ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام کی جانب سے چیئرمین پی ٹی آئی کی 2 مقدمات میں ضمانت منظوری کا تفصیلی فیصلہ جاری

پراسیکیوشن کوثابت کرنا ہوگا کہ چیئرمین پی ٹی آئی پر اکسانے کے الزام اور جرم کے درمیان تعلق ہے، عدالت
چیئرمین پی ٹی آئی کو مقدمے میں نامزد کرنا پولیس کی بدنیتی پر مبنی مقاصد ظاہر کرتا ہے، جس کا انہیں ہراساں کرنے کے سوا کوئی مقصد نہیں


اسلام آباد:ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی تھانہ شہزاد ٹاون میں درج 2 مقدمات میں ضمانت منظور کرلی ہے۔اسلام آباد کی عدالت نے بائیس جولائی کو 9 مئی کے واقعات پر درج دونوں مقدمات میں ضمانت منظوری کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا
ایڈیشنل سیشن جج فرخ فرید نے دونوں مقدمات کا 4 ،4 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا ۔فیصلے میں کہا گیا کہ پراسیکیوشن کوثابت کرنا ہوگا کہ چیئرمین پی ٹی آئی پر اکسانے کے الزام اور جرم کے درمیان تعلق ہے۔تفصیلی فیصلے میں مزید کہا گیا کہ پراسیکیوشن کو ثابت کرنا ہوگا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کے اکسانے سے جرم سرزد ہوا۔عدالتی فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ پراسیکیوشن کیمطابق چیئرمین پی ٹی آئی کا ویڈیو بیان ہی ایک ثبوت ہے جبکہ وہ بیان وقوعہ کے حوالے سے نہیں ہے۔اسلام آباد کی عدالت کے فیصلے میں کہا گیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کے بیان میں پبلک کو اکسانے کے حوالے سے کچھ نہیں، پراسیکیوشن نے چیئرمین پی ٹی آئی کی متعدد ٹوئٹس بھی بطور ثبوت پیش کیں، وقوع کے وقت چیئرمین پی ٹی آئی گرفتار تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ یہ سمجھنا بھی عجیب ہوگا کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے خود ہائی کورٹ سے اپنی گرفتاری کروائی۔ یہ سمجھنا کہ خود اپنی گرفتاری کروا کر چیئرمین پی ٹی آئی نے تشدد پر مبنی سیکرٹ پلان بنایا ، یہ عجیب ہوگا، عدالت نے قراردیا کہ کسی کو مقدمے میں پھنسانے کا پولیس کا یہ مضحکہ خیز طریقہ ہے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو مقدمے میں نامزد کرنا پولیس کی بدنیتی پر مبنی مقاصد ظاہر کرتا ہے، پولیس کا چیئرمین پی ٹی آئی کو ہراساں کرنے کے سوا کوئی مقصد نہیں۔
عدالت نے قراردیا کہ موجودہ واقعات کی روشنی میں چیئرمین پی ٹی آئی کی تھانہ شہزاد ٹاون میں درج دونوں مقدمات میں ضمانت کنفرم کی جاتی ہے۔