سوئس لیکس اسکینڈل، بزنس مین، سیاستدان اور افسران شامل

اسلام آباد :ایک شادی شادہ جوڑا ان 44 لوگوں میں شامل تھا جن پر کراچی اور گرد و نواح میں اسکیم چلانے کا الزام تھا۔ شوہر پلی بارگین چاہتا تھا لیکن اہلیہ ہچکچا رہی تھی۔
نیب کے مطابق، خاتون کے پاس ان غیر ملکی بینک اکائونٹس کے خفیہ کوڈ تھے۔ وہ سمجھتی تھی کہ میاں بیوی کی قربانی سے بچوں کی زندگی ان اکائونٹس میں رکھی دولت سے اچھی ہو جائے گی لیکن بعد میں خاتون نے بھی ہار مان لی۔
نیب فیصلے کے اس انجام پر بہت خوش تھا کیونکہ اعتراف کے نتیجے میں ہونے والی ریکوری کسی اور طریقے سے ممکن نہیں تھی۔ تاہم، اس جوڑے نے نیب کو بے وقوف بنا دیا۔ 2003 میں انہوں نے پلی بارگین قبول کرتے ہوئے 1.8 ملین ڈالرز ادا کیے جو ان کی جانب سے غیر ملکی بینکوں میں چھپائی گئی دولت کا 80 فیصد حصہ تھی۔ اس طرح دونوں کو آزادی مل گئی۔ لیکن اب کریڈٹ سوئیز کے لیک ہونے والے ڈیٹا سے معلوم ہوتا ہے کہ جوڑے نے اصل رقم کے حوالے سے جھوٹ بولا تھا۔ یہ اکائونٹ اسکیم کے عروج پر 1987 میں کھولا گیا تھا اور اس میں جون 2003 تک مبینہ طور پر 20 لاکھ سوئس فرانک تھے اور نیب کو بتائی گئی رقم مجموعی رقم کا محض 60 فیصد حصہ تھی۔ اس حوالے سے شوہر نے سوالوں کا جواب نہیں دیا۔
اس جوڑے کے علاوہ، کئی ایسے افراد ہیں جنہوں نے نیب تحقیقات کے دوران یا پھر اس کے بعد کریڈٹ سوئیز میں اکائونٹ کھولا۔ ایس یافراد میں پاکستان کا ایک ایسا بینکر بھی شامل ہے جو مشرق وسطی میں کام کرتا ہے اور اس کے سوئس اکائونٹ میں 700 ملین سوئس فرانک تھے۔ سابق سینیٹر سیف اللہ دوسرے امیر ترین پاکستانی اکائونٹ ہولڈر ہیں۔ 2009 میں ان کے اکائونٹ میں 105 ملین سوئس فرانک تھے یعنی نیب کی جانب سے بینک فراڈ کے الزام کے تحت ان کیخلاف ریفرنس دائر کرنے سے ایک سال قبل تک، ان کے2بیٹے اس کیس میں شریک ملزمان تھے۔
اکائونٹ 2008 میں نیب کی تحقیقات کے دوران کھولا گیا اور 2011 میں بند کیا گیا۔ نیب کو بظاہر اس اکائونٹ کا پتہ نہیں تھا۔ نیب کیس زیر التوا ہے اور اس کا فیملی پر شاید ہی کوئی اثر ہوا ہو، یہ فیملی بینک میں بڑی شیئر ہولڈر ہے اور اس بینک کے مالک ایک اہم وفاقی وزیر ہیںاگرچہ نیب کے اس معاملے پر ریفرنس کی قسمت کے فیصلے کا پتہ نہیں کیا ہوگا۔ ان کے بیٹے شوکت نے اکائونٹ کے حوالے سے لاعلمی کا اظہار کیا۔
سابق سینیٹر وقار کی فیملی کا بھی سوئس اکائونٹ سامنے آیا ہے۔ 2000 کی دہائی میں وہ اور ان کے والد اور بھائی سینیٹرز تھے۔ اس وقت انہوں نے سوئس اکائونٹ کھولا جس میں 2008 تک 9.8 ملین فرانک تھے۔ الیکشن کمیشن میں ان تینوں میں سے کسی نے بھی اثاثے ڈکلیئر نہیں کیے۔ اکائونٹ 2013 میں بند کر دیا گیا ،ایسی جائیدادیں سامنے آئیں جو رہن رکھی گئی تھیں تاہم پاکستان میں ٹیکس حکام کو ان جائیدادوں سے آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔ ایف بی آر نے جب ان پنجاب کے ایک وزیر اور ان کے بھائی بھی بینک میں اکائونٹ تھے۔ اکائونٹ مارچ 2011 میں کھولا گیا اور فروری 2012 میں بند کر دیا گیا۔ اس میں 2.76 سوئس فرانک تھے۔ نیب نے 2018 میں فیملی کیخلاف انکوائری شروع کی اور بتایا کہ ان کے اثاثوں میں اس وقت اربوں کا اضافہ ہوا جب ان کے بھائی پہلی مرتبہ وفاقی وزیر بنے تھے۔ اس انکوائری میں بتایا گیا تھا کہ 2011 سے 2018 کے درمیان فیملی کو ملنے والے غیر ملکی زر مبادلہ کی مالیت 708 ملین ڈالرز ہے ۔
اس بات کا کوئی اشارہ ہے اور نہ نیب نے غیر ملکی زر مبادلہ کے ذرائع کی شناخت کی۔ ایک اور انکوائری بھی ہے جو لندن میں جائیدادوں کی خریداری کے متعلق ہے۔ میاں کے بیٹوں کی ایف بی آر نے اسکروٹنی کی ہے، بیورو ان سے فنڈز کے ذرائع کا معلوم کرنا چاہتا تھا۔ ایف بی آر کی جانب سے طلب کیے جانے پر میاں نے خود کو اس معاہدے سے دور رکھا،ان کے بیٹوںکا کہنا ہے کہ سنگاپور میں قائم کمپنی نے دو کمپنیوں سے قرضہ لیا۔
ایف بی آر نے حکام کو خط لکھا جن میں سے صرف ایک نے جواب دیا اور کہا کہ جس کمپنی کا ذکر کیا گیا ہے اس نام کی کمپنی کا کوئی وجود نہیں ہے۔ اس صورتحال کی وجہ سے تمام معاملہ مشکوک ہوگیا۔ کریڈٹ سوئیز بینک کے نئے لیک ہونے والے ڈیٹا سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کمپنی کا میاں اور اہلیہ کے ساتھ جوائنٹ اکائونٹ ہے، اس جوڑے کے دو اکائونٹس تھے۔ 2012 تک مذکورہ کمپنی کے اکائونٹ میں 18.5 ملین فرانک تھے۔
فیملی کی جانب سے ایف بی آر کو فراہم کردہ معلومات کے مطابق کمپنی کو 2010 کے آخر میں 20 ملین ڈالرز کا قرضہ ملا تھا جبکہ اس اکائونٹ میں دو سال بعد اتنی ہی رقم کے قریب قریب ایک اور رقم جمع ہوئی تھی۔ یہ غیر واضح ہے کہ فنانسنگ اسی کمپنی کے ذریعے ہوئی تھی یا یہ محض ایک نام ہے۔لیکس میں فیملی کا بھی نام ہے،ان کے اہل خانہ کے انفرادی اور مشترکہ اکائونٹس سامنے آئے ہیں جو 2004 سے 2010 تک فعال رہے۔ یہ اس وقت کے فورا بعد کی بات ہے جب ان کا نیب کے ساتھ قرضہ کی سیٹلمنٹ کا معاہدہ طے پایا تھا۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ان اکائونٹس میں 60 ملین سوئس فرانک تھے۔ خاندان کا چھوٹا بینک تھا،فیملی کے دو اکائونٹس تھے۔ پہلا 2001 میں اس وقت کھولا گیا جب قرضہ ڈیفالٹ کیس میں نیب اس فیملی کے پیچھے لگا ہوا تھا۔ دوسرا اکائونٹ 2010 سے 2015 تک فعال رہا۔

بشکریہ جنگ