پچھلے 15 سالوں میں چڑیائوں کی یہ تعداد تیزی سے کم ہو رہی ہے
گھروں کی دیواروں، چھتوں، گلیوں میں پھدکتی چڑیااب خال خال ہی نظر آتی ہے

اسلام آباد:آپ نے اپنے بچپن میں بھورے رنگ کی ایک چڑیا کو اپنے ارد گرد ضرور دیکھا ہوگا، گھروں کی دیواروں، چھتوں، گلیوں میں یہ چڑیا پھدکتی ہوئی عام نظر آتی تھی ۔ لیکن پھر اچانک یہ پرندی غائب ہوگیا۔
ہم بات کر رہے ہیں چڑیا کی جسے انگریزی میں House Sparrow کہا جاتا ہے، وہ چڑیا صبح سویرے چہچہا کر ہمیں جگاتی تھی، لیکن شاید نوٹس کریں تو آپ کو اب یہ شاید ہی دیکھنے کو ملے۔افسوس ناک بات یہ ہے کہ پچھلے 15 سالوں میں چڑیائوں کی تعداد تیزی سے کم ہو رہی ہے۔
شہری علاقے مسلسل پھیل رہے ہیں، یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو چڑیا کیلئے مددگار ہونی چاہئیے کیونکہ یہ انسانی ماحول کے قریب رہنے کو ترجیح دیتی ہیں۔
چڑیا شہروں میں پھلتی پھولتی ہے کیونکہ یہاں خوراک وافر مقدار میں دستیاب ہوتی ہے اور چڑیا اسے ڈھونڈنے میں ماہر ہے۔لیکن سوال اب بھی باقی ہے کہ چڑیاں کی تعداد گھٹ کیسے گئی، یہ تمام چھوٹے پرندے کہاں ہیں؟
کچھ تحقیقی منصوبوں سے پتہ چلا ہے کہ چڑیا دوسرے پرندوں کی کچھ انواع جیسے عام مینا، طوطے، کبوتر اور چیلوں سے بڑھتے ہوئے مقابلے کا شکار ہے۔ یہ پرندے قبضہ کر رہے ہیں اور مقامی چڑیوں کو باہر دھکیل رہے ہیں۔
یہ پرندے بہت جارحانہ ہوتے ہیں اور انہی وسائل کے لیے مقابلہ کرتے ہیں جن کی چڑیاں کو ضرورت ہوتی ہے۔اسی لیے چڑیائیں کمزوری کی وجہ سے مقابلہ نہ کرنے کی وجہ سے نقل مکانی کر گئی ہیں۔




