تحریک عدم اعتماد اور پی ٹی آئی کے الیکٹیبلز: اب تک سامنے آنے والے پاکستان تحریکِ انصاف کے ناراض ارکان اسمبلی کون ہیں؟

احمد حسن ڈیہڑملک کی تمام بڑی جماعتوں میں رہے ہیں، عملی سیاست کا آغاز مشرف کے دور میں یونین کونسل کے ناظم کے طور پر کیا،2008 ء میں پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر رکن پنجاب اسمبلی بنے 2013 ء میں مسلم لیگ ن میں چلے گئے اور 2018 ء میں تحریک انصاف کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن بنے
سید باسط سلطان بخاریکی بھی یہ تیسری پارٹی ہے 2002 کے انتخابات میں وہ ق لیگ کی ٹکٹ پر ایم این اے منتخب ہوئے،2013 کے الیکشن میں مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر ایم این اے بنے اور 2018 ء میں پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر ایم این اے بنے۔ان کے بڑے بھائی ہارون سلطان بخاری 2018 ء میںمسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر پنجاب اسمبلی کا انتخاب لڑے اور ایک موقع پر شہباز شریف کی موجودگی میں انہوں نے کہا تھا کہ شہباز شریف میرے باپ کی جگہ ہیں اور باپ تبدیل نہیں کیا جاسکتا
رانا قاسم نون ملتان سے تعلق رکھنے والے رانا قاسم نون بھی 2018 کے عام انتخابات سے قبل مسلم لیگ ن کے منحرف رکن تھے،2018 ء میں پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر ایم این اے منتخب ہوئے
نواب شیر وسیر2008 ء میں پیپلز پارٹی کے ایم این اے تھے ، 2018 ء میں پی ٹی آئی میں شامل ہوئے
ڈاکٹر رمیش کمارنے سات اپریل 2018 کومسلم لیگ ن کو چھوڑ کر پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کی
راجہ ریاض 1993ء میں پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر فیصل آباد سے رکن پنجاب اسمبلی بنے مئی 2016 ء میں تحریک انصاف میں آگئے
نور عالم خان بھی پیپلز پارٹی چھوڑ کر پی ٹی آئی میں آئے


اسلام آباد(خصوصی رپورٹ) 16 مارچ یعنی بدھ کے دِن کی بات ہے جب وزیرِ اعظم عمران خان نے سوات میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کے سندھ ہائوس میں نوٹوں سے ضمیر خریدے جا رہے ہیں۔ وزیراعظم کے اس بیان سے قبل بعض وفاقی وزرا اور مشیر ان نوعیت کے بیانات دے چکے تھے۔
وزیراعظم کے خطاب کے اگلے ہی روز یعنی 17 مارچ کو ٹی وی سکرینوں پر سندھ ہاس سے بعض سینیئر اینکرز نے ناراض ارکان کے انٹرویو کرنا شروع کر دیے۔ ان ارکان نے دعوی کیا کہ وہ اپنے ضمیر کی آواز پر تحریک عدم اعتماد میں ووٹ دیں گے۔یہاں سے وزیرِ اعظم کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کے معاملے نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا۔
یہ ناراض ارکانِ اسمبلی کون ہیں، کِن حلقوں سے منتخب ہو کر آئے؟ 2018 کے انتخابات میں اِن کی چوائس پاکستان تحریکِ انصاف کیوں تھی؟ اور اب یہ اپنی پارٹی سے نالاں کیوں ہیں؟ آئیے اِن سوالوں کے ساتھ ساتھ ان ارکان کے سیاسی پروفائل پر مختصر نظر ڈالتے ہیں۔
احمد حسن ڈیہڑ
ملک کی تمام بڑی جماعتوں میں رہے ہیں، عملی سیاست کا آغاز مشرف کے دور میں یونین کونسل کے ناظم کے طور پر کیا،2008 ء میں پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر رکن پنجاب اسمبلی بنے 2013 ء میں مسلم لیگ ن میں چلے گئے اور 2018 ء میں تحریک انصاف کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن بنے

احمد حسن ڈیہڑ سنہ 2008 میں ملتان کے حلقہ پی پی 200 سے پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑے اور ایم پی اے منتخب ہوئے تھے۔ یہ اِن کا پہلا الیکشن تھا۔اِن کی سیاست کا آغاز مشرف دور میں یونین کونسل کے ناظم کے طور پر ہوا تھا۔ اِنھوں نے بعد میں پاکستان پیپلز پارٹی کو جوائن کر لیا۔ یہ جس حلقے سے تعلق رکھتے ہیں، وہ سید یوسف رضا گیلانی کا آبائی حلقہ ہے۔
ملتان سے تعلق رکھنے والے صحافی و مصنف شاکر حسین شاکر کہتے ہیں ملتان میں ایک جلسہ تھا، میں جلسہ کی نظامت کر رہا تھا۔ اس وقت کے وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی وہاں موجود تھے۔وہاں احمد حسن ڈیہڑ نے اپنے حلقہ میں ترقیاتی کام نہ ہونے کا شکوہ کیا۔ یوسف رضا گیلانی حیران ہوئے اور ہنستے رہے۔’
شاکر حسین شاکر کے مطابق گذشتہ برس اکتوبر میں جب (چیئرمین پیپلز پارٹی) بلاول بھٹو زرداری نے ملتان کا دورہ کیا تو حیدر عباس گردیزی کی فاتحہ کے لیے ان کے گھر گئے، جہاں مرحوم حیدر عباس گردیزی کی بیٹیوں نے ایک تصویر پر آٹو گراف لینا چاہا۔
اس تصویر میں یوسف رضا گیلانی کے ایک طرف عامر ڈوگر تھے جبکہ دوسری طرف احمد حسن ڈیہڑ تھے۔ بلاول بھٹو زرداری نے سید یوسف رضا گیلانی سے کہا کہ آپ کے یہ دوست پیپلز پارٹی کو چھوڑ کر پی ٹی آئی میں چلے گئے تھے ۔یہ واپس کب آئیں گے؟ اس پر یوسف رضا گیلانی خاموش رہے۔
سنہ 2008 کا الیکشن پیپلز پارٹی کی سیٹ پر لڑنے والے احمد حسن ڈیہڑ نے 2013 کے الیکشن میں پی ایم ایل این میں شمولیت اختیار کر لی۔ چونکہ اس حلقے میں مسلم لیگ ن کے پاس اچھا امیدوار تھا اس وجہ سے اِنھیں ٹکٹ نہ مل سکا۔ یہ وہ عرصہ تھا جب اِنھوں نے عملی سیاست سے کچھ وقت کے لیے کنارہ کشی اختیار کر لی اور بعد ازاں یہ پی ٹی آئی کا حصہ بن گئے۔سنہ 2018 کے عام انتخابات میں ملتان کا حلقہ این اے 154 توجہ کا مرکز بن گیا تھا۔ اس حلقہ میں پی ٹی آئی کی ٹکٹ ملک احمد حسن ڈیہڑ اور سکندر حیات خان بوسن لینا چاہتے تھے۔
پاکستان تحریکِ انصاف نے سکندر حیات بوسن کو اپنا امیدوار نامزد کر دیا۔ احمد حسن ڈیہڑ نے ٹکٹ کے حصول کے لیے بنی گالہ دھرنا دے دیا۔ آخرِ کار پی ٹی آئی نے سکندر حیات بوسن سے ٹکٹ واپس لے لیا۔
یوں جب 25 جولائی 2018 کو عام انتخابات ہوئے تو احمد حسن ڈیہڑ کے پاس پاکستان تحریکِ انصاف کا ٹکٹ تھا۔ جبکہ سکندر حیات بوسن آزاد حیثیت میں الیکشن لڑ رہے تھے۔
سکندر حیات بوسن نے 2013 کا الیکشن مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر لڑ کر کامیابی سمیٹی تھی۔ جبکہ اس الیکشن میں سلمان قریشی نے پی ٹی آئی کی ٹکٹ پر الیکشن لڑا تھا۔سنہ 2018 کے عام انتخابات میں جب سکندر حیات بوسن نے مسلم لیگ ن سے راہیں جدا کیں تو مسلم لیگ ن نے سلمان قریشی کو ٹکٹ دیا۔

سید باسط سلطان بخاری
کی بھی یہ تیسری پارٹی ہے 2002 کے انتخابات میں وہ ق لیگ کی ٹکٹ پر ایم این اے منتخب ہوئے،2013 کے الیکشن میں مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر ایم این اے بنے اور 2018 ء میں پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر ایم این اے بنے۔سید باسط سلطان بخاری 1997 کے انتخابات میں ایم پی اے منتخب ہوئے تھے اور سنہ 2002 کے انتخابات میں وہ ق لیگ کی ٹکٹ پر ایم این اے منتخب ہوئے تھے۔سنہ 2008 کا الیکشن بھی ق لیگ کی ٹکٹ پر لڑا مگر کامیاب نہ ہو سکے لیکن مئی 2010 میں ضمنی الیکشن میں یہ صوبائی سیٹ پر کامیاب ہو گئے۔وہ 2013 کے الیکشن میں مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر ایم این اے بن گئے اور پھر سنہ 2018 کے عام انتخابات میں جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے پلیٹ فارم پر سرگرم ہوئے۔ اس الیکشن میں کامیاب رہے اور پی ٹی آئی میں شامل ہو گئے۔
اِن کی والدہ زہرا بتول، صوبائی حلقہ پی پی 272 سے پاکستان تحریک انصاف کی سیٹ پر ایم پی اے ہیں جبکہ اِن کی بیگم زہرا باسط حلقہ این اے 184 سے پاکستان تحریکِ انصاف کی ٹکٹ پر ہار گئی تھیں۔
سنہ 2018 کے انتخابات میں میاں شہباز شریف نے انتخابی مہم کا آخری جلسہ مظفر گڑھ میں کیا تھا۔ ہارون سلطان بخاری، جو باسط بخاری کے بھائی ہیں، نے ن لیگ کے ٹکٹ پر صوبائی الیکشن لڑا تھا۔اِنھوں نے ایک موقع پر کہا تھا کہ شہباز شریف باپ کی جگہ پر ہیں اور باپ تبدیل نہیں کیے جا سکتے۔
رانا قاسم نون
ملتان سے تعلق رکھنے والے رانا قاسم نون بھی 2018 کے عام انتخابات سے قبل مسلم لیگ ن کے منحرف رکن تھے۔ اِنھوں نے مسلم لیگ ن کو چھوڑ کر جنوبی پنجاب صوبہ محاذ بنایا تھا۔رانا قاسم نون پہلی بار 2002 کے انتخابات میں ملتان کے حلقہ پی پی 205 سے ایم پی اے منتخب ہوئے۔ ان کے خاندان کی سیاست کا آغاز قیام پاکستان کے فوری بعد ہوا تھا۔ان کے چچا رانا گل محمد نون 1951 سے 1955 پنجاب کی قانون ساز اسمبلی کے ممبر رہے۔

نواب شیر وسیر
نواب شیر وسیر 2008 کے الیکشن میں اس وقت کے حلقہ این اے 76 سے پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر ایم این اے منتخب ہوئے تھے۔ مگر 2013 کے الیکشن میں یہ مسلم لیگ ن کے امیدوار طلال چوہدری سے بھاری مارجن سے شکست کھا گئے۔اس وقت بھی اِن کے پاس پیپلز پارٹی کا ٹکٹ تھا۔ یہی حلقہ جب 2018 کے الیکشن میں این اے 102 ٹھہرا تو ملک نواب شیر وسیر نے طلال چوہدری کو شکست دی۔ اِن کے پاس اس مرتبہ پاکستان تحریکِ انصاف کا ٹکٹ تھا۔نواب شیر وسیر نے اپریل 2018 میں بنی گالہ جا کر پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کی تھی۔ اس موقع پر اِن کا کہنا تھا وہ اپنے حلقے میں پاکستان تحریک انصاف کو مضبوط کریں گے۔حالانکہ جون 2017 میں اِنھوں نے وفد سمیت بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کی تھی جس میں بلاول کو جڑانوالہ میں جلسہ عام کی دعوت دی گئی تھی۔

ڈاکٹر رمیش کمار
سات اپریل 2018 کو ڈاکٹر رمیش کمار نے مسلم لیگ ن کو چھوڑ کر پی ٹی آئی کو جوائن کر لیا تھا۔ یہ وہ دِن تھا جب مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے ایک اور اقلیتی رکن بھاون داس نے بھی پارٹی کو خیر باد کہہ کر اپنی وفاداری پیپلز پارٹی کو سونپ دی تھی۔ڈاکٹر رمیش کمار کے چک شہزاد گھر میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عمران خان نے پریس کانفرنس کی تھی۔اس موقع پر ڈاکٹر رمیش کمار کا کہنا تھا کہ اگر ان کی کمیونٹی پی ٹی آئی کو ووٹ دے گی تو ہمیں محتاج نہیں ہونا پڑے گا۔ میں نے پی ٹی آئی کو جوائن اس لیے کیا کہ ملک کی خدمت کر سکوں۔

راجہ ریاض

راجہ ریاض 1993ء میں پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر فیصل آباد سے رکن پنجاب اسمبلی بنے مئی 2016 ء میں تحریک انصاف میں آگئے۔اس سے قبل وہ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں پنجاب میں سنئیر وزیر بھی رہے۔
2018 ء میں پہلی بار پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔ انہیں ستمبر 2018 ء میں وزارت پٹرولیم کا پارلیمانی سیکرٹری بنایا گیا لیکن وہ دسمبر 2018 ء میں اختلافات کے باعث مستعفیٰ ہوگئے۔

نور عالم خان
نور عالم خان بھی پیپلز پارٹی چھوڑ کر پی ٹی آئی میں آئے وہ 2008 ء میں پشاور تین سے پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے ۔و ہ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں کامرس کے پارلیمانی سیکرٹری بھی رہے۔ 2018 ء میں پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر رکن قومی اسمبلی بنے۔