1973 ء کے آئین کی سالگرہ کے دن آئین کی جیت عمران خان سابق وزیراعظم ہو گئے

خو د کو کرسی سے چمٹائے رکھنے اور این آر او لینے کی عمران خان کی تمام کوششیں ناکام ہوگئیں
ایک شخص نے 22 کروڑ عوام اور ایوان کو سولہ گھنٹے تک یرغمال بنائے رکھا لیکن آخر جانا پڑا
174 ارکان اسمبلی نے سولہ گھنٹے کے طویل اور صبرآزما انتظار کے بعد وزیراعظم کو نکال باہر کیا
عمران آخر تک معاملے کو لٹکاتے رہے کہ شائد کوئی انہونی ہو جائے اور وہ بچ جائیں لیکن امید بھر نہ آئی
معاملے کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے رات بارہ بجے کے قریب سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کے دفاتر کھل گئے
سپیکر و ڈپٹی سپیکر معاملے کو ٹالتے رہے لیکن رات گیارہ بجے ان کی ہمت جواب دے گئی اور وہ مستعفی ہوگئے


اسلام آباد(محمد رضوان ملک )قومی اسمبلی میں اپوزیشن ارکان 16 گھنٹے کے صبر آزما انتظار کے بعد عمران خان کو گھر بھیجنے میں کامیاب ہو گئے۔174 ارکان نے تحریک عدم اعتماد کے حق میں ووٹ دے کر اسے کامیاب بنایا ۔ہفتہ کی صبح دس بجے شروع ہونے والا اجلاس جس میں سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق سپیکر کو ووٹنگ کرانا تھی لیکن انہوں نے عدالت کے حکم پر اپنے قائد عمران خان کے حکم کو مقدم رکھا اور اپوزیشن کے بار بار کے ووٹنگ کے مطالبے کے باوجود ووٹنگ نہ کرائی کیونکہ سب کو معلوم تھا کہ عمران خان ایوان میں اکثریت کا اعتماد کھو چکے ہیں۔انہوں نے امریکہ کی جانب سے ملک میں رجیم تبدیلی کے حوالے سے مبینہ امریکی خط پر بحث شروع کرادی ۔اس دوران اسمبلی اجلاس بار بار ملتوی ہو تا رہا ۔
صورت حال کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے عدلیہ حرکت میں آگئی رات دس بجے اسلام آباد ہائیکورٹ کھل گئی اور سپریم کورٹ کے دروازے بھی کھل گئے رات بارہ بجے تک چیف جسٹس سپریم کورٹ عمر عطا بندیال اور دیگر معزز ججز عدالت پہنچ گئے ۔اس دوران وزیراعظم نے رات نو بجے کابینہ کا ہنگامی اجلاس بلایا،سپیکر اور ڈپٹی سپیکر نے بھی دوبار وزیراعظم سے ہنگامی ملاقات کی لیکن ووٹنگ نہ ہوسکی۔
رات ساڑھے گیارہ بجے سپیکر کی ہمت جواب دے گئی اور وزیراعظم سے ملاقات کے بعد واپسی پر سپیکر اس قیصر اپنے عہدے سے مستعفیٰ ہوگئے
اس دوران پینل آف چئیرکے رکن سردار ایاز صادق نے ایوان کی صدارت سنبھالی اور انہوںنے تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کا اعلان کیا۔ اس دوران تاریخ تبدیل ہونے کے باعث اجلاس چار منٹ کے لئے ملتوی کیا گیا۔
عمران خان جو کسی انہونی کے انتظار میں تھے انہوں نے پندرہ گھنٹے سے زائد تک اجلاس کو لٹکائے رکھا ۔ انہوں نے انہونی کے انتظار میں پورے ایوان اور 22 کروڑ عوام کو کئی گھنٹے یرغمال بنائے رکھا لیکن امید بھر نہ آئی ۔
قومی اسمبلی نے دس اپریل 2022 ء کو 1973 ء کے آئین کی سالگرہ کے دن وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیا ب کر کے عمران خان کو ان کے عہدے سے آئینی و جمہوری طریقے سے ہٹا دیا۔