ایک پاکستانی کی 12 برس سے چین کی جمہوریت میں شمولیت

غیر ملکی رہائشیوں کو اپنا گورنر بننے کی ترغیب دیتے ہیں،اس طرح لوگوں کو لگتا ہے کہ وہ ہم پر بھروسہ کرسکتے ہیں،مینگ لونے

چین ، شنگھائی کی ہواکاؤ انٹرنیشنل کمیونٹی میں رہائش پذیر پاکستانی عامر خان نے نوول کرونا وائرس وبا کے دوران غیرملکی رضاکار کے طور پر مثبت کردار ادا کیا۔ (شِنہوا)


شنگھائی (شِنہوا) پاکستان سے تعلق رکھنے والے عامر خان گزشتہ 22 برس سے چین میں مقیم ہیں۔ان کے بہت سے پڑوسی انہیں ” نصف مقامی رہائشی” سمجھتے ہیں۔2001 میں عامر خان شنگھائی منتقل ہوئے جو شہر کے ضلع من ہانگ کی ہوا کا انٹرنیشنل کمیونٹی میں 12 سالہ رہائش کا آغاز تھا۔انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ شنگھائی میں اس بین الاقوامی برادری کو فوری طور پر راغب کرلیتا ہے، اور یہ محسوس کیا کہ شنگھائی بین الاقوامی اور کھلا شہر ہے۔انہوں نے کہا، "کمیونٹی نے ہر ایک کو اہم حصہ بنانے کی کوششیں کی ہیں۔ آدمی انچارج ہمارے لیے تارکین مشاورتی کانفرنس کا اہتمام کرتے ہیں۔ یہاں سروے اور تارکین کی آرا ء کے اظہار کے لئے سیلون موجود ہیں۔ ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ہمیں بہت زیادہ سنا جاتا ہے۔
کمیونٹی کے اعدادوشمار کے مطابق شنگھائی کی من ہانگ ضلع کی ہواکا کائونٹی میں 76 ممالک کے 5 ہزار 380 غیرملکی رہتے ہیں۔سہ ماہی میں ایک بار ، مقامی بین الاقوامی براداری ہواکا تارکین مشاورتی کانفرنس بلاتی ہے جس میں غیرملکی رہائشی حکومتی عہدیداروں سے روبرو بات کرتے ، تبادلہ خیال کرتے اور تجاویز دیتے ہیں۔
ہواکا جن فینگ انٹرنیشنل کمیونٹی ڈویلپمنٹ پروموشن ایسوسی ایشن کی سیکرٹری جنرل مینگ لو نے کہا کہ ہم غیر ملکی رہائشیوں کو اپنا گورنر بننے کی ترغیب دیتے ہیں۔ رہائشی رائے دیتے ہیں، کمیونٹی اس پر ردعمل دیتی اور عملدرآمد کرتی ہے۔ اس طرح لوگوں کو لگتا ہے کہ وہ ہم پر بھروسہ کرسکتے ہیں اور کمیونٹی میں خوشی سے رہ سکتے ہیں۔
رواں سال کے اوائل میں، رہائشیوں کو علم ہوا کہ اس علاقے میں ٹریفک لائٹس کی کمی ایک خطرہ بن گئی ہے، اور گاڑیاں تیزی سے گزرتی ہیں۔ کانفرنس میں ایک غیر ملکی رہائشی نے کہا کہ طلبا کا اسکول آنا جانا خطرے سے خالی نہیں ہوتا۔ گروپ مباحثہ کے بعد کمیونٹی نے اس کی اطلاع ضلع کے محکمہ ٹریفک اور پولیس کو دینے کا فیصلہ کیا۔
ہواکا پولیس اسٹیشن کے ڈپٹی ڈائریکٹر کائی ہوئی نے فوری طور پر ہدایات جاری کیں۔ متعلقہ قواعدوضوابط کے مطابق اس روڈ پر ٹریفک لائٹس نصب کی جاتی ہیں جہاں رش کے اوقات میں ایک گھنٹہ میں 900 سے زائد گاڑیاں گزرتی ہوں۔ کمیونٹی کے اطراف واقع یہ روڈ اس شرط پر پورا نہیں اترتا تھا۔کائی نے بتایا کہ ہم نے غیرملکی باشندوں کی تجاویز میں سے ایک پر عمل کرتے ہوئے سڑک پر حفاظتی اور حد رفتار کے نشانات لگادیئے۔
دارالحکومت بیجنگ میں 5 سے 11 مارچ کو سالانہ اجلاس قومی دو سیشن منعقد ہوئے۔ ہواکا میں غیرملکی باشندوں نے اس میں گہری دلچسپی لی ۔
عامر خان نے کہا کہ اپنی کمیونٹی میں ہم اپنی آواز اٹھاتے، مسائل پر تبادلہ خیال کرتے اور مل کر اسے حل کرتے ہیں۔ دو اجلاسوں میں ہم دیکھتے ہیں کہ پورے ملک میں جمہوریت یکساں طور پر کیسے چلتی ہے۔ انہوں نے ایسے کئی طریقے متعارف کرائے ہیں جس سے لوگ اپنے خیالات پالیسی سازوں تک پہنچاسکتے ہیں۔عامر خان نے کہا کہ کمیونٹی کانفرنس کے علاوہ نئے ابھرتے ہوئے چینل موجود ہیں، ان میں محلوں میں موجود قانون سازی کے دفاتر، مقامی تجاویز طلب کرنے والے دفاتر، الیکٹرانک سرکاری پلیٹ فارم، شکایت کی ہاٹ لائن شامل ہیں۔ ہم مزید ایسے معاملات دیکھ رہے ہیں جہاں پالیسی ساز روز مرہ کی زندگی کی ان تجاویز کو مدنظر رکھتے ہیں۔
جن فینگ انٹرنیشنل کمیونٹی ڈویلپمنٹ پروموشن ایسوسی ایشن کے دفتر کی دوسری منزل پر تارکین کی مشاورتی کانفرنس منعقد ہوتی ہے جہاں آپ 76 قومی پرچم دیکھ سکتے ہیں جو ہوا کے جھونکوں سے لہراتے ہیں تو ہر ایک فرد کے دل میں ہلچل مچ جاتی ہے۔
سیکرٹری جنرل منگ نے بتایا کہ جب کسی نئے ملک کا رہائشی یہاں آتا ہے تو ایک نئے قومی پرچم کا اضافہ کردیتے ہیں۔ مختلف رائے اچھے خیالات لاتی ہیں۔ رہائشیوں کی سن کر اور انہیں ایک جگہ جمع کرکے ہم مجموعی طور پر کمیونٹی کو بہتر مستقبل کی جانب لے جاسکتے ہیں۔