
وزیر اعظم کی جانب سے پٹرلیم مصنوعات میں 10روپے اور بجلی میں 5روپے فی یونٹ تک کی کمی اور چار ماہ تک یہی قیمتیں برقرار رہنے کے ا علان کے ریلیف نے غریب عوام کوتبتی دھوپ میں پانی کا قطرہ اور امید کی کرن دیکھائی ہے مگر ذاتی مفاد پسند لوگ ا خصوصا تاجر طبقہ اس حد تک سنگ دل ہوچکاہے کہ حکومتی ریلیف سے قبل پہلی والی کم قیمتوں پر اشیا فروخت کرنے پر کسی طور راضی نہیں ،تاجر طبقہ منافع کسی طور کم کرنے کو تیارنہیں ٹرانسپورٹ طبقہ کرائے کم کرنے کو تیار نہیں ایسے میں صرف نام کی مسلمانیت باقی راہ جاتی ہے پھر کہا جاتا ہے کہ اللہ اپنے بندوں کی دعائیں نہیں سنتا ، احکامات شرعیعہ کے خلاف جب اعمال اور کردار ایسا ہوگا تو پھر دعا قبول ہونے کی امیدکیونکر۔اس بات میں کوئی شک نہیں کہ جتنی تیزی سے مہنگائی موجودہ دور حکومت میں ہوئی ہے کسی اور دور میں نہیں ہوئی ہے مہنگائی کے معاملے پرہر کوئی پریشان نظر آیا حکومتی لوگوں نے بھی بعض چیزوں پر سخت تحفظات کا اظہار کیا مگر کر کچھ نہ کر سکے ، مہنگائی کے بے قابو ہونے میں جہاں عالمی منڈیوں اور معیشتوں کے اتار چڑھائو کومورد الزام ٹھہریا جارہا ہے وہاں حکومت کی ناقص پالسیوں اور ناقص حکمت عملی کی بدولت انرجی، کھاد،تیل ، آٹا چینی بحران پیدا ہوئے، اس بات میں کوئی شک نہیں کہ حکومت کے کچھ اچھے اقدامات جن کے ثمرات عام عوام تک پہنچنے تھے بروقت نہ پہنچنے پر غیر موثر ہوکر رہ گئے جبکہ کچھ مفاد پرست عناصر حکومت کو ہرطرف سے گھیر کر بے بس کیے رہے اور حکومت میں آنے سے پہلے کے پی ٹی آئی کے د عوے شرمندہ تعبیر نہ ہوسکے جس کے باعث پی ٹی آئی کی ساکھ انتہائی متاثر ہوئی خراب سیاسی ساکھ کو خود پی ٹی آئی والے بھی محسوس کرتے ہیں اس کے باوجود حکومت سے متاثر طبقہ کہتا ہے کہ پٹرول اور بجلی قیمتو ں میں کمی ہواکا تازہ جھونکا ہے ماضی کی حکومتوں نے کبھی بھی غریب کادرد محسوس نہیں کیا ہے،پی ٹی آئی حکومت عوام کو ریلیف دینے کیلئے ہر ممکن اقدام کررہی ہے ان کا کہنا ہے کہ قوم سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے عوامی امنگوں کی ترجمانی کی،پٹرول اور بجلی کی قیمتیں کم کر کے وزیراعظم نے عوام کو بڑا ریلیف فراہم کیا ہے۔وزیراعظم کی تقریر عوام کے دل کی آواز تھی،پٹرول 10روپے لیٹر اور بجلی5روپے فی یونٹ سستی کرنا ایسے تاریخی اقدامات ہیں جن کیلئے وزیراعظم تعریف کے مستحق ہیں موجودہ حکومت کا کسی بھی سیاسی جماعت سے کوئی مقابلہ نہیں اگر کوئی مقابلہ ہے تووہ مہنگائی سے ہے اور وزیراعظم عمران خان بہت جلد عوام کو اس مہنگائی میںمزید بڑے ریلیف کی خوشخبری سنائیں گے، جولوگ موجودہ حکومت پر تنقید کر رہے ہیں وہ خود نالائق ہیں، جنہوں نے باری باری 70سال اس ملک پر حکومت کی لیکن ملکی معیشت کو اپنے پاوں پر کھڑا کرنے کی بجائے ملک کو بیرونی قرضوں میں ڈبو دیا خراب معیشت سمیت دیگر مسائل موجودہ حکومت کو ورثے میں ملے ہیں جب پی ٹی آئی کی حکومت آئی تو ملک دیوالیہ ہونے کے قریب تھا لیکن وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں موجودہ حکومت نے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایااور ملک کی معیشت کو مستحکم کیا۔جبکہ حکومت مخالف عناصر کا موقف ہے کہ سرکاری عناصرآئی ایم ایف سے بھی جھوٹ بول کر آئے ہیں، آئندہ آئی ایم ایف سے مزاکرات کے موقع پر یہ اقتدار میں ہوںگے ہی نہیں، فیٹف اور آئی ایم ایف کے معاملات آئندہ آنے والی حکومت بھگتے گی پنجاب میں ڈمی حکومت اس وقت موجود ہے عدم اعتماد متفقہ طور کامیاب ہو گی،جو عدم اعتماد کی تحریک کو نقصان پہنچائے گاعوام اسے معاف نہیں کرے گی عوام کو بتایا جائے کہ کرنٹ اکاونٹ خسارہ کیسے یہاں تک پہنچا اسکا سچ بھی بتا یاجائے ماضی کی حکومتیں جہاں اسٹاک ایکسچینج چھوڑ کر گئی تھی آج حالات ان سے بھی خراب ہیںپیکا آرڈیننس پر بھی جھوٹ پر جھوٹ بولا جاتا ہے پیکا پیپلزپارٹی کے دور میں تشکیل پایا تھا تمام پارٹیوں کی مرضی سے یہ قانون پاس کیا گیا اس قانون میں آئین و قانون کی خلاف ورزی نہیں تھی وزیر اعظم کی شخصیت کو بچانے کے لئے یہ آرڈیننس لایا گیا ہے کالے قوانین حق آواز دبانے کے لئے بنائے جاتے ہیں کون فیصلہ کرے گا فیک نیوز کیا ہے؟احتساب کا دعوی کرنے والے کرپشن زدہ لوگ حکومت کا حصہ ہیںآئندہ آئی ایم ایف کے پاس یہ نہیں جائیں گے کیونکہ یہ ہوں گے ہی نہیں۔ ملک میں مہنگائی کے ساتھ ساتھ سیاسی درجہ حرارت ”سیاسی مارچوں” کے آغاز سے تیز ہوگیا ہے الیکشن میں کامیابی اور آئندہ کے حصول اقتدار کے لیے حکومت اور اپوزیشن کے جوڑ شروع ہیں ملک میں موجودہ سیاسی سرگرمیاں تیز ہونے اور تحریک عدم اعتماد کے اعلان کے بعد وزیراعظم عمران خان بھی متحرک ہو گئے، سب سے پہلے چودھری برادران سے ملنے ان کے گھر پہنچ گئے، چودھری شجاعت حسین کی خیریت دریافت کی اور سیاسی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
s.khan69s.khan@gmail.com
محمدصلاح الدین خان


