صرف دو آڈیوز کی مار شخص نے کئی دنوں سے اپنے ادارے اورحکومتی سیاسی نظام کو یرغمال بنا رکھا تھا
ثابت ہوگیا چیف جسٹس آئین و قانون کو مدنظر رکھ کر نہیں حالات و واقعات کو مدنظر رکھ کر فیصلے کر رہے تھے
دو آڈیوز چیف جسٹس سمیت پبلک کو بھی سنوائی گئیں لیکن جو چیف جسٹس کو دکھائی گئیں ان کی تاب لانا ممکن نہ تھا،ذرائع
دوسری طرف حکومت کو بھی بائونسرز مارنے کی کھلی اجازت تھی ،مولانا فضل الرحمان ، بلاول اور وزیراعظم نے اسکا بھرپور فائدہ اٹھایا
عدالتی شک پر شہباز شریف نے ایوان سے اعتماد کا ووٹ لے لیا چیف جسٹس بھی ساتھی ججز کا اپنے اوپر اعتماد بحال کریںگے؟
سماعت کے دوران ساتھی ججز ایک لفظ نہ بولے ، چیف جسٹس اپنے کاغذ کلئیر کرنے کی کوشش کر تے رہے اورپھر سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی

اسلام آباد(تجزیہ :محمد رضوان ملک)پے درپے حکومتی بائونسرز اور لیک ہونے والی آڈیوز نے تنہاء ہوتے چیف جسٹس کو بالآخر بیک فٹ پر دھکیل دیا بلکہ سوشل میڈیا پر چیف جسٹس کے خلاف شرمناک مہم کے بعد لگتا ہے کہ وہ کریز ہی چھوڑ گئے ہیں۔
27 اپریل اس حوالے سے بڑی اہم تاریخ تھی اور پی ٹی آئی والوں کو یقین تھا کہ چیف جسٹس آج ا س حکومت کو چلتا کر دیں گے اور جلد نئے انتخابات کے بعد ایک بار پھر وزیراعظم عمران خان ہو ں گے۔ اس حوالے سے کچھ دنوں سے چیف جسٹس کو سوشل میڈیا پر ہیرو کے طور پر پیش کیا جارہا تھا لیکن 27 اپریل کی سماعت اور چیف جسٹس کے بیک فٹ پر جانے کے بعد اس وقت کپتان کے چاہنے والوں نے سوشل میڈیا پر ان کے خلاف ایک محاذ کھول رکھا ہے اور طوفان بدتمیزی برپا ہے۔
مقتدر حلقوں کی جانب سے چیف جسٹس کو سمجھانے کی کوشش تو کئی دنوں سے ہورہی تھی کہ وہ نہ صرف عدلیہ کے اندر اپنا اور اپنے ادار ے کا وقار بحال کریں بلکہ عدالتی معاملات کو سیاسی انداز میں چلانے سے گریز کریں لیکن وہ کسی صورت ماننے کو نہ آرہے تھے۔ذرائع کے مطابق اس موقع پر انہیں کچھ آڈیوز سنوائی گئیں اور بعض ویڈیوز دکھائی بھی گئیں لیکن انہیں شاہد اندازہ نہیں تھا کہ کوئی انہیں پبلک کرنے کی جرآت بھی کر سکتا ہے لیکن جب پلوں کے نیچے سے کافی پانی بہ گیا تو آخری حربے کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا گیا جس کی چیف جسٹس تاب نہ لا سکے اور وہ بھی پانی کے ساتھ ہی بہ گئے۔
اس دوران حکومتی اتحادیوں نے بھی چیف جسٹس پر اپنے بائونسرز جاری رکھے۔ مولانا فضل الرحمان کے بعد بلاول اور وزیراعظم شہباز شریف بھی کھل کر میدان میں آگئے۔بلاول نے تو یہاں تک کہ دیا کہ وہ جج بن جائیں یا ٹائیگر فورس بن جائیں۔
نیوٹرلز کی جانب سے واضح اعلان کے باوجود کے وہ ا ب نیوٹرلرز ہو چکے ہیں عمران کے سہولت کار یہ بات ماننے پر آمادہ نہیں تھے۔ جس کی وجہ سے نیوٹرلز کو کھل کر میدان میں آنا پڑا۔
27 اپریل کو پنجاب میں انتخابات کے حوالے سے کیس کی سماعت سے قبل چیف جسٹس سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کارکنوں کے ہیرو تھے اور انہیں خیال تھا کہ چیف جسٹس آج حکومت کو چلتا کر دیں گے۔ اس لئے ان کی تعریفوں میں زمین و آسمان کے قلابے ملائے جارہے تھے۔ لیکن سماعت شروع ہوتے ہی چیف جسٹس کے بجھے چہرے نے ان کی امیدوں پر اوس ڈال دی ۔وہ بولے بھی تو یہ صرف اپنے کاغذ کلئیر کرانے کی ایک کوشش ہی تھی۔
دوران سماعت جب عدالت کی جانب سے کہا گیا کہ ممکن ہے شہباز شریف کے پاس ایوان کی اکثریت بھی نہ ہو تو وزیراعظم شہباز شریف نے تو ایوان سے اعتماد کا ووٹ حاصل کر لیا۔ کیا اب چیف جسٹس بھی ثابت کریں گے کہ انہیں سپریم کورٹ کے تمام ججز کا اعماد حاصل ہے یا ون مین شو کا سلسلہ جاری رہے گا۔
پوری سماعت کے دوران تین رکنی بنچ کے چیف جسٹس کے ساتھی ججز بالکل خاموش بیٹھے رہے اور انہوں نے ایک لفظ تک نہ کہا ایسے لگتا تھا کہ انہیں گن پوائنٹ پر زبردستی بٹھایا گیا ہے یا ہو ججوں کے سٹیچو ز ہیں۔
بہرحال چیف جسٹس کی جانب سے بھی یہ سماعت خالی جگہ پر کرنے یا اپنے کاغذ کلئیر کرانے کی ایک ناکام کوشش ہی تھی انہوں نے اپنی گفتگو سے ثابت کیا کہ وہ مزید کوئی ایڈونچر کرنے کے موڈ میں نہیں ہیں اگر انہیں اجازت دی جائے تو وہ پرانی تنخواہ پر کام کرنا بھی پسند کریں گے۔
ساتھی ججز کا روئیہ دیکھتے ہوئے ، سیاسی جماعتوں کو چند نصیحتیں کرنے اور اپنے کاغذ کلئیر کرنے کے بعد انہوں نے اس اہم کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک لئے ملتوی کر دی۔



