وزیراعظم نے عوام کو خوش تو کر دیا ہے لیکن اس پر روشنی نہیں ڈالی کہ دودھ اور شہد کی یہ نہریں وہ بہائیں گے کیسے
آئی ایم ایف اور اس کی شرائط کو بالکل بھی نظر انداز کر دیا گیا
تین سال سے مجھے بھی انصاف نہیں ملا سادگی میںاپنی ناکامی کا اعتراف بھی کر گئے

اسلام آباد(تجزیہ :محمد رضوان ملک ) پیر کی شام قوم سے اپنے خطاب میں وزیراعظم عمران خان گزشتہ ساڑھے تین سالوں کے دوران پہلی بار ایک عوامی وزیراعظم کے روپ میں نظر آئے۔جہاں سب لوگ یہ توقع کر رہے تھے کہ اب پٹرول مزید مہنگا ہوگا انہوں نے یوٹرن لیتے ہوئے پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں اضافے کی بجائے دس روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کر دیا اور ساتھ ہی یہ خوشخبری بھی سنائی کے بجلی کی قیمت میں بھی پانچ روپے فی یونٹ کمی کی جارہی ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ آئندہ بجٹ تک قیمتوں میں کوئی اضافہ بھی نہیں کیا جائے گا۔ اسی طرح ہر گریجوایٹ کو تیس ہزار ماہانہ وظیفہ دیا جائے گا،احساس پروگرام میں امداد بارہ سے بڑھا کر چودہ ہزار ماہانہ کر دی گئی ہے۔ پانچ سال تک صنعتوں پر کوئی ٹیکس نہیں لگایا جائے گا۔ ساڑھے تین سال سے عوام کو نہ گھبرانے اور ملک و قوم کے لئے قربانی دینے کے درشن دینے والے وزیراعظم نے پیر کی شام اپنے ماضی کی حکومتی روایات اور اپنے مزاج کے بالکل الٹ خطاب کر کے عوام کے دل جیت لئے یا انہیں جیتنے کی کوشش کی ہے۔ دکھوں اور مصیبتوں کی ماری عوام کو رات دیر گئے تھے وزیراعظم کے ان عوامی اعلانات کا یقین ہی نہیں آرہا تھے۔لوگ حیرت اور خوشی کی ملی جلی کیفیات میں ایک دوسرے سے یہ پوچھتے رہے کہ کیا واقعی ایسا ہوا ہے۔
وزیراعظم کے ان عوامی اعلانات پر اگر کوئی یقین کرنے کو تیار نہیں تو اس کے پیچھے بھی وجہ موجود ہے کیونکہ ملک چلانے کے لئے آپ کو آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا تھا اور حکومتی وزراء عوام کو اس کے لئے تیار کرتے رہے کہ ہمیں آئی ایم ایف کی شرائط ماننا پڑیں گی ۔
اب راتوں رات اچانک ایسا کیا ہوا ہے کہ آپ نے اپنے سابقہ فیصلوں سے یوٹرن لے لیا ہے اور عوام کی خوشی کی خاطر آئی ایم ایف کی بھی پرواہ نہیں کیاور اس کی شرائط کو مکمل نظر انداز کر دیا گیا ہے ۔
وزیراعظم نے اپنے خطاب کی دوران خوشی ہی خوشی دی لیکن یہ نہیں بتایا کہ اچانک یہ تبدیلی کیسے آئی اور وہ دودھ اور شہد کی یہ نہریں بہائیں گے کیسے ۔آپ کو عوام کو بتانا ہوگا کہ اچانک یہ تبدیلی آئی کیسے اور مستقبل پر اس کے کیا اثرات ہوں گے ۔
کہیں ایسا تو نہیں کہ تحریک انصاف کی حکومت کو اندازہ ہو گیا ہے کہ اب عوام کے پاس جانے کا وقت آگیا ہے اس لئے ضروری ہے کہ ایسے عوامی فیصلے کئے جائیں تاکہ لوگ خوش ہو جائیں اور پی ٹی آئی رہنماء انہیں بتاسکیں کہ ہم نے آپ کا سب سے بڑا مہنگائی کا مسئلہ حل کر دیا ہے۔ جب آپ کو کسی سے کوئی مطلب ہوتا ہے کہ توآپ ایسے کام کرتے ہیں کہ عوام خوش ہو جائے اور جب کل ان کے پاس جانا پڑے تو سینہ تان کر کہا جاسکے کہ دیکھ لو ہم نے مہنگائی کے جن کو بوتل میں بند کر دیا ہے۔
ایسا آپ اسی وقت کرتے ہیں جب آپ کو اندازہ ہو جائے کہ اب جلد عوام کے پاس جانے کا وقت آگیا ہے۔ اس لئے عوام کو خوش کر دیا جائے


