احساس پروگرام کے سروے میں غلط اندراج سے ہزاروں مستحق امداد سے محروم کر دیئے گئے

نجی کمپنی کو سروے کاکام دیا گیا جس نے سرکاری اساتذہ سے کام کرایا اور غلط اندراج کی وجہ سے بیوائوں اور معذوروں کو محروم کر دیا گیا

سروے میں لوگوں کو نمبر کس طرح دیئے اور اس کو چیلنج کرنے کا کوئی فورم نہیں بنایا گیا مستحق لوگوں کی وزیراعظم سے نوٹس لینے کی اپیل

اسلام آباد(قاضی بلال)احساس پروگرام کے سروے کے نتائج کو غلط طورپر پیش کرنے کی وجہ سے صرف جڑوا ں شہروں میں سینکڑوں لوگوں کو نااہل قرار دیدیا گیاہے ۔احساس پروگرام کا سروے کرنے والی نجی کمپنی کے ملازمین سے ڈیوائسز واپس لی گئیں جبکہ سروے میں مطلوبہ معیار پر پورے نہ اترنے والوں کو کوئی مناسب جواب دینے والا نہیں ہے ۔ راولپنڈی کے مختلف علاقوں میں بیوائوں اور معذوروں افراد کا سروے چھ ماہ قبل ایک سرکاری سکول ٹیچرنے کیا اور اپنی رپورٹ احساس پروگرام کے افسران کو بھیج دیا ۔ بعد میں معلوم ہوا کہ مذکورہ سکول ٹیچر نے بیوائوں اور معذور افراد کا اندراج ہی غلط کیا اور ان کی مالی حالت کومستحکم ظاہر کیا جس کی وجہ سے ان کے نمبر زیادہ آئے ۔ بیوائوں کے بارے میں بھی غلط اندراج کیا گیا اس حوالے سے جب متعلقہ خواتین ان مذکورہ افسر سے رابطہ کیا تو اس نے کہا کہ میں نے تورپورٹ دیدی تھی اور فیصلہ احساس پروگرام کے افسروں نے کیا اپنی غیر ذمہ داری اور غلط کام کا ملبہ احساس پروگرام کے ان افسروں پر ڈالا دیا جو اپنے دفاتر میں بیٹھے رہتے ہیں ۔ ذرائع کے مطابق ملک بھر میں ہزاروں قسم کی ایسی شکایات احساس پروگرام کے ہیڈ آفس میں موصول ہوئی ہیں مگر اس پر کوئی کام نہیں کیا جارہا ہے ۔ ذرائع کے مطابق مجموعی طور پر سو نمبر رکھے گئے تھے جن کے نمبر 57نمبر ا ئے ان کو نااہل قرار دیا گیا اور صرف ستائیس نمبر والوں کو اہل قرار دیا گیا تھا اب یہ نمبر کیسے دیئے ان کو چیلنج یا اس کے خلاف اپیل کا کوئی فورم نہیں ہے ۔ اس وقت بھی ہزاروں مستحق افراد تاحال احساس پروگرام سے محروم ہیں ۔ راولپنڈی میں اگر یہ صورتحال ہے تو پھر دیگر پسماندہ علاقوں میں کیا صورتحال ہوگی ۔اس حوالے سے احساس پروگرام کے افسران نے کسی قسم کا کوئی ردعمل دینے سے معذوری کا اظہار کیا ہے۔