شہباز گِل کو بغاوت، عوام کو اداروں کے خلاف اکسانے کے الزام میں گرفتار کیا، رانا ثنااللہ
مموع فنڈنگ اور توشہ خانہ ریفرنس سے توجہ ہٹانے کے لئے یہ سب کیا گیا وہ توجہ ہٹانے میں اتنا آگے نکل گئے کہ انہوں نے بم کو ہی لات مار دی

اسلام آباد:سابق وزیراعظم عمران خان کے چیف آف سٹاف اور پی ٹی آئی کے رہنماء شہبازگل کو گرفتار کر لیا گیا۔انہیں منگل کو عمران خان کی رہائش گاہ بنی گالہ کے باہر سے گرفتار کیا گیا۔
شہباز گل کے ساتھ موجود ان کے اسٹنٹ کا کہنا تھا کہ گرفتار ی سے قبل ان پر اور میرے اوپر بھی تشدد کیا گیا۔
وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شہباز گِل کو اسلام آباد پولیس نے قانون کے مطابق بغاوت اور عوام کو ریاستی اداروں کے خلاف اکسانے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔
اسلام آباد میں وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے کہا کہ شہباز گل کے خلاف باقاعدہ ایک مقدمہ درج کرکے گرفتار کیا گیا ہے اور صبح عدالت میں مقدمے کے ثبوت پیش کیے جائیں گے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ عمران خان کی زیر صدارت ایک میٹنگ ہوئی جس میں سازشی بیانیہ بنایا گیا اور اس کی ذمہ داری شہباز گِل اور فواد چوہدری کو سونپی گئی جس کے بعد ایک نجی ٹی وی چینل پر فون کال پر بات کرکے پورا بیانیہ پڑھ کر سنایا گیا جس میں ایسے جملے بھی شامل تھے جن کا نشر ہونا قومی مفاد میں نہیں تھا مگر اس دوراں شہباز گِل کو روکا نہیں گیا۔
انہوں نے کہا کہ سانحہ لسبیلہ کے شہداء کے خلاف سوشل میڈیا پر بکواس کی گئی اور یہاں تک کہ افسران کے خاص رینکس بھی پکارے گئے اور کہا گیا کہ وہ تحریک انصاف سے محبت کرتے ہیں اور ان کو کہا گیا کہ آپ انسان بھی ہیں، پاکستانی بھی ہیں، آپ حضرت محمد ۖ کو مانتے بھی ہیں اور قائد اعظم کو بھی مانتے ہیں اس لیے اگر آپ کو کوئی حکم ملے تو آپ یہ کہیں کہ یہ حکم غلط ہے ہم اس حکم کو نہیں مانتے کیونکہ آپ کا ضمیر ہے آپ جانور نہیں ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ اس حد تک اس ادارے میں بغاوت کروانے اور لوگوں کو اکسانے کی حرکت کی گئی اور ایسی حرکت واضح طور پر افواج پاکستان کے اندر ایک ایسی ناپاک جسارت تھی جس سے افواج پاکستان میں ریکنس کی سطح پر اکسانے کی کوشش تھی، لہذا قانون میں اگر اس قسم کی کسی ناپاک جسارت یا جرم کی شکایت ہو تو اس کی شکایت صوبائی حکومت کر سکتی ہے اور اسلام آباد کی حدود صوبے کا درجہ رکھتی ہے اس لیے ریاست کی بنیاد پر یہ مقدمہ درج کیا گیا ہے جس میں ایک مجسٹریٹ شکایت کنندہ ہے۔انہوں نے کہا کہ مقدمہ نمبر 691/22 تھانہ کوہسار اسلام آباد میں درج ہوا ہے جس میں وہ اسکرپٹ بھی شامل کیا گیا ہے جو شہباز گل نے ایک نجی ٹی وی چینل پر بڑھ کر سنایا اور اس میں دفعہ 505، 120, 120 بی، 153، 153 اے، 124 اے، 131، 121 اور 506 شامل کی گئی ہیں، جس کے تحت اسلام آباد پولیس نے قانون کے تحت شہباز گل کو گرفتار کیا ہے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ وزارت داخلہ کی یہ رائے ہے کہ جرم سرزد ہوا اسے ہم صبح عدالت میں پیش کریں گے جس کا فیصلہ عدالت کرے گی اور یہ آئینی و قانونی عمل ہے جس کے متعلق عمران خان فرما رہے ہیں کہ یہ اغوا ہے، تاہم مقدمہ درج کرکے باقاعدہ قانون کے مطابق گرفتاری ہوئی ہے تو اغوا کیسے ہوا۔
انہوں نے کہا کہ مجھے حیرانی اس بات پر ہو رہی ہے کہ عمران خان نے کہا کہ کس جمہوریت میں اس قسم کی شرمناک حرکت ہوتی ہے تو اس میں شرم والی کیا بات ہے کونسا ہم نے شہباز گل کی گاڑی سے 15 کلو ہیروئن برآمد کرلی ہے حالانکہ ہم وہ بھی کر سکتے تھے اور آج اگر میں چاہتا تو 15 کی جگہ 30 کلو کی ہیروئن اس کی گاڑی سے برآمد ہو سکتی تھی لیکن ہم نے یہ شرمناک حرکت نہیں کی اور ہم ایسی شرمناک حرکت کریں گے بھی نہیں اور ایسی حرکتیں جمہوری نظام میں ہونی بھی نہیں چاہیئیں۔رانا ثنااللہ نے کہا کہ لوگوں کو پکڑ کر 6 مہینوں تک جیلوں میں بند رکھنا ور نیب چالان پیش نہ کرنا ایسی شرمناک حرکتیں آپ (عمران خان) کے دور میں ہوئیں۔
انہوں نے کہا کہ میں عمران خان اور فواد چوہدری کو یقین دلاتا ہوں کہ قانون کے مطابق ان کے ساتھ سلوک کیا جائے گا اور ان کے ساتھ غیرقانونی حرکت کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، باقی چیزوں کا تعین مزید تفتیش میں ہوگا کیونکہ یہ ایک سازش تھی جس کے لیے عمران خان کی سربراہی میں پارٹی میٹنگ ہوئی وہاں یہ بیانیہ دیا گیا تاکہ اپنے خلاف آنے والے مموع فنڈنگ اور توشہ خانہ ریفرنس سے توجہ ہٹائی جائے اور توجہ ہٹاتے وہ اتنا آگے نکل گئے کہ انہوں نے بم کو ہی لات مار دی۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ مقدمہ صرف اس بیانیے کے متعلق ہے جو شہباز گل نے ٹی وی پروگرام کے دوران پڑھ کر سنایا مگر لسبیلہ سانحے کے شہدا پر جنہوں نے مہم چلائی ہے اس پر ٹیم بنی ہے اور اب زیادہ تر لوگ معافی مانگ رہے ہیں مگر یہ ثاب ہو چکا ہے کہ اس پوری گندی مہم کے پیچھے تحریک انصاف کا ہاتھ ہے۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سربراہ عمران خان، نائب صدر فواد چوہدری اور دیگر رہنمائوں کے مطابق پی ٹی آئی رہنما شہباز گل کو اسلام آباد کے بنی گالا چوک سے ‘اغوا’ کر لیا گیا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری اپنے ایک بیان میں فواد چوہدری نے کہا کہ شہباز گل کو بنی گالا چوک سے بغیر لائسنس نمبر پلیٹ والی گاڑیوں میں سوار لوگوں نے اٹھایا۔
پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے ٹوئٹر پر واقعے کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے اسے گرفتاری کے بجائے ‘اغوا’ قرار دیا۔سابق وزیراعظم نے ٹوئٹر پر جاری اپنے پیغام میں کہا کہ کیا ایسی شرمناک حرکتیں کسی جمہوریت میں ہو سکتی ہیں؟ سیاسی کارکنوں کے ساتھ دشمن جیسا سلوک کیا جاتا ہے۔عمران خان نے کہا کہ یہ سب بیرونی پشت پناہی سے مسلط کی جانے والی مجرموں کی سرکار کو ہم سے تسلیم کروانے کے لیے کیا جارہا ہے۔



