افغان فورسز کی پاکستانی علاقوں پر گولہ باری، دو بچوں سمیت 5 شہری شہید، 17 زخمی

چمن: افغان فورسز کی پاکستانی علاقوں پر گولہ باری سے 5 شہری شہید اور 17 زخمی ہو گئے ہیں۔ جس کے باعث باب دوستی کو بھی بند کر دیا گیا ہے اور با ب دوستی کے دونوں جانب مال بردار اور خالی ٹرکوں کی لائیں لگ گئی ہیں۔ افغان فورسز کے فائر کیے گئے گولے گلدار باغیچہ، بارڈر روڈ اور مال روڈ پر گرے، جس سے شہادتیں ہوئیں۔ذرائع کے مطابق پاکستانی فورسز کی جانب سے افغان فورسز کو گولہ باری کا بھرپور جواب دیا گیا، جس سے سرحد پار بھی نقصانات کی اطلاعات ہیں۔
اتوار کو بلوچستان کے علاقے چمن میں بازار کے قریب افغان سیکیورٹی فورسز کی جانب سے ہونے والی شدید گولہ باری میں دو بچوں سمیت کم از کم پانچ افراد جاں بحق اور 20 زخمی ہونے کی طلاعات ہیں۔

ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر (ڈی ایچ کیو) ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر مالک کے مطابق کم از کم آٹھ زخمیوں کو مزید علاج کے لیے کوئٹہ منتقل کیا گیا ہے۔ ہسپتال انتظامیہ نے ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔چمن سے دو لاشوں اور چھ زخمیوں کو سول ہسپتال کوئٹہ منتقل کیا گیا ہے۔ جن میں ایک بچہ اور ایک شخص شامل ہیں۔ جبکہ زخمیوں میں ایک بچی اور پانچ بڑے شامل ہیں۔ہسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ مزید لاشیں اور زخمیوں کی منتقلی کا امکان ہے۔
زمین کا تنازعہ
ذرائع کا کہنا ہے کہ جھڑپ چمن کی پاک افغان سرحد کلی شیخ لال محمد پر افغان اور پاکستانی حکومت کے درمیان زمین کے تنازعے پر شروع ہوئی، دونوں فورسز کے درمیان لڑائی میں بھاری ہتھیاروں کا آزادانہ استعمال کیا جارہا ہے۔
پاکستان کی جانب پر بارڈر سے ملحقہ علاقوں میں خوف و ہراس پھیل چکا ہے۔ افغان حکومت کی جانب سے کئی گولے پاکستان میں داغے گئے ہیں۔ جبکہ پاک افغان سرحد کو ٹریفک کی آمدورفت کیلئے بند کردیا گیا ہے۔اس سے قبل 15 نومبر کو بھی چمن میں افغان حدود سے نامعلوم مسلح شخص کی فائرنگ سے ایک سیکیورٹی اہلکار شہید اور دو زخمی ہوئے تھے، جس کے بعد پاک افغان سرحد کو غیر معینہ مدت کے لیے بند کردیا تھا۔واقعے کے بعد سرحد کو بند کرنے سے دونوں ممالک کے درمیان افغان ٹرانزٹ تجارت معطل ہوگئی تھی۔
دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ پاک افغان بارڈر پر جاری جھڑپ میں بارڈر روڈ پر ایف سی قلعے کے نزدیک راکٹ گرنے سے بھی ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ حالات تاحال کشیدہ ہیں اور بھاری ہتھیاروں کے استعمال سے اب بھی شہر میں دھماکوں کی آوازیں سنی جارہی ہیں۔

مناسب جواب دیا گیا لیکن شہریوں کو نشانہ نہیں بنایا گیا، آئی ایس پی آر
پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ افغان بارڈر فورسز نے بلوچستان کے چمن میں شہری آبادی پر توپ خانے اور مارٹر سمیت بھاری ہتھیاروں سے بلااشتعال اور اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں چھ شہری شہید اور 17 افراد زخمی ہوئے۔
بیان میں کہا گیا کہ پاکستانی سرحدی دستوں نے بلاوجہ جارحیت کے خلاف مناسب جواب دیا ہے، لیکن علاقے میں معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے سے گریز کیا ہے۔آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ پاکستان نے صورتِ حال کی سنگینی کو اجاگر کرنے کے لیے کابل میں افغان حکام سے بھی رابطہ کیا ہے اور مستقبل میں اس طرح کے کسی بھی واقعے کی تکرار کو روکنے کے لیے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

وزیراعلی بلوچستان کا اظہارِ افسوس
وزیراعلی بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے پاک افغان چمن میں سرحد پار سے فائرنگ اور گولہ باری پر تشویش اور شہریوں کے جاں بحق اور زخمی ہونے پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔وزیر اعلی بلوچستان کا کہنا ہے کہ امید ہے وفاقی حکومت سفارتی سطح پر اس مسئلہ کے فوری اور مثر حل کو یقینی بنائے گی۔
میر عبدالقدوس بزنجو نے ضلعی انتظامیہ چمن کو متاثرہ شہریوں کو بھرپور معاونت کی فراہمی کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ سول ڈیفنس کے ادارے اور ضلعی انتظامیہ شہریوں کو ہنگامی صورتِ حال میں مدد و رہنمائی فراہم کریں۔وزیراعلی نے سیکریٹری صحت کو کوئٹہ کے اسپتالوں میں ایمرجنسی کے نفاذ اور زخمیوں کو فوری طور پر کوئٹہ منتقل کرنے کی بھی ہدایت کی۔انہوں نے جاں بحق افراد کے لواحقین سے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے ان کی کی جلد صحت یابی کی دعا بھی کی۔

حملہ آوروں کی گرفتاری کا مطالبہ
صوبائی وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے مطالبہ کیا ہے کہ افغان حکام حملہ آور کو گرفتار کرکے پاکستان کے حوالے کریں اور کابل اور اسلام آباد کی سطح پر جلد فلیگ میٹنگ کا انعقاد کیا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ قیام امن، انسداد دہشت گردی اور دوطرفہ تعلقات کی بہتری کے لیے موثر سرحدی انتظام ناگزیر ہے۔