خواتین  کے بال کاٹنے کاسلسلہ  ، اہلیان مقبوضہ کشمیر سراپاء احتجاج  ،  بھارتی فورسز سے جھڑ پیں ہوئیں۔

ثروت کیانی
سری نگر// نامعلوم افراد کی جانب سے خواتین کے سروں کے بال کاٹے جانے کے خلاف سوپور اور پانپور میں مکمل ہڑتال رہی جبکہ میسومہ ، حبہ کدل ، بارہمولہ ،اونتی پورہ اور دیگر مقامات پر لوگوں نے سڑکوں پر نکل کر احتجاج کیا۔۔۔۔میسومہ میں اس وقت تشدد بھڑک اٹھا جب مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے پولیس نے آنسوگیس کی شیلنگ کے ساتھ ساتھ پیلٹ گنوں کا استعمال بھی کیا۔۔۔۔اس کے بعد لال چوک اور سول لائنز کے بازاروں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور دکانیں آناً فاناً بند ہوگئیں۔۔۔۔اس دوران پیلٹ گن کا فائر لگنے سے ایک فوٹو جرنلسٹ زخمی ہو گیا۔

اسلامک کالج سرینگر کے طلباء نے نا معلوم افراد کی جانب سے خواتین کے سروں کے بال کاٹے جانے کے خلاف بطور احتجاج پیر کو کلاسوں کا بائیکاٹ کیا۔۔۔۔انہوں نے مقبوضہ کشمیر کی انتظامیہ ، پولیس ، فوج اور بھارت نواز سیاسی جماعتوں کے خلاف نعرہ بازی کرتے ہوئے فوج اور دیگر ایجنسیوں کو ان واقعات کا ذمہ دار قرار دیا۔۔۔۔طلباء نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھے رکھے تھے جن پر ان واقعات کے خلاف احتجاجی نعرے درج تھے۔۔۔۔اس دوران پولیس اور طلباء کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔

شمالی مقبوضہ کشمیر کے قصبہ سوپورمیں نامعلوم افراد کی جانب سے ایک معمر خاتون کے سر کے بال کاٹے جانے کے خلاف لوگوں نے احتجاجی مظاہرے کئے۔۔۔۔۔مظاہرین نے جلوس نکالنے کی کوشش بھی کی تاہم پولیس نے ان کی کوشش کو ناکام بنا دیا۔۔۔۔اس موقع پرمظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔۔۔۔قصبہ میں ہڑتال کی گئی۔۔۔۔دکانیں بند رہیں جبکہ سڑکوں سے ٹریفک بھی غائب رہی۔۔۔۔ بعد ازاں پولیس اور سول انتظا میہ کی جانب سے اس واقعے کی تحقیقات کئے جانے کی یقین دہانی کے بعد قصبہ میں معمولات زندگی بحال ہوئے۔

پانپورہ میں نامعلوم افراد کی جانب سے خواتین کے سروں کے بال کاٹے جانے کے خلاف مکمل ہڑتال رہی جس کے دوران دکانیں اور کاروباری ادارے بند رہے۔۔۔۔ اس دوران اونتی پورہ میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی اور انہوں نے سرینگر جموں شاہراہ پر دھرنا دیا۔۔۔۔دھرنے کی وجہ سے شاہراہ پر سینکڑوں گاڑیاں پھنس گئیں۔۔۔۔دھرنے کی اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچی اور انہوں نے مظاہرین کو راستہ کھولنے کو کہا تاہم مظاہرین بضد رہے جس کے بعد پولیس نے لوگوں کو منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس کے سینکڑوں گولے داغے۔۔۔۔اس کے بعد وہاں پر افرا تفری مچ گئی اور شاہراہ پر فورسز کی بھاری نفری تعینات کرکے ٹریفک کی نقل وحر کت بحال کردی گئی۔

شیری بارہمولہ میں نامعلوم افراد نے ایک گھر کے صحن میں گھس کر ایک لڑکی کے سر کے بال کاٹے۔۔۔۔اس واقعے کے خلاف لوگوں نے احتجاج کیا اور بھارتی فورسز پر خواتین کے بال کاٹنے والوں کو بچانے کا الزام عائد کیا۔۔۔۔ اس دوران خواتین کی ایک بڑی تعداد بھی سڑکوں پہ نکل آئی۔۔۔۔خواتین نے دھرنا دے کر بھارت کے خلاف اور اسلام و آزادی کے حق میں نعرے لگائے۔۔۔۔احتجاج کے باعث یہاں پر بھی ٹریفک جام ہوا اور دکانیں فوراً بند کر دی گئیں۔

پلوامہ کے علاقے نکس میں بھی نامعلوم افراد نے ایک خاتون کے سر کے بال کاٹ دئیے۔۔۔۔اس واقعہ خلاف لوگوں نے احتجاجی جلوس نکالا اور نعرے بازی کی۔۔۔۔ڈانگر پورہ پلوامہ بھی لوگوں نے ایک خاتون کے سر کے بال کاٹے جانے کے خلاف احتجاج کیا۔۔۔۔ احتجاج میں زیادہ تر خواتین شامل تھیں جو خواتین کے سروں کے بال کاٹے جانے کے واقعات میں ملوث افراد کی نشاندہی کرکے انہیں فوری طور کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کر رہی تھیں۔۔۔۔مظاہرین نے بھارت کے خلاف اور اسلام و آزادی کے حق میں نعرے بھی لگائے۔