کرپٹ اہلکاروں نے چار سو گھروں کا معاوضہ نہ دیا اب چار ہزار سے زاہد گھر فائونڈیشن کے گلے کی ہڈی بن گئے ہیں
اتھارٹی جو اس وقت فائونڈیشن تھی نے 1999 ء میں سیکٹر G13 اور G14/4 ایکوائر کیا
لیکن وسائل ہونے کے باوجود بوجہ سیکٹر G14,1,2,3 کو چھوڑ دیا گیااور مکانات کی تعمیرات کی حوصلہ افزائی کرتے رہے
بعدازاں 2005 ء میں چھ لاکھ تیس ہزار کے حساب سے G14,1,2,3 کی زمین ایکوائر کی لیکن بلڈ اپ پراپرٹی کا معاوضہ نہ دیا
اس وقت علاقے میں چار سو کے قریب گھر تھے اور فائونڈیشن کے پاس متاثرین کو دینے کیلئے دوہزار پلاٹ بھی تھے
2010 ء میں فائونڈیشن نے ایک سروے کیا تو علاقے میں 1800 کے قریب گھر نکلے لیکن پھر بھی بلڈ اپ پراپرٹی کا معاوضہ نہ دیا
ابG14/1.2 میں چھ ہزار کے قریب گھروں کا قبضہ ہائوسنگ اتھارٹی کے گلے کی ہڈی بن چکا ہے
قبضہ کے حصول کے لئے آئے روز کے آپریشنز کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتے ہیں اور ناقابل تلافی جانی نقصان کا اندیشہ ہے
اسلام آباد(تجزیہ:محمد رضوان ملک) پاکستان فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہائوسنگ اتھارٹی نے سال 1999 ء میں اسلام آباد کے سیکٹر G13 اور سب سیکٹر G14/4 ایکوائر کئے لیکن بوجوہ جی چودہ کے سب سیکٹر ون ٹو اور تھری کو چھوڑ دیا حالانکہ اس وقت پورا سیکٹر ایکوائر کرنا آسان تھا کیونکہ اڑھائی سو کے قریب گھر تھے اور لوگ گھر اور زمینیں دینے پر راضی بھی تھے۔اس وقت ہاوئسنگ فائونڈیشن نے دو لاکھ 30 ہزار فی کنال کے حساب سے زمین ایکوائر کی تھی لیکن فائونڈیشن کے منہ کو خون لگا ہوا تھا اس نے اس وقت تو دو لاکھ 30 ہزار فی کنال کے حساب سے زمین خریدنے اور سیکٹر مکمل کرنے سے گریز کیا۔
بعد ازاں 2005 ء میں سیکٹر G14/1,2,3کی زمین ایکوائر کی اور چھ لاکھ 30 ہزار روپے فی کنال کے حساب سے زمین کا معاوضہ دیا ۔اس وقت ان سیکٹرز میں تین سے چار دیہات کے چار سو کے قریب گھر تھے لیکن ہائوسنگ فائونڈیشن کے کرپٹ اہلکاروں نے مکانوں کا معاوضہ دیا اور نہ متاثرین سے مکانوں کا قبضہ لیا بلکہ ہائوسنگ کے کرپٹ اہلکار رقم لے کر مکانات تعمیر کرنے کی حوصلہ افزائی کرتے رہے ۔مکانات کے تعمیر تیزی سے جاری رہی اور 2010 میں فاوئونڈیشن کے اہلکاروں نے ایک سروے کیا تو مکانات کی تعداد اٹھارہ سے انیس سو کے درمیان تھی لیکن پھر بھی بوجوہ بلڈ اپ پراپرٹی کا معاوضہ نہ دیا گیا اور ہائوسنگ کے کرپٹ اہلکار مکانات کی تعمیر کراتے رہے اور آج علاقے میں چھ ہزار کے قریب گھر ہائوسنگ اتھارٹی کا منہ چڑھا رہے ہیں جن کا قبضہ لینا اس کے لئے درد سر بن چکا ہے۔ جس کے لئے آئے روز علاقے میں آپریشن ہو رہے ہیں اور زبردستی لوگوں کے گھر گرانے کی کوشش ہو رہی ہے اور اتھارٹی کے ملازمین اور مقامی افراد کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے ۔اگر مسئلے کا حل نہ نکالا گیا تو کئی قیمتی جانیں ضائع ہونے کا خطرہ ہے۔



