پیٹرول 24، ڈیزل 59 روپے فی لیٹر مہنگا

2015 ء میں گیس پائپ لائن معاہدے پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے روس تیل دینے کو تیار نہیں
بھارت کے پاس 600 ارب ڈالر بنگلہ دیش کے پاس 40 جبکہ ہمارے پاس 10 ارب ڈالر کے ذخائر ہیںجو لمحہ فکریہ ہے


اسلام آباد:حکومت نے آئندہ 15 روز کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑا اضافہ کر دیا ہے۔
رات پریس کانفرنس سے خطاب میں وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے اعلان کیا کہ پیٹرول کی قیمت 24 روپے تین پیسے فی لیٹر جب کہ ڈیزل کی قیمت 59 روپے فی لیٹر بڑھا دی گئی ہے۔اس اضافے کے بعد
پیٹرول کی نئی قیمت 233 روپے فی لیٹر جب کہ ڈیزل کی نئی قیمت 263 روپے 31 پیسے ہو گئی ہے۔
اس کے علاوہ لائٹ ڈیزل 29 روپے 61 پیسے جب کہ مٹی کا تیل 29 روپے59 پیسے فی لیٹر مہنگا کیا گیا ہے۔ مٹی کیتیل کی قیمت 211 روپے 43 پیسے جب کہ لائٹ ڈیزل کی نئی قیمت 207 روپے47 پیسے ہو گئی ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا ہے کہ حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ اب پٹرولیم مصنوعات کے معاملے میں کوئی نقصان برداشت نہیں کرے گی۔انہوں نے کہا کہ کبھی ملکی حالت میں اتنا بگاڑ نہیں دیکھا، جس کی وجہ عمران خان کی نااہلی، کورونا کے بعد ہونے والی عالمی سطح پر مہنگائی ہے، اس دوران پاکستان دنیا کا تیسرا مہنگا ترین ملک بن گیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے مسلم لیگ ن کو دبوچنے کے لیے ایک جال بچھایا پھر آئی ایم ایف سے معاہدے کیے، اب ہم ان ہی معاہدوں پر عمل پیرا ہیں اور انشا اللہ ہم اس میں کامیاب ہوجائیں گے، سابق حکومت نے آئی ایم ایف سے 30 روپے فی لٹر پیٹرول لیوی اور ٹیکس لگانے کا معاہدہ کیا تھا۔
مفتاح اسماعیل نے کہا کہ جب خان صاحب چھوڑ کر گئے تو عالمی مارکیٹ میں پٹرول 80 سے 85 ڈالر تھا آج قیمت اضافے کے بعد 120 ڈالر تک پہنچ گئی ہے، اس کے باوجود ہم پٹرول سستا فروخت کررہے تھے اور آج بھی دنیا کے اعتبار سے قیمتیں کم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دنیا کے دیگر ممالک کی طرح ہم بھی مجبوری میں سب جاننے کے باوجود بھی قیمتیں بڑھانے پر مجبور ہیں، وزیراعظم نے پیٹرول اسکیم بھی اسی وجہ سے متعارف کروائی جس کے تحت 80 لاکھ افراد کو ماہانہ 2 ہزار روپے دیئے جائیں گے جبکہ جون سے مزید 60 لاکھ لوگوں کو بھی اس پروگرام میں شامل کیا جائے گا۔
وزیرخزانہ نے کہا کہ کورونا کے دور میں عالمی مارکیٹ میں پٹرول 6 اور 7 ڈالر میں دستیاب تھا مگر ہم نے اس سے فائدہ نہیں اٹھایا، ہم نے پہلے بھی مشکل فیصلے کیے اور آئندہ بھی کریں گے، یہ مشکل چند مہینوں کی ہوگی مگر امید ہے کہ ہم جلد اس سے نکل جائیں گے، ہم نے ویسے ہی بجٹ میں غریبوں پر کوئی ٹیکس نہیں لگایا جبکہ امیروں پر نئے ٹیکس لگائے ہیں۔
وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ روس پاکستان کو تیل دینے کیلئے تیار نہیں، روس نے سابق وزیر حماد اظہر کے خط کا جواب ہی روس نے نہیں دیا تھا۔
نہوں نے کہا کہ روس کا موقف ہے کہ پاکستان نے 2015 میں گیس پائپ لائن منصوبے کے معاہدے پر عمل درآمد نہیں کیا تواب ہم آپ سے مزید کیا بات کریں۔
انہوں نے کہا کہ ہم روس سے گندم خریداری کیلئے بات چیت کررہے ہیں، کابینہ اور وزیراعظم نے اس کی منظوری دیدی ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ بھارت کے پاس 600 ارب ڈالر اور بنگلہ دیش کے پاس 40 سے 50 ارب ڈالر کے ذخائر ہیں جبکہ ہمارے پاس 10 ارب ڈالر کے ذخائر ہیں یہ ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ چین سے 2.3 ارب ڈالر جلد ملنے والے ہیں جو ہمارے زرمبادلہ میں رہے گی۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب سے موخر ادائیگی پر تیل لینے کی حد بڑھانا چاہتے ہیں جلد معاہدہ ہونے کا امکان ہے، سعودی عرب سے قرضے کی واپسی کی مدت میں اضافہ ہوجائے گا۔