چیف جسٹس کے ازخودنوٹس سے متعلق بل کیخلاف درخواستیں مقرر، 8 رکنی بینچ سماعت کرے گا

بنچ میں چیف جسٹس کے قریبی ساتھی وہ جج بھی شامل ہیں جن کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس بھی دائر کیا جاچکا ہے

اسلام آباد: سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 کے خلاف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر کر دی گئی ہیں۔ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کے خلاف درخواستوں کی سماعت کے لیے چیف جسٹس کی سربراہی میں 8 رکنی بینچ تشکیل دیا گیا ہے، درخواستوں پر سماعت 13 اپریل بروز جمعرات صبح ساڑھے 11 بجے ہو گی۔
بینچ میں چیف جسٹس کے علاوہ جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس مظاہر نقوی، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس عائشہ ملک کے علاوہ جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس شاہد وحید بھی شامل ہیں۔
یاد رہے کہ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کے خلاف 4 درخواستیں عدالت عظمی میں دائر کی گئی تھیں، بل کے خلاف درخواستیں ایڈووکیٹ خواجہ طارق رحیم اور دیگر نے دائر کی تھیں۔
یاد رہے کہ وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظور کر کے توثیق کے لیے صدر پاکستان کو بھیجا تھا تاہم صدر عارف علوی نے بل نظر ثانی کے لیے واپس اسپیکر کو بھیج دیا تھا۔
دو روز قبل حکومت نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے منظور کروا لیا تھا۔ اب بل کو دوبارہ صدر کے پاس بھیجا جائے گا، اگر صدر نے 10 روز کے اندر بل کی منظوری نہ دی تو بل خود بخود قانون کا حصہ بن جائے گا۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کے خلاف درخواستوں کی سماعت کے لئے جو بنچ مقرر کیا گیا ہے اس میں وہ چار جج بھی شامل ہیں جن کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر ہے ۔ علاوہ ازیں سپریم کورٹ کے اس وقت تک کے متنازعہ ترین جج جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی اور اعجاز الاحسن بھی اس بنچ کا حصہ ہیں۔