آخری میچ میں افغانستان کو 66 رنز سے شکست دی تاہم 3 میچز کی سیریز 1-2 سے افغانستان کے نام رہی
شاداب خان نے میچ کے دروان ٹی 20 میں اپنی وکٹوں کی سنچری مکمل کی ، احسان اللہ کے بائونسر نے شعیب اختر کی یاد تازہ کر دی

شارجہ:شارجہ میں کھیلے جانے والی ٹی 20 سیریز کے آخری میچ میں پاکستان کرکٹ ٹیم نے افغانستان کو 66 رنز سے شکست دے دی، افغان ٹیم پاکستان کے خلاف کلین سوئپ نہ کرسکی، 3 میچز کی سیریز 1-2 سے افغانستان کے نام رہی۔پاکستان کے 183 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پوری افغان ٹیم 19 ویں اوور میں 116 رنز بنا سکی اور اسے میچ میں 66 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
میچ میں افغانستان نے ٹاس جیت کر پاکستان کو بیٹنگ کی دعوت دی۔پاکستان کی جانب سے اننگز کا آغاز مایوس کن رہا اور محمد حارث ایک رن بنا کر آٹ ہوگئے، اس کے بعد طیب طاہر 10 رنز بنا کر کیچ ہوئے جبکہ عبداللہ شفیق سیریز میں کھاتا کھولنے میں کامیاب ہوگئے تاہم وہ بھی 23 رنز بناکر پویلین لوٹ گئے۔اس کے بعد صائم ایوب اپنی نصف سنچری مکمل نہ کرسکے اور 49 رنز پر کریم جنت کا شکار بنے، عماد وسیم 13، افتخار احمد 31 اور شاداب خان 28 رنز بناکر آٹ ہوئے۔گرین شرٹس نے مقررہ 20 اوورز میں 7 وکٹوں کے نقصان پر 182 رنز بنائے۔افغانستان کی جانب سے مجیب الرحمن نے دووکٹیں حاصل کیں جبکہ محمد نبی، فضل حق فاروقی، راشدخان اور کریم جنت نے ایک ایک وکٹ لی۔
پاکستان کے 183 رنز کے ہدف کے تعاقب میں افغان ٹیم کا آغاز مایوس کن رہا اور وقفے وقفے سے ان کی وکٹیں گرتی رہیں۔افغان ٹیم کا کوئی بھی بیٹر پاکستان کی بولنگ کے سامنے مزاحمت نہ کرسکا اور 19 ویں اوور میں افغان ٹیم 116 رنز بناکر آٹ ہوگئی، نجیب اللہ زادران ریٹائرڈ ہرٹ ہونے کے باعث بیٹنگ کیلئے نہیں آئے، یوں پاکستان نے 66 رنز سے فتح حاصل کی۔افغانستان کے عظمت اللہ عمر زئی 21 اور رحمان اللہ گرباز 18 رنز بنا کر نمایاں رہے۔ پاکستان کی جانب سے شاداب خان اور احسان اللہ نے 3، 3 جبکہ عماد وسیم، زمان اور محمد وسیم نے ایک ایک کھلاڑی کو آٹ کیا۔افغانستان نے سیریز میں 1-2 سے اپنے نام کی، یہ پاکستان کیخلاف افغانستان کی اولین سیریز فتح ہے۔
شاداب خان کو مین آف دی میچ جبکہ افغان پلیئر محمد نبی کو مین آف دی سیریز کا ایوارڈ دیا گیا۔
سیریز کے آخری میچ میں فتح کے بعد قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان شاداب خان نے کہا ہے کہ سیریز کا اختتام جیت پرکرنا چاہتے تھے جس میں کامیاب رہے۔شاداب نے کہا کہ افغانستان کے خلاف ٹی 20 سیریزکا مقصد نوجوان کرکٹرزکو موقع دینا تھا، امید ہے نوجوان کھلاڑیوں کوان میچزسے اعتماد ملے گا۔

میچ میں شاداب نے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنلز میں وکٹوں کی سنچری بھی مکمل کی، وہ مینز ٹی ٹوئنٹی میں یہ کارنامہ سر انجام دینے والے پہلے پاکستانی جبکہ مجموعی طور پر ساتویں بولر ہیں۔شاداب خان نے یہ سنگ میل اپنے کیریئر کے 87 ویں ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں عبور کیا۔افغانستان کے عثمان غنی عبداللہ شفیق کے ہاتھوں کیچ ہوکر شاداب خان کا 100 واں شکار بنے۔
وہ مینز ٹی 20 انٹرنیشنلز میں 100 ٹی ٹوئنٹی وکٹیں لینے والے پہلے پاکستانی اور مجموعی طور پر ساتویں بولر ہیں، ان سے قبل ٹم ساتھی، شکیب الحسن، راشد خان، اش سودھی، لاستھ ملنگا اور مستفیض الرحمان بھی ٹی 20 انٹرنیشنلز میں وکٹوں کی سنچری مکمل کرچکے ہیں۔شاداب خان 87 میچز میں 101 وکٹیں حاصل کرچکے ہیں جبکہ سابق اسٹار آل راونڈر شاہد آفریدی نے 97 اننگز میں 98 وکٹیں حاصل کی تھیں۔سعید اجمل نے 64 میچز میں 85 اور عمر گل نے 60 میچز میں 85 وکٹیں حاصل کر رکھی ہیں، جبکہ حارث رف 57 ٹی ٹوئنٹی میچز میں اب تک 72 وکٹیں حاصل کرچکے ہیں۔
افغانستان کے خلاف تیسرے اور آخری ٹی 20 میچ میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے فاسٹ بولر احسان اللہ نے بانسر نے شعیب اختر کی یاد تازہ کردی۔ احسان اللہ کا 147.5 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے پھینکا گیا بانسر افغان بلے باز نجیب اللہ زردارن کے چہرے پر جا لگا جس کے بعد انہیں زخمی حالت میں پویلین لوٹنا پڑنا۔

احسان اللہ کے خطرناک بانسر کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہورہی ہے جبکہ شائقین کرکٹ فاسٹ باولر شعیب اختر کو بھی یاد کرنے لگے۔سوشل میڈیا پر شعیب اختر کے باونسرز سے زخمی ہونے والے ویسٹ انڈین لیجنڈ برائن لارا اور ساتھ افریقن بلے با گیری کرسٹن کی وڈیوز شیئر کی گئیں۔نجیب اللہ زردران کریز پر بیٹنگ کے لئے آئے ہی تھے کہ احسان اللہ نے بانسر کروایا جو ان کے چہرے پر لگا جس کے بعد انہوں نے ہیلمٹ اتارا تو خون نکلنے لگا۔




