چین اور یہاں کی جن چیزوں سے محبت ہوگئی ہے ان میں چین کی کامیابیاں اور اشتراک اہم ہیں
لوگ پیار سے مجھے ‘با تھئیے’ کہتے ہیں جس کا مطلب ہے ایک بہت آہنی بھائی، چین میرے دل میں میرا دوسرا گھر بن گیا ہےجنید اقبال

چھانگ شا (شِنہوا) پاکستان کے صوبہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے 26 سالہ طالب علم جنید اقبال اپنے "طبی خواب” کو پورا کرنے کے لیے 2014 میں ژے جیانگ چائنیز میڈیسن یونیورسٹی میں طب کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے چین آئے تھے۔
گریجویشن کے بعد انہوں نے چین کے صوبہ ہونان کے شہر چھانگ شا میں سینٹرل ساتھ یونیورسٹی کے سیکنڈ شیانگ یا اسپتال میں داخلہ لیا تاکہ انٹرنل میڈیسن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کرسکیں۔
انہوں نے کہا کہ چین میں ان کے مطالعاتی تجربے نے نہ صرف انہیں دوستی اور علم حاصل کرنے کے قابل بنایا بلکہ بتدریج زندگی کی سمت کا تعین بھی کیا ۔انہوں نے کہا کہ وہ گریجویشن کے بعد پی ایچ ڈی کرنے اور مستقبل میں مزید لوگوں کی مدد کے لیے اعلی تحقیق کا ارادہ رکھتے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ انہیں چین سے محبت ہوگئی اور بہت سی چیزوں سے متاثر ہوئے۔ چین کی کامیابیاں اور اشتراک ان میں سے ایک ہیں۔
اقبال نے کہا کہ جب نوول کرونا وائرس کا آغازہوا تو میں نے دیکھا کہ کس طرح چینی عوام نے متحد ہو کر بیماری سے مقابلہ کرنے کے لئے ہاتھ سے ہاتھ ملایا ،” ان کے ارد گرد کے لوگوں نے ان کا اچھا خیال رکھا جس کی وجہ سے انہیں چین اور پاکستان کے درمیان گہری دوستی کا احساس ہوا۔ لوگ مجھے ‘با تھئیے’ کہتے ہیں جس کا مطلب ہے ایک بہت آہنی بھائی، اور چین میرے دل میں میرا دوسرا گھر بن گیا ہے۔اقبال کی چین کے حالات حاضرہ پر پوری طرح توجہ ہے۔ان کی رائے میں حالیہ دو اجلاس ، جو13 ویں قومی عوامی کا نگر یس اور چینی عوامی سیاسی مشاورتی کانفرنس کی 13 ویں قومی کمیٹی کا پانچواں اجلاس وہ چینی خصوصیات کے ساتھ ایک جمہوری عمل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر سے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ارکان مشترکہ تشویش بارے مسائل پر تبادلہ خیال کرکے ان کا حل تلاش کر یں گے ۔
رواں سال دو اجلاسوں کے دوران اقبال کو چینی عوامی سیاسی مشاورتی کانفرنس کے رکن کے ساتھ ویڈیو لنک کے ذریعے سوالات پوچھنے کا موقع ملا۔ انہوں نے احتیاط سے دو سوالات تیار کئے۔
اول یہ کہ قومی حکمت عملی کے طور پر "صحت مند چین” کے فروغ کے بعد چین اپنے عوام کی صحت کا جامع تحفظ کیسے کرے گا؟دوسرا یہ کہ چین نے نوول کرونا وائرس کے پھیلا پر تیزی سے کیسے قابو پایا ؟
صوبہ ہونان کے شہر چھن ژو میں فرسٹ پیپلز اسپتال کے ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر اور چینی عوامی سیاسی مشاورتی کانفرنس کے رکن شو ژی چھانگ نے کہا کہ چین کی نچلی سطح پر طبی خدمات بارے عام پریکٹیشنرز کی تعمیر کو مضبوط بنا کر، نچلی سطح پر طبی اداروں کو بہتر بنا نا شا مل ہے،اس کے علاوہ درجہ بندی کی تشخیص اور علاج کے نظام کو نافذ کرکے اور روایتی چینی ادویات اور مغربی ادویات پر یکساں زور دے کر لوگوں کی صحت کے تحفظ کے لیے کوشاں ہیں۔
شو نے کہا کہ چین "متحرک صفر نوول کرونا وائرس نقطہ نظر” کی بدولت اس وبا پر تیزی سے قابو پانے میں کامیاب رہا جس نے اس وبا کے ماخذ کو تیزی کے ساتھ روکا ، منتقلی کا راستہ کاٹ دیا اور کمزور گروہوں کی حفاظت کی اور اس طرح اس وبا کا پھیلا موثر طریقے سے روک دیا گیا۔
اقبال نے جواب ملنے کے بعد کہا کہ میں مستقبل میں چین میں شعبہ طب کی تیزی سے ترقی کو محسوس کرسکتا ہوں، جس سے طب کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے چین کے انتخاب بارے میرے اعتماد کو تقویت ملتی ہے۔
سینٹرل ساتھ یونیورسٹی میں بہت سے پاکستانی طلبا دو سیشنز پر نگاہ رکھے ہوئے ہیں اور اکثر اپنی روزمرہ زندگی میں چین کی پالیسیوں بارے بات کرتے ہیں۔
سینٹرل ساتھ یونیورسٹی کے اسکول آف سول انجینئرنگ میں پی ایچ ڈی کے طالب علم محمد نعیم کو چین کی "دوہری کمی” کی پالیسی پر نگاہ رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ میرے بہت سے چینی دوستوں کا خیال ہے کہ بچوں کی پرورش مشکل کام ہے اور وہ اپنے بچوں کی تعلیم پر بہت زیادہ رقم خرچ کرتے ہیں۔ نعیم نے کہا کہ پالیسی اس مسئلے کے حل کا ایک اچھا طریقہ ہے۔ میں اس طرح کی مزید اچھی پالیسیوں کا منتظر ہوں تاکہ لوگوں پر بچوں کی پرورش کا زیادہ دبائو نہ پڑے۔



