پاکستان میں عالمی سطح پر ہونے والی ایجادات اوراختراعات کے پس منظر میں نئے کاروبار کی ترویج کے لیے کامسیٹس کے زیر اہتمام گیارہ روزہ ورکشاپ

 

 


اسلام آباد :پاکستان میں عالمی سطح پر ہونے والی ایجادات اوراختراعات کے پس منظر میں نئے کاروبار (اسٹارٹ اپ)کی ترویج کے لیے منعقدہ گیارہ روزہ ورکشاپ ختم ہو گئی۔ کامسیٹس نے ملک میں روزگار کے نئے اور وافر مواقع پیدا کرنے سے متعلق حکمت عملی تیار کرنے، چھوٹے کاروبار شروع کرنے اوراُن کاروبار کومزید بہتربنانے کے لیے ایک تربیتی ورکشاپ کاانعقاد کیا۔اس ورکشاپ کامقصددنیا میں ہونے والی نئی ایجادات،تحقیق اور اختراعات پر مبنی تجارتی نظام کے علمی،عملی اورکلیدی معاشی پہلووں کی جانب توجہ مبذول کراناتھا تاکہ پاکستان میں نئے کاروبار (اسٹارٹ اپ)کو مضبوط بنیادوں پر استوار کیاجا سکے۔اس ٹرینر اینڈ ٹریننگ(ٹی او ٹی)ورکشاپ کے لیے کامسیٹس کے ساتھ بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او)اورآئی آئی یو کے بزنس انکیوبیشن سنٹر پاکستان کے پروگرام(SIYB) ”اپنے کاروبار کو شروع کریں اور بہتر بنائیں”نے تعاون فراہم کیا تھا۔منعقدہ ورکشاپ میں کاروباری اداروں کو نئی اور موثر مہارتوں کے فروغ کے طریقہ کار کو سیکھنے اور اس پر عمل درآمد کرنے کے لیے مدد فراہم کرناتھا۔ ورکشاپ کا افتتاح سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کی چیئر پرسن سینٹرستارہ ایاز نے کیا،وہ اس تقریب کی مہمان خصوصی تھیں۔دیگر مہمانوں میں کامسیٹس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر ایس ایم جنید زیدی،پاکستان میں آئی ایل او کی کنٹری ڈائریکٹر محترمہ انگریڈ کرسٹینسن،آئی ایل او پاکستان کے نمائندے سعد گیلانی اور سری لنکا سے آئے ہوئے ایس آئی وائی بی پروگرام کے ماسٹر ٹرینر ڈویلپر مسٹر جیمونو وجینیہ شامل ہوئے۔ورکشاپ کے ماڈیولز کے دوران مختلف اداروں اور شعبوں سے تعلق رکھنے والے کاروباری شرکاء کو کامیاب ٹرینر بننے کیلیے ضروری آلات کے ساتھ ساتھ ایس آئی وائی بی کے بروقت مواقع کو استعمال کرنے کی تربیت دی گئی۔ شرکاء کو ایس آئی وائی بی کے ایم اینڈ ای پر مبنی رپورٹنگ کے مختلف پہلوئوں پر عملدرآمد کے مختلف مراحل سے روشناس کرایا گیا۔جس میں ایس آئی وائی بی کے شرکاء اور اُن کے زیر استعمال آلات(فارم اینڈ رپورٹس)کا استعمال بھی شامل تھا۔علاوہ ازیں نگرانی اور رپورٹنگ کو مسلسل جاری رکھنے سے متعلق تربیت دی گئی اورایم اینڈ ای کے متعدد پہلووں کے لیے موثرٹولز کواپنانے سے متعلق طریقہ کار سے بھی واقفیت کا اہتمام کیا گیاتھا۔ ورکشاپ میں تربیت پانے والے شرکاء نے کام کے معیار کو بروقت پورا کرنے اور تصدیق شدہ ایس آئی وائی بی ٹرینرز بننے کی کاروباری تربیت اور ممکنہ کاروباری افراد کی تربیت کے لیے ایک ایکشن پلان بھی تیار کیا،جس کا عنوان ”بین الاقوامی سطح پر پہچان رکھنے والاایس آئی وائی بی ٹرینر بننا” تھا۔ پاکستان کی طرف سے محمداحسن مرزا،سری لنکا کی جانب سے مسٹر جیمونو وجینیہ اور یوگنڈا کی طرف سے انجینئر مسٹر ڈیوڈ کٹندرے نے ورکشاپ کے لیے بطور لیڈ ماسٹر ٹرینر تربیت کے فرائض سرانجام دیے۔ یہ ورکشاپ ایس آئی وائی بی آئی ایل او کی جانب سے ایک انتظامی تربیتی پروگرام کا حصہ تھی،جس میں زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی موثرحکمت عملی کے ذریعے چھوٹے کاروبار شروع کرنے اور اُن کو بہتربنانے پر توجہ دی گئی تاکہ عالمی سطح پر ابھرتی ہوئی معیشتوں میں نئے کاروبار کی جامع اور موثر ترویج کو ممکن بنایا جاسکے۔