پی این سی اے میں میرٹ کی دھجیاں ؟ گھریلو خانسامہ ڈپٹی ڈائیریکٹر ایڈمن کے مزے لے رہا

خفیہ ہاتھوں نے کلرک کے طور پر بھرتی کروایااور پھر ڈیٹی ڈائیریکٹر ایڈمن کے عہدے پر پہنچا دیا
موصوف نے خود کو ڈائیریکٹر کے لئے بھی شارٹ لسٹ کروالیا، عنقریب بطور ڈائیریکٹر تعیناتی کا امکان

اسلام آباد:پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس (PNCA) میں میرٹ کی دھجیاں بکھیرے جانے کا سلسلہ جاری و ساری ہے۔ ذرائع کے مطابق 2006 ء میں خفیہ ہاتھوں نے گھریلو خانسامہ کو بطور کلرک بھرتی کروایا اور پھر حقداران کا حق مارتے ہوئے ترقیاں دلواتے دلواتے چہیتے کو ڈپٹی ڈائیریکٹر ایڈمن کی پوسٹ پر پہنچا دیا۔ اب موصوف اس قدر طاقتور ہو چکے ہیں کہ انہوں نے خود کو ڈائیریکٹر کی پوسٹ کے لئے بھی شارٹ لسٹ کرا لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق
ڈپٹی ڈائریکٹر ایڈمن جو غیر قانونی طور پر ڈپٹی ڈائریکٹر ایڈمن کی پوسٹ پر تعینات ہیں نے اپنے آپ کو ڈائریکٹر نیشنل پپٹ تھیٹر(NPT) کی پوسٹ کیلئے بھی شارٹ لسٹ کروا لیا ہے جبکہ موصوف کی تعلیم، قابلیت اور تجربہ ڈائریکٹر نیشنل پپٹ تھیٹر(NPT) کی پوسٹ کیلئے اہلیت نہیں رکھتا۔
موصوف کے بارے میں انکشاف ہو ا ہے کہ 2006میں ، رائے رضا حسن کھرل جو اس وقت ڈپٹی سیکریٹری منسٹری آف کلچر تھے انھوں نے اپنے گھریلو خانسامہ کو پہلے PNCAمیں بطور کلرک کنٹریکٹ پر بھرتی کروایا ، اور پھر کچھ ہی عرصے میں کئیر ٹیکر کی مستقل آسامی پر ریگولر کروا لیا، اس کے بعد موصوف کو غیر قانونی طور پر سینئر موسٹ سٹور آفیسر رانا شاہد کو نظر انداز کرتے ہوئے بطور سٹور آفیسر ترقی دی گئی، اسکے بعد ڈپٹی دائریکٹر کی پوسٹ پر بھی ا خورشید احمد کی بھرتی غلط ہوئی جس پر تاحال نیب اور وزارت قومی ورثہ میں انکوائریاں زیر التوا ہیں۔موصوف کروڑوں روپے کی مالی اور انتظامی بے قاعدگیوں میں بھی ملوث ہیں ، لیکن آڈٹ رپورٹس میں آڈیٹرز کی انکوائری کروانے کی سِفارشات کے باوجود PNCAمیں مالی اور انتظامی بے قاعدگیوں پر کوئی انکوائری تا حال شروع نہیں ہوسکی ہے ۔مزید براں خورشید احمد نے حال ہی میں وزیر اعظم کے معاونِ خصوصی برائے قومی ورثہ اور ثقافت ڈویژن امیر مقام کے سیاسی ورکرز ،قریبی ساتھیوں اور ووٹرزکو PNCA میں بھرتی کرنے کے صلے میں اپنے بھائی کو پاکستان اکیڈمی اف لیٹرز میں امیر مقام کے ذریعے تعینات کروانے کا انتظام بھی کر لیا ہے اور اپنی ان خدمات کے صلے میں عنقریب ڈائیریکٹر نیشنل پپٹ تھیٹر تعینات ہونے جارہے ہیں۔
۔۔۔۔۔