ملک میں فرقہ واریت نہیں بلکہ دہشت گردی ہے جس کا کوئی مکتب، مسلک اور ملک نہیں ہوتا

اسلام آباد:تحریک نفاذ فقہ جعفریہ پاکستان کے سربراہ علامہ آغا سید حسین مقدسی نے کہا ہے کہ پاکستان فکر اقبال، بصیرت بابائے قوم اور مسلمہ مکاتب کی مشترکہ قربانیوں کا ثمر ہے، علیحدہ اسلامی مملکت کے تصور کو راجہ محمود آباد کی مالی مدد سے منزل مراد ملی، علمائے حق نے نظریہ اساسی اسلام کو پاکستان کا سپریم لا بنانے میں اہم کردار ادا کیا جس کی سند 1973 کا متفقہ آئین ہے، ملک کا سرکاری مذہب اسلام ہے جو سنی شیعہ سے عبارت ہے، مکتب تشیع کے عقائد اور حقوق سے دستبردار نہیں ہوں گے، علامہ بشیر انصاری تحریک پاکستان کے سپاہی تھے جنہوں نے انگریز دور میں عظیم خدمات سر انجام دے کر فاتح ٹیکسلا کا لقب پایا،مرحوم نے اپنی جماعت کو تحریک نفاذ فقہ جعفریہ میں ضم کرکے قوم کو مرکزیت کا شعور دیا، خطِ آقائے موسوی پر گامزن ہو کر ملک کو امن کا گہوارہ بنانے کے لیے عساکرِ پاکستان کی پشت پر کھڑے ہیں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے ٹی این ایف جے پنجاب کے نائب صدر علامہ علی شیبہ انصاری کی میزبانی میں فاتح ٹیکسلا علامہ بشیر انصاری مرحوم کی رہائشگاہ پر عقائد و نظریات اور علما حقہ کے کردار کے موضوع پر کانفرنس سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ٹی این ایف جے کے سیکرٹری جنرل علامہ راجہ بشارت حسین امامی،مرکزی نائب صد ر آغا سید محمد مرتضی موسوی ایڈووکیٹ، مرکزی نائب صدر آغا سید علی روح العباس موسوی ایڈووکیٹ، ، ایڈیشنل سیکرٹری جنرل علامہ سیدقمرحیدرزیدی، علما کرام، ٹی این ایف جے کے مرکزی عہدیداران، ذیلی شعبہ جات کے سربراہان اور مقامی رہنماں کرنل(ر) ذیلدار کاظم رضا، سید چن شاہ کاظمی، سردار عبادت حسین شاہ، سیددستار علی، یلدارسید صغیر حسین شاہ،ذیلدار سیدعطرت حسین شاہ، پریس کلب ٹیکسلا کے صدر، مقامی صحافیوں، کاروباری، سماجی شخصیات کے علاہ مختلف مکاتب کے عمائدین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
علامہ مقدسی نے اپنے صدارتی خطاب میں باور کرایا کہ فرمان صادق آل محمد کے مطابق علما کے قلم کی سیاہی شہدا کے خون سے افضل ہے، جب تک زمانہ ہے اسلام کی ترویج اور فروغ کے لیے علمائے حقہ کا کردار باقی رہے گا۔ انہوں نے پاکستان کی تشکیل اور تعمیر و ترقی میں مذہبی اور سیاسی عمائدین کے کردار کو سراہتے ہوئے یہ بات زور دیکر کہی کہ ہم قائد ملت جعفریہ آغاسیدحامدعلی شاہ موسوی کے اصولی موقف پر آج بھی قائم ہیں کہ ملک میں فرقہ واریت نہیں بلکہ دہشت گردی ہے اور سب مانتے ہیں کہ دہشت گرد کا کوئی مکتب، مسلک اور ملک نہیں وہ صرف دہشت گرد ہے لہذا اسے اسی تناظر میں دیکھا اور نمٹا جائے۔ آغا مقدسی نے کہا کہ آقائے حامد موسوی نے مکتبِ تشیع اور پوری قوم کو افراط و تفریط سے بچا کر راہِ اعتدال پر گامزن کیا اور ہم بھی انکے اصولوں ولایت، عزاداری، حرمت، سادات، احترام مرجعیت اور مرکزیت پر قائم رہیں گے اور دین و وطن کے لیے ہر قربانی پیش کرنے کے لیے تیار ہیں۔ہمارے ٹکڑے ٹکڑے ہو سکتے ہیں مگر پاکستان کے ٹکڑے نہیں ہونے دیں گے۔
کانفرنس سے سیکرٹری جنرل علامہ راجہ بشارت حسین امامی اور مرکزی سیکرٹری اطلاعات علامہ سید قمر حیدر زیدی نے بھی خطاب کیا جبکہ علامہ علی شیبہ انصاری نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا۔ ٹی این ایف جے ٹیکسلا کے میزبانوں سید ناصر حسین شاہ اور یاسر حسین نقوی نے شرکا سے اظہارِ تشکر کیا۔ معروف قانون دان سید جابر حسین نقوی ایڈووکیٹ نے نظامت کے فرائض سر انجام دئیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔




