پہلی بار پوری عسکری قیادت کی چینی فوجی قیادت کے ساتھ اہم مشاورت

اسلام آباد:پاکستان کی پوری عسکری قیادت نے 9 سے 12 جون تک چینی کا دورہ کیا ۔جمعہ کی شام جب 10جون کو وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد مفتاح اسماعیل قومی اسمبلی میں مالی سال 2022-23 کا بجٹ پیش کر رہے تھے عین انہی ایام (9جون سے 12جون تک) پاکستان کی تاریخ کا اعلی ترین سطح کا سب سے بڑا عسکری وفد آزمودہ دوست ملک عوامی جمہوریہ چین کی عسکری قیادت کے ساتھ علاقائی اور انٹرنیشنل صورتحال پر گہرائی میں جا کر جائزہ لے رہا تھا۔
اس موقع پر واقفان حال کے مطابق ناصرف پاکستان آرمی کی قیادت بلکہ جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی پاکستان نیوی اور پاکستان ائرفورس کی اعلی قیادت چائنا میں موجود تھی کیونکہ خطے کی صورتحال آئی ایس پی آر کے مطابق زیرغور رہی تو بادی النظر میں انڈیا بنگلہ دیش سری لنکا مالدیپ افغانستان ایران کی صورتحال چائنا پاکستان اکنامک کاریڈور کی رفتار کو بڑھانے پر بھی غور ہوا۔
9سے 12 جون کا مسلح افواج کے سربراہان اور پاکستان کی آرمی نیوی ائرفورس کی اعلی قیادت کی چینی پیپلز لبریشن آرمی کی اعلی ترین قیادت کے ساتھ جو ملاقاتیں ہوئیں مسلح افواج کے ملکی تاریخ کے سب سے بڑے اعلی عسکری قیادت کے وفد کے چین جانے کے پروگرام رکھا گیا ۔
آئی ایس پی آر نے اس وفد کی چار روزہ چینی عسکری قیادت کے ساتھ دوطرفہ مشاورت کے بارے میں مختصر اعلامیہ 12جون کو اس وقت جاری کیا جب پاکستان کی اعلی ترین عسکری قیادت (آرمی نیوی ائرفورس) چین کے دورے کے اختتام پر وطن آ رہی تھی۔
ان چار دنوں میں پاکستان کی حزب اقتدار اور اسکی مخالف جماعتوں کے رہنما پاکستان کے مستقبل کے بارے میں خوفناک تعبیریں قوم کے سامنے رکھتے رہے جس سے عوام کے دل دہل رہے تھے مگر آئی ایس پی آر کے اتوار کے روز پاکستان کی اعلی ترین فوجی لیڈروں کے پیپلز لبریشن آرمی آف چائنا کی قیادت کے ساتھ غیرملکی اہمیت کی چار روزہ مشاورت کے بارے میں جو اعلامیہ جاری کیا وہ جون کی جھلسا دینے والی گرمی میں ا قوم کیلئے آئی ایس پی آر کا اعلامیہ ٹھنڈی ہوا کا خوشگوار جھونکا ثابت ہوا ہے۔
یہ بات بھی پاک چین عسکری قیادت کے زیرغور آئی کہ بنگلہ دیش کی وزیراعظم حسینہ واجد کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش انڈیا اور پاکستان سے زیادہ مستحکم معیشت والے ملک کا درجہ حاصل کر گیا ہے۔
پاک چین عسکری قیادت کی اعلی ترین سطح پر ملاقاتوں سے قوم کی ڈھارس بندھی ہے کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثے جو دشمنوں کی آنکھ میں خار کی طرح کھٹک رہے ہیں وہ پاک چین مستحکم دوستی کے نتیجے میں محفوظ سے محفوظ تر رہیں گے .
جس کیلئے پاکستان کی افواج کے سٹرٹیجک پلانز ڈویژن نے پاکستان کے جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے چیئرمین جنرل ندیم رضا نے ماہ رواں کے آغاز میں ڈنکے کی چوٹ نپے تلے الفاظ میں واضح سگنل اس وقت دے دیا جب پی ٹی آئی کے چیئرمین سابق وزیراعظم عمران خان نے ایک ٹی وی انٹرویو میں یہ دعوی کیا کہ پاکستان کے خدانخواستہ تین ٹکڑے ہونے والے ہیں اور اسکے نتیجے میں پاکستان کے ایٹمی اثاثے خطرے میں پڑ جائینگے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان اور چین کے عسکری قائدین نے پاکستان کے جوہری اثاثوں کو ہر قسم کے خطرات سے مبرا قرار دیا ہے کیونکہ پاکستان کے ایٹمی اثاثے صرف اسکے ازلی و ابدی دشمن بھارت کی طرف سے خطرے سے نمٹنے کیلئے بطور ڈیٹرنس ہر لحاظ سے محفوظ ہیں کارگر ہیں اور دنیا کی کوئی طاقت پاکستان سے یہ جوہری صلاحیت نہ چھین سکتا ہے نہ اس سے محروم کر سکتا ہے۔
وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے بجٹ تقریر میں پاکستان کو سری لنکا کی نہج پر جانے سے روکنے کو پہلی ترجیح دینے کا جو اعلان کیا ہے اس بارے میں پاکستانی قوم آگاہ ہے کہ سری لنکا کیخلاف ہمارے ازلی و ابدی دشمن نے کیا چالیں چلیں اس بارے میں سری لنکا کن حالات سے گزرا وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔
دوسری طرف اس دورے کے بعد چین جس نے 2021 میں 2ارب چالیس کروڑ ڈالر کی رقم پاکستان کے اسٹیٹ بینک میں رکھوائی تھی اور شہباز شریف حکومت کے آنے کے بعد چائنا کی طرف سے سگنل ملا ہے کہ2ارب چالیس کروڑ ڈالر بینک آف چائنا اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں ایک سال کیلئے مزید رول اوور کرنے کا اعلان چند دنوں میں کرنے والا ہے جس سے زرمبادلہ کے ذخائر میں تیزی سے ہونے والی کمی اور پاکستانی اوپن مارکیٹ میں ڈالرز کی بڑھتی ہوئی گراوٹ رک پائے گی۔