیئر رہنما اور سابق وزیر داخلہ سینیٹر رحمن ملک علالت کے باعث انتقال کر گئے ہیں۔ ان کی عمر 70 سال تھی اور وہ گزشتہ ماہ سے ہسپتال میں زیر علاج تھے۔رحمن ملک کے انتقال کی تصدیق کرتے ہوئے ان کے ترجمان ریاض علی طوری نے کہا کہ ‘دکھ، درد اور غم ناقابل بیان ہیں، آج میں ہمیشہ کے لیے ایک عظیم دوست اور مہربان سرپرست سے محروم ہو گیا ہوں’۔
رحمن ملک کو گزشتہ ماہ جنوری میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی جس کے باعث ان کے پھیپھڑے شدید متاثر ہوگئے تھے۔فروری کے اوائل میں انہیں طبیعت بگڑنے پر انہیں اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں وینٹیلیٹر پر منتقل کیا گیا تھا۔
رحمن ملک کے اہلِ خانہ نے بتایا تھا کہ کورونا وائرس کے سبب پھیپھڑوں کے متاثر ہونے کی وجہ سے انہیں سانس لینے میں دشواری کا سامنا تھا۔
سیاسی کیریئر
ایک سیاست دان کے طور پر ان کا طویل کیریئر تھا اور وہ 2008 سے 2013 تک وزیر داخلہ رہنے کے علاوہ کئی عہدوں پر فائز تھے۔انہوں نے 1973 میں جامعہ کراچی سے شماریات میں ماسٹر ڈگری حاصل کی اور 2012 میں اسی ادارے نے انہیں اعزازی پی ایچ ڈی کی ڈگری سے نوازا گیا۔
وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) میں ان کی خدمات کے صلے میں انہیں ستارہ شجاعت اور نشان امتیاز سے دیا گیا تھا۔
اظہارِ تعزیت
پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری نے رحمان ملک کے انتقال پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ رحمن ملک کی ملک کے لیے خدمات ناقابل فراموش ہیں، وہ ایک محنتی اور لائق وزیر داخلہ رہے تھے۔
وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سابق وزیر داخلہ و رہنما پیپلز پارٹی رحمن ملک کی رحلت کی خبر سن کر دکھ ہوا، خاندان کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا کہ حدیبیہ کیس میں ان کی سربراہی میں تفتیش ہوئی اگرچہ اس پر انصاف ابھی تک نہیں ہوا لیکن اس تفتیش نے کرپشن کے ایسے ماڈرن طریقے ظاہر کیے کہ لوگ حیران رہ گئے، خدا انہیں غریق رحمت کرے۔
سابق ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے ان کے انتقال پر گھرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ رحمن ملک کے انتقال کی افسوسناک خبر سن کر دلی صدمہ پہنچا ہے۔انہوں نے کہا کہ رحمن ملک اچھے انسان اور بہترین سیاستدان تھے، اب کا انتقال ملکی سیاست کے لیے بڑا نقصان ہے۔سلیم مانڈوی والا کا مزید کہنا تھا کہ رحمن ملک کے انتقال سے پیدا ہونے والا خلا کبھی پر نہیں ہو سکتا، ان کی پارٹی کے لیے خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال نے رحمن ملک کے انتقال پر اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ سابق وزیر داخلہ رحمن ملک کے انتقال پہ دلی صدمہ ہوا, اللہ تعالی ان کی مغفرت فرمائے اور ان کے اہل خانہ کو صبر جمیل عطا فرمائے۔
وزیر بلدیات سندھ ناصر حسین شاہ نے کہا کہ ہمارے دوست، بھائی، ساتھی اور ایک بہترین رہنما سینیٹر رحمن ملک کے انتقال کی خبر سن کر شدید صدمہ پہنچا ہے، پروردگار ان کے درجات بلند کرے اور خاندان کے افراد کو صبر عطا کرے۔