ہیٹنگ ٹوبیکو پراڈکٹس پر12 سے زیادہ ممالک پابندی لگا چکے ہیں اور پاکستان میں انہیں قانونی شکل دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ثناہ اللہ گھمن
تمباکو انڈسٹری ایک مرتبہ پھر پالیسی سازوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔صوفیہ منصوری

اسلام آباد:ہیٹنگ تمباکو پرڈکٹس بھی انسانی صحت کے لیے اسی طرح نقسان دہ ہیں جیسے باقی تمباکو پراڈکسٹس۔ تمباکو انڈسٹری ایک مرتبہ پھر پالیسی سازوں کو گمراہ کر کے ایک نئی نقصان دہ پراڈکٹ کو پاکستان میں لیگل کرنے کی کوشش کر رہی ہے جس پر دنیا کے 12 سے زیادہ ممالک جن میں آسٹریلیا، برازیل، ناروے اور سنگاپور شامل ہیں پا بندی لگا چکے ہیں اور یورپ بھی اس پر پابندی لگانے جا رہا ہے۔ یہ بات پناہ کے زیر اہتمام ‘تمباکو مافیا کے پالیسی ساز اداروں کو گمراہ کرنے ہتھکنڈے” کے عنوان سے ایک مشاورتی اجلاس میں کہی گئی جو مری کے ایک مقامی ہوٹل میں ہوا۔ اجلاس کی میزبانی پناہ کے سیکریٹری جنرل ثناہ اللہ گھمن نے کی۔ مہمانوں میں پارلیمانی سیکریٹری ہیلتھ ڈاکٹر شازیہ سومرو، قومی اسمبلی کے ممبران ڈاکٹر نثار چیمہ، عظمی جدون، نزہت پٹھان، نوید انور جیوا، ڈاکٹر ثمینہ مطلوب، زہرا فاطمی، رامیش لال، پارلیمانی سیکریٹری تعلیم وجییہ قمر، سینییٹزز ستارہ ایاز، جان مہتاب حسین، وزیراعظم کے مشیر اقبال ظفر جھگڑا، اور ایکو سے مہوش ظہیر اور سمیرا خالد شامل تھے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوے ڈاکٹرنثار چیمہ نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیع عوام کی صحت ہوتی ہے اور ہم عوام کی صحت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ تمباکو انڈسٹری اگرچہ بہت طاقتور ہے لیکن ہم عوام کی صحت کو بچانے کے لیے ہر حد تک جائیں گے اور اسمبلی میں قانون سازی کے لیے آواز اٹھاہیں گے۔ ڈاکٹر ثمینہ مطلوب نے کہا کہ تمباکو انسانی صحت کے لیے انتہائی نقصاندہ ہے۔ ان پر بہت بھاری ٹیکس ہونا چاہیے اور ان کے قوانین پر سختی سے عمل درامد ہونا چاہیے۔ زہرہ فاطمی نے کہا کہ انسانی صحت کے لیے سیگریٹ سے زیادہ نقصاندہ کوئی چیز نہیں ہے۔ پھیپھڑوں کے کینسر سمیت بہت ساری بیماریوں کی سب سے بڑی وجہ تمباکو نوشی ہے۔ اس کو عوام کی پہنچ سے دور رکھنے کے لیے ان پر بھاری ٹیکسز عائد کیے جائیں۔ ستارہ ایاز نے کہا کہ ضروریات زندگی کی بجائے تمباکو جیسی مضر صحت اشیا پر ٹیکس بڑھنا چاہیے۔ اقبال ظفر جھگڑا نے کہا کہ پناہ لوگوں کی صحت کے لیے وہ کام کر رہا ہے جو حکومتوں کے کرنے کا ہے۔ ہم تمباکو مافیا کے ہتھکنڈوں کو بے نقاب کرنے کے پناہ کے اس مشن کے ساتھ کھڑے ہیں۔وجیہ قمر نے کہا کہ نوجوان ہماری قوم کا مستقبل ہیں ہمیں ہر حال میں انہیں تمباکو جیسی نشہ آور اشیا سے بچانا ہو گا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ثناہ اللہ گھمن نے کہا کہ ۔ پناہ انڈسٹری کے ان ہتھکنڈوں کو پہلے بھی بے نقاب کر تی رہی ہے اور آگے بھی اپنے نوجوانوں کو اور پاکستان کے مستقبل کو بچانے کے لیے اپنا کرادار ادا کرتی رہے گی۔ انڈسٹری کے انہی حربوں کی وجہ سے پاکستان میں ہر روز1200 نئے بچے تمباکو نوشی شروع کر رہے ہیں جس کے صحت اور معاش پر خوفناک نتائج مرتب ہو رہے ہیں۔ اب یہ ہیٹنگ تمباکو پراڈکٹس کو یہ کہہ کرلیگل کروانا چاہتے ہیں کہ یہ صحت کے لیے کم نقصان دہ ہیں اور اس سے کم دھواں نکلتاہے۔حالانکہ ان کے بھی صحت پر وہی نقصان دہ اثرات ہیں جوسیگریٹ کے ہوتے ہیں اور اس کے علاوہ بھی اس میں کچھ نقصان دہ کیمیکلز شامل ہیں۔ حکو مت مائرین صحت اور تمام اسٹیک ہولڈرز کوبلا کر اس کے صحت اور اکانومی پر ہونے والے نقصانات پرمشاورت کرئے ہم نے وزیراعظم اور کابینہ کو اس سلسلے میں خطوط بھی لکھے ہیں کہ اسے کابینہ کے ایجنڈے سے فی الفور نکالا جائے اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو بلا کر اس کے صحت اور اکانومی پر ہونے والے اثرات پر مشاورت کی جائے۔ہماری پارلیمینٹیرینز سے درخواست ہے کہ ہماری ان معروضات کو سنا جاے اور اس پر عمل درامد کیا جاے کیونکہ اس کا برہ راست تعلق انسانی زندگیوں سے ہیاور تمباکو انڈسٹری صرف اپنے منافع کی خاطر لوگوں کو ہلاکت میں ڈال رہی ہے۔ صوفیہ منصوری نے کہا کہ تمباکو انڈسٹری نت نئے ہتھکنڈوں سے پالیسی میکرز کو گمراہ کر رہی ہوتی ہے۔ کبھی یہ ویلو کے نام سے پراڈکٹ لا رہے ہوتے ہیں اور کبھی شیشہ۔ پالیسی ساز اداروں کو انڈسٹری کے ہتھکنڈوں کو سمجھنا ہوگا۔ہمارا حکومت سے پرزور مطالبہ ہے کہ انڈسٹری کے مفاد کے لیے عوام کی صحت پر compromiseنہ کیا جائے۔ پارلیمینٹیرینز نے کہا کہ وہ پناہ وہ کام کر رہا ہے جو حکومت کو کرنے چاہییں ۔ اگرچہ تمباکو انڈسٹری بہت طاقتور ہے لیکن حکومت کے لیے لوگوں کی صحت اولین ترجیع ہے۔ ہیٹنگ پراڈکٹس کے حوالے سے پارلیمان میں آواز اٹھائیں گے اور ان کو لیگل کرنے کی مخالفت کریں گے۔




