طب کونسل پانچ سال گزرنے کے باوجود طلبہ کو ڈپلومہ و ڈگریاں جاری کرنے میں مکمل طور پر ناکام

لاکھوں روپے طلبہ سے فیسیں لینے کے باوجود کونسل کے دفتر کے چکر لگوائے جاتے ہیں رجسٹرا ر کے خلاف طلبہ کے شکایات کے انبار

ہومیو ڈاکٹر اسماعیل کو طب کونسل کا رجسٹرار کس قانون کے تحت لگایاگیا صدر حکیم احمد سلیمی کا جواب دینے سے انکار

اسلام آباد(قاضی بلال)نیشنل کونسل فار طب میں پانچ سال گزرنے کے باوجود طلباء کو ڈگریاں اور ڈپلومہ جاری نہ کیا جا سکا ۔ لاکھوں میں روپے فیس کی مد میں وصو ل کرنے کے باوجود طلبہ طب کونسل کے دھکے کھانے پر مجبور ہیں ۔ طب کونسل میں عملہ نہ ہونے کے برابر ہے ۔جو کام کر رہا ہے وہ ملک کے دوردراز علاقوں سے آنے والے طلبہ سے سیدھے منہ بات نہیں کرتا۔قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کئی سالوں سے ایک ہومیو ڈاکٹر اسماعیل کو رجسٹرار کونسل تعینات کیا گیا ہے جو طیبہ کالجز کی مسائل حل کرنے کی بجائے اس میں اضافہ کرتے رہتے ہیں طلبہ کو ڈپلومہ اور ڈگری ملنے کے سوال پر رجسٹرا ر ہومیو ڈاکٹر اسماعیل نے کہاکہ ایسا نہیں ہے مجھے اس کے ثبوت دیں جب ان کے پاس طلبہ کی شکایات بھیجیں تو کہا کہ میں چھٹی پر پیر کو بتائو ں گا پیر روز فون ہی اٹینڈ نہیں کیا اور وٹس اپ بھی آف کئے رکھا ۔موصوف کا دفتر پر اتنا کنٹرول ہے کہ سارے دفتر کا نظام اپنے ہاتھ میں لیا ہواہے کسی بھی افسر کو کام نہیں کرنے دیتے ہیں ۔ایک کاغذ بھی ان کی مرضی کے بغیر نہیں ہلتا ہے کونسل کے صدر کو بھی رام کیا ہوا ہے ۔ صدر کونسل سے ان مسائل کے حوالے سے رابطہ کیا گیا تو حکیم احمد سلیمی نے واٹس اپ پر سوال دیکھنے کے بعد کوئی جواب نہ دیا ان سے پوچھا گیا کہ ہومیو ڈاکٹر رجسٹرار کس قانون کے تحت تعینات ہیں اور ڈگریاں کیوں نہیں مل رہی ہیں تو موصوف نے کوئی جواب نہ دیا ۔ذرائع کے مطابق کونسل میں کوئی بھی طیبہ کالج کے کام کے سلسلے میں آئے تو اس سے تحائف لینا اور ان سے کھانے کھانا معمول کی بات ہے ۔ مختلف کورسز کیلئے اجازت نامہ تک نہیں دیا جاتا ہے انسپکسن کے نام پر بھی کالجز کو تنگ کرنا بھی ضروری سمجھا جاتا ہے۔