اہلیان چھیلو ہائوسنگ اتھارٹی کی ظالمانہ پالیسیوں کے خلاف ڈٹ گئے مبینہ آپریشن کی اطلاعات پر ماحول گرم ، متاثرین نے ڈنڈے اور سوٹے اٹھالئے
معاملات آنکھیں پھوڑنے اور ٹانگیں توڑنے تک پہنچ گئے ،اپنی عزت اور گھروں کی حفاظت کرنا جانتے ہیں،زبردستی تو دور کی بات کسی نے میلی آنکھ سے بھی ہمارے گھروں کی طرف دیکھا تو اس کی آنکھیں پھور دیں گے ، متاثرین کا عزم
افسران کی کرپشن اور اقربا ء پروری کی سزا ہمیں اور ہمارے معصوم بچوں کو نہ دی جائے ، وفاقی وزیر انسانی حقوق ،وزیر ہائوسنگ و تعمیرات اور ارباب اختیار سے اصلاح احوال کا مطالبہ
اسلام آباد:فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہائوسنگ اتھارٹی اور متاثرین g14/1 کے درمیان تنازع شدت اختیار کر گیا ہے۔ ہائوسنگ اتھارٹی کے ڈی جی کی جانب سے مبینہ آپریشن کی دھمکی کے بعد ماحول انتہائی کشیدہ ہو گیا ہے ،فریقین کی جانب سے کوئی لچک نہ دکھائے جانے کے باعث علاقے میں کسی بھی وقت مسلح تصادم کا خطرہ اور قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کا اندیشہ ہے۔ تفصیل کے مطابق G14/1 کے متاثرین اور فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہائوسنگ فائونڈیشن کے درمیان متاثرین کو پلاٹوں کی الاٹمنٹ اور معاوضوں کی ادائیگی کے معاملے پر تنازعہ جوگزشتہ سترہ سالوں سے چل رہا ہے میں اس وقت شدت آگئی جب گزشتہ دنوں ہائوسنگ اتھارٹی کے ڈی جی نے متاثرین کو دھمکی دی کہ اگر انہوں نے ہائوسنگ اتھارٹی کے تجویز کردہ ریٹ جو 17 سال قبل لگائے گئے تھے اور اس وقت بھی یہ معاوضہ انتہائی کم ہونے کے باعث متاثرین نے لینے سے انکار کر تے ہوئے اسے بڑھانے کا مطالبہ کیا تھا لیکن ہائوسنگ اتھارٹی نے یہ مطالبہ ماننے سے انکار کر دیا اور یہ تنازعہ تاحال حل نہ ہوسکا ہے۔متاثرین کا کہنا ہے کہ جس وقت سیمنٹ کی بوری 180 روپے کی تھی اس وقت بھی یہ معاوضہ 1700 فی سکئیر فیٹ تھا جو اب بھی سترہ سال گزرنے کے بعد جب سیمنٹ کی بوری 1100 روپے کی ہو چکی اور اسی طرح دیگر تعمیراتی میٹیرل بھی انتہائی مہنگا ہے ہمیں کسی صورت اس قدر کم معاوضہ قبول نہیں۔ اس تنازے کی وجہ سے جس کی وجہ سے سینکڑوں الاٹی حضرات G14 سیکٹر میں پلاٹ الاٹ ہوئے تھے پلاٹ کی تمام رقم ادا کرنے کے باوجود انہیں اپنے پلاٹ کا قبضہ نہ مل سکا اور وہ اپنا گھر بسانے کی آرزو لئے اپنے ابدی گھر کو روانہ ہو چکے ہیں ۔
گزشتہ دنوں جب ڈی جی کی جانب سے یہ دھمکی سامنے آنے کے بعد کہ اگر آپ اس سترہ سال قبل مقررہونے والے معاوضے پر راضی نہ ہوئے تو ہم زبردستی آپ کے گھر گرا دیں گے ۔ جس پر متاثرین اشتعال میں آگئے اور مذاکرات کا جارہ سلسلہ منقطع ہو گیا ۔
مذکورہ دھمکی کے بعد علاقے میں ایک گرینڈ جرگہ ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ ہائوسنگ اتھارٹی کی انسان دشمن پالیسیوں کے خلاف ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا اور کسی بھی صورت اس ظلم کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اس موقع پر متاثرین کے نمائندوں نے فیصلہ کن انداز میں واضح کیا کہ ہم ،اپنی عزت اور گھروں کی حفاظت کرنا جانتے ہیں،زبردستی تو دور کی بات کسی نے میلی آنکھ سے بھی ہمارے گھروں کی طرف دیکھا تو اس کی ٹانگیں توڑ دیں گے اور ظالموں کی آنکھیں پھور دیں گے۔
اس موقع پر مساجد سے اعلانات کئے گئے کہ تمام لوگ احتجاج کے لئے تیار ہو جائیں ہمارا احتجاج پرامن ہوگا لیکن اگر کسی نے زبردستی کرنے کی کوشش کی تو اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جائے گا۔ انہوں نے ڈی جی کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ آپریشن تو دور کی بات آپ گائوں کی کسی گلی سے گزر کر دکھا دیں تو آپ کو چھٹی ک دودھ یاد دلادیں گے۔
کئی گھنٹے جاری رہنے والے اس گرینڈ جرگے میں بعض افراد نے تجویز کیا کہ اس سلسلے میں ارباب اختیار سے ملا جائے اور اصلاح احوال کی کوئی راہ نکالی جائے۔
اس موقع پر سب حاضرین نے دعائے خیر کر کے عہد کیا کہ اپنی جانیں دے دیں گے لیکن کسی زیادتی کو برداشت نہیں کریں گے ۔


