شنگھائی میں پاکستانی رضاکار وبا مخالف اقدامات میں شریک

چین ، پاکستانی رضاکار حبیب الرحمان ( دائیں ، دوسرے)  موبائل فون سے کیو آر کوڈ کے ذریعے نیوکلک ایسڈ ٹیسٹ کے لئے درخواست  د ینے کے حوالے سے رہائشیوں کو ہدایات دے رہا ہے۔ (شِنہوا)

شنگھائی (شِنہوا) ایک روز صبح 7 بجکر 30 منٹ پر بارش کے دوران 33 سالہ ایک پاکستانی کاروباری شخصیت حبیب الرحمان نے گھر کو اہلخانہ کی نگرانی میں چھوڑا اور ایک نئے کام کی تکمیل کے لئے چل پڑا ۔وہ شنگھائی میں نوول کرونا وائرس وبا پھوٹنے کے سبب رضاکار بننے جارہے تھے تاکہ پولیس کو نیوکلک ایسڈ اسکریننگ میں مدد فراہم کرسکے۔مارچ سے اب تک چین کے مختلف علاقوں میں نئے مصدقہ کیسز اور غیر علامتی مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، شنگھائی پر مقامی اور غیرملکی کیسز کا دوہرا دبا ہے۔شنگھائی 2 کروڑ 40 لاکھ کی آبادی کا شہر ہے جس میں تقریبا 2 لاکھ غیرملکی ہیں۔
تقریبا ایک ہفتے تک جاری رہنے والی حالیہ نیوکلک ایسڈ اسکریننگ میں رحمان جیسے کئی زبانوں پر عبور رکھنے والے رضاکاروں نے غیرملکی رہائشیوں سے ان کی تجاویز سن کر ان کی مدد کی۔ہلکے نیلے رنگ کے حفاظی سوٹ میں ملبوس چہرے پر ماسک اور اسکرین لگائے رحمان نے کہا کہ میں اور میرا گھرانہ ایک طویل عرصے سے شنگھائی میں قیام پذیر ہے۔ 2020 میں خاص کر ہم نے ووہان میں وبا کے خاتمے میں چین کی کارکردگی اور کامیابی کا مشاہدہ کیا جس سے ہمیں بہت اعتماد ملا۔ وبا کے تدارک بارے ہمیں بہت سے تجربات شیئر کرنا ہے۔رحمان کے مطابق شنگھائی میں نئے غیرملکی رہائشی نیوکلک ایسڈ اسکریننگ کا سامنا کرتے وقت اکثر گھبرا جاتے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ بحثیت رضاکار ہمیں نہ صرف قطاروں کو ترتیب دینا ہوتا بلکہ ہرایک کے مسائل کو بروقت حل بھی کرنا ہوتا ہے۔ میں اکثرغیرملکیوں کو کہتا کہ کئی ٹیسٹ مکمل کرنے میں دو یا تین دن لگیں گے۔
ضلع چھانگ ننگ میں ہونگ چھی آ اسٹریٹ کے رونگ ہوا رہائشی علاقے میں ایک رہائشی عمارت کے داخلی راستے پر رہائشی نیوکلک ایسڈ ٹیسٹ کے لئے قطار میں کھڑے تھے۔
رحمان نے بارش کا بہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے رہائشیوں کی منظم انداز میں رہنمائی کی۔ رضاکارانہ کام کے دوران اس دن انہوں نے ایک درجن سے زائد ممالک اور خطوں کے سینکڑوں باشندوں کی خدمت کی ۔
رضاکارانہ کام شروع کرنے سے قبل رحمان اور ان کے اہلخانہ نے اپنے رہائشی علاقے چھنگ جیا چھی آ اسٹریٹ میں نیوکلک ایسڈ اسکریننگ کے دو رانڈز مکمل کئے۔انہوں نے کہا کہ قطار تھوڑی طویل ہونے کے باوجود یہ سارا عمل بہت ہموار تھا اور جب اچھا موسم ہو تو ہر کوئی خوشگوار موڈ میں ہوتا ہے اور میں اپنا تجربہ زیادہ سے زیادہ لوگوں سے شیئر کرنے کو تیار تھا۔
رحمان خود کو شنگھائی کا باشندہ کہتے ہیں ،2008 میں ان کے والد نے حوصلہ افزائی کی اور وہ شنگھائی یونیورسٹی آف فنانس اینڈ اکنامکس میں بین الاقوامی معاشیات اور تجارت میں ایک انڈرگریجویٹ طالب علم بن گئے۔فارغ التحصیل ہونے کے بعد انہوں نے اپنے والد اور بھائی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے شنگھائی میں ہاتھ سے بنے قالینوں اور دیگر سامان کی تجارت شروع کردی ۔
رحمان نے 2016 میں شنگھائی پبلک سکیورٹی کے اولین گروپ میں رضاکارانہ شمولیت کی درخواست دی۔حالیہ برسوں میں انہوں نے ٹریفک مسائل سے نجات میں پولیس کی مدد کی ہے اور کمیونٹی میں مترجم کی خدمات فراہم کیں۔رحمان کی رائے میں غیرملکی ابتدا میں چین کے عادی نہیں ہوتے لیکن رضاکاروں کی بدولت ان کی زندگی بہت آسان ہوجاتی ہے۔ مثلا وبا کی روک تھام اور تدارک میں انہوں نے سیکھا کہ نیوکلک ایسڈ کی جانچ کو کیسے جلد سے جلد مکمل کرنا ہے اور سبزیاں آن لائن کیسے خریدنی ہیں۔چونکہ انہیں دوسروں سے تجربہ بانٹنے کا شوق ہے ، لہذا کمیونٹی کے چینی باشندے بھی ان سے مشورہ کے لئے تیار رہتے ہیں۔
چین اور پاکستان کے درمیان ایک تاجر کی حیثیت سے رحمان کا کام وبا کے سبب کچھ وقت کے لئے متاثر ہوا ۔ 2021 میں انہوں نے اور ان کے اہلخانہ نے پاکستانی نمک سے بنے چراغ چین کی مارکیٹ میں متعارف کرائے جو چوتھی چین بین الاقوامی درآمدی ایکسپو میں بہت مقبول ہوئے۔
رحمان نے کہا کہ کاروبار یقینا تھوڑا سا متاثر ہوا لیکن میں سمجھتا ہوں کہ حفاظت اولین ترجیح ہے کیونکہ صحت کے بغیر سب بے معنی ہے وہ اب بھی پرامید ہیں اور 5 ویں چین بین الاقوامی درآمدی ایکسپو میں شرکت کا ارادہ رکھتے ہیں۔