مقصد چیف جسٹس کو آئینہ دکھانا تھا یا انہیں ان کی اوقات یاد دلانی تھی
کیا اعلیٰ عہدوں پر بیٹھے اشخاص بیگمات اور بچوں کی خواہشات پر ملک چلا رہے ہیں
مبینہ آدیو ٹیب سے ثابت ہوتا ہے تمام تر کوششوں کے باوجود چیف جسٹس پیچھے ہٹنے پر آمادہ نہ تھے
کیا سیکورٹی اور حساس اداروں کی چیف جسٹس کو فیصلے پر نظر ثانی کے حوالے سے بریفنگ بے نیتجہ رہی تھی
کیا طاقتور شخصیات کی بیگمات ان سے بھی طاقتور ہیں،مولانا فضل الرحمان کا سپریم کورٹ پر گرجنا برسنا بھی سمجھ میں آتا ہے
کیا نئی بدلتی صورت حال میں ریاست مدینہ کے قاضی نوکری بچائیں گے یا دوستی نبھائیں گے

اسلام آباد(تجزیہ :محمد رضوان ملک ) عید کے دوسرے دن چیف جسٹس آف پاکستان کی ساس ماہ جبین نون اور معروف قانون دان خواجہ طارق رحیم کی اہلیہ رافیعہ طارق کے درمیان سپریم کورٹ میں زیر سماعت پنجاب الیکشن کیس کے حوالے سے لیک ہونے والی مبینہ آڈیو نے ہلچل مچا دی ہے ۔اس آڈیو نے جہاں چیف جسٹس آف پاکستان ان کی فیملی اور عمران خان کی عید کا مزا کر کراکر دیا ،وہیں پی ٹی آئی کے ورکرزکے حوصلے پست کرنے کے ساتھ ساتھ سپریم کورٹ کی گرتی ساکھ کے حوالے سے بھی تباہ کن ثابت ہوئی ہے۔
تاہم یہ مبینہ آڈیوملک میں سنجیدہ طبقے کے لئے کئی ایک سوال چھوڑ گئی ہے۔ جس میں سے پہلا سوال یہ ہے کہ اس ویڈیو کا مقصد کیا تھا کیا اس کا مقصد چیف جسٹس کو آئینہ دکھانا تھا یا انہیں ان کی اوقات یاد دلانا تھی۔
دوسر ا بڑا سوال یہ ہے کہ کیا اعلیٰ عہدوں پر بیٹھے اشخاص بیگمات اور بچوں کی خواہشات پر ملک چلا رہے ہیں ؟کیا طاقتور شخصیات کی بیگمات ان سے بھی زیادہ طاقتور ہیں۔
ایک سوال یہ بھی ہے کہ کیا سیکورٹی اور حساس اداروں کی چیف جسٹس کو فیصلے پر نظر ثانی کے حوالے سے بریفنگ بے نیتجہ رہی تھی اور یہ قیاس آرائیں کہ چیف جسٹس اس بریفنگ کے بعد بیک فٹ پر چلے گئے ہیںمحض قیاس آرائیاں ہی تھیں اور ان اداروں کی تمام تر کوششوں کے باوجود چیف جسٹس اور ان کا تین رکنی بنچ دئیے گئے فیصلے سے پیچھے ہٹنے پر آمادہ نہ تھا۔
اس ساری صورت حال میں مولانا فضل الرحمان کا سپریم کورٹ پر گرجنا برسنا بھی سمجھ میں آتا ہے ۔خا ص کر انہیں چیف جسٹس کی اس بات پر بڑا غصہ تھا کہ اگر عمران انتخابات ملتوی کرنے پر آمادہ ہوں تو پھر عدالت بھی اس آئینی ذمہ داری سے پیچھے ہٹنے کو تیار ہے کہ آئین کے مطابق الیکشن نوے روز میں ہونا ضروری ہیں۔ یعنی عدالت کا تمام آئین اور قانون عمران خان کی خواہشات کے تابع ہے۔ یا پھر انہیں بھی ان آڈیو ٹیپس کے حوالے سے آگاہی تھی ۔
سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا اس نئی بدلتی صورت حال میں ریاست مدینہ کے قاضی (جو آجکل اپنی ہر سماعت کا آغاز قرآن پاک کی تلاوت سے کرتے ہیں اور ساتھ ہی یہ دعا بھی کرتے ہیں کہ اے اللہ مجھے درست فیصلے کرنے کی توفیق عطا فرما)وہ دوستی نبھائیں گے یا نوکری بچائیں گے ، اس بات کا بھی غالب امکان ہے کہ وہ جسٹس سجاد علی شاہ کی طرح پرانی تنخواہ پر بھی کام کرنے پر راضی ہو جائیں۔
تاہم ہم امید کرتے ہیں کہ وہ ریاست مدینہ کے قاضی کا کردار ادا کرتے ہوئے نہ صرف اس آڈیو ٹیپ بلکہ ماضی میں سامنے آنے والی آڈیو ٹیپس کے حوالے سے بھی سو موٹو لیتے ہوئے غیر جانبداری سے ان ٹیپس کے پیچھے موجود خفیہ ہاتھوں کو بے نقاب کریں گے ۔ہوسکتا ہے کہ اب وہ سوچ رہے ہوں کہ جس معزز جج کی ٹیپس کچھ دن پہلے سامنے آئی تھیں اس کو اپنے ساتھ بٹھا کر انہوں نے اپنے ادارے کو عوام کی نظروں میں اٹھانے کی بجائے مزید گرایا ہے۔
اب وقت آگیا ہے کہ چیف جسٹس نہ صرف اپنے گریبان میں جھانکیں بلکہ ماضی میں سامنے آنے والی اس طرح کی آڈیو ٹیپس اور واٹس اپ کالز پر ہونے والے فیصلوں پر بھی نظر ثانی کرتے ہوئے مثال قائم کریں۔ امید ہے کہ اس میں ان کے سنئیر ساتھی جج صاحبان بھی ان کا ساتھ دیں گے۔



