فیصلے کے بعد سابق صدر آصف علی زرداری سمیت 6 سابق وزرائے اعظم کے خلاف کیسز دوبارہ کھل گئے
جسٹس منصور علی شاہ نے اکثریتی فیصلے سے اختلاف کیا،،کیس میں سوال غیر قانونی ترامیم کا نہیں بلکہ پارلیمنٹ کی بالادستی کا تھا،اختلافی نوٹ

اسلام آباد:سپریم کورٹ آف پاکستان نے نیب ترامیم کیخلاف کیس کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا،58 صفحات پر مشتمل فیصلہ چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے تحریر کیا ہے ۔سپریم کورٹ کا فیصلہ ایک دو پر مشتمل تھا۔تین رکنی بنچ میں چیف جسٹس عمر عطابندیال کے علاوہ ، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اعجاز الاحسن شامل تھے۔
توقع کے مطابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس اعجاز الاحسن نے حسب معمول پی ٹی آئی کا ساتھ دیا۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کا جمعہ کو سپریم کورٹ میں آخری دن تھا وہ جاتے جاتے بھی وفا نبھا گئے۔
سپریم کورٹ کی جانب سے نیب ترامیم کو کالعدم قرار دیے جانے کے بعد سابق صدر آصف علی زرداری سمیت 6 سابق وزرائے اعظم کے خلاف کیسز دوبارہ کھل گئے۔
چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی نیب ترامیم کے خلاف درخواست منظور کرتے ہوئے نیب ترامیم کی 10 میں سے 9 شقوں کو کالعدم قرار دے دیا جبکہ جسٹس منصور علی شاہ کی جانب سے اختلافی نوٹ بھی لکھا گیا ہے۔
سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا ہے نیب ترامیم سے مفاد عامہ کے حقوق متاثر ہوئے، نیب ترامیم کے سیکشن 10 اور سیکشن 14 کی پہلی ترمیم کالعدم قرار دی گئی ہے اور 50 کروڑ کی حد سے کم ہونے پر ختم ہونے والے تمام مقدمات بحال کر دیے گئے ہیں۔
سپریم کورٹ نے فیصلے میں سیاستدانوں کے تمام مقدمات بحال کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ تمام کیسز نیب عدالتوں اور احتساب عدالتوں میں دوبارہ مقرر کیے جائیں۔
عدالت عظمی کی جانب سے نیب ترامیم کالعدم قرار دیے جانے کے بعد بہت سے سیاستدانوں کے خلاف بند ہونے والے مقدمات دوبارہ بحال ہو گئے ہیں۔فیصلے کے بعد آصف علی زرداری، نواز شریف اور یوسف رضا گیلانی کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس واپس بحال ہو گیا ہے۔
سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا ایل این جی ریفرنس احتساب عدالت سے منتقل ہو گیا تھا اور سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کے خلاف رینٹل پاور ریفرنس بھی واپس ہو گیا تھا جو اب دوبارہ بحال ہو گیا ہے۔ اس کے علاوہ سابق وزیراعظم شہباز شریف، سابق وزیراعظم شوکت عزیز اور سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف بھی کیسز دوبارہ کھل جائیں گے۔
تین رکنی بنچ میں جسٹس منصور علی شاہ کا دو صفحات پر مشتمل اختلافی نوٹ بھی شامل ہے۔جسٹس منصورعلی شاہ نے اختلافی نوٹ میں کہاہے کہ اکثریتی فیصلے سے اتفاق نہیں کرتا،نیب ترامیم کیخلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست مسترد کرتا ہوں،جسٹس منصور علی شاہ کا مزید کہناتھا کہ پارلیمنٹ کو قانون سازی کا اختیار ہے،پارلیمنٹ ہی اپنے بنائے ہوئے قوانین میں ترمیم یا تبدیلی کر سکتی ہے،کیس میں سوال غیر قانونی ترامیم کا نہیں بلکہ پارلیمنٹ کی بالادستی کا تھا،گزشتہ رات مجھے اکثریتی فیصلے سے متعلق آگاہ کیا گیا۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ وقت کی کمی کے باعث فی الحال تفصیلی وجوہات بیان نہیں کر رہا،کیس میں اختیارات کی تقسیم اور پارلیمانی جمہوریت کا سوال تھا،سپریم کورٹ کے غیر منتخب ججز منتخب ارکان اسمبلی کی پالیسی کا کیسے جائزہ لے سکتے ہیں،بنیادی آئینی حقوق کی خلاف ورزی کے بغیر عدالت قانون سازی کا جائزہ نہیں لے سکتی۔اختلافی نوٹ میں کہا گیاہے کہ اکثریتی فیصلہ میری عاجزانہ رائے میںآئینی سکیم کیخلاف ہے،آئین کے مطابق ریاست اپنی طاقت اور اختیار عوام کے منتخب نمائندوں کے ذریعے استعمال کرے گی،اکثریتی فیصلہ آئین کے مطابق اختیارات کی تقسیم کے اصول کے خلاف ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے نوٹ میں مزید کہناتھا کہ پارلیمنٹ کے قانون سازی کے اختیار کو کبھی رد نہیں کیا جاسکتا،اکثریتی فیصلے میں اس بات کو نہیں پرکھا گیا کہ پارلیمنٹ نے کونسا کام غلط کیا ہے،ارکان اسمبلی کے احتساب کو بنیادی حقوق کی خلاف ورزی سے جوڑنے کی کوشش کی گئی۔
دوسری طرف فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہاہے کہ نیب مقدمات کا سامنا کرنے کیلئے تیار ہیں،پیپلز پارٹی کیلئے نیب کوئی نئی چیز نہیں ، الیکشن کمیشن انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرے۔لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہاہے کہ پیپلزپارٹی کیلئے نیب کوئی چیز نہیں ،نیب ترامیم پر یہی فیصلہ متوقع تھا، ان کا کہناتھا کہ آمر کے بنائے قانون کو تبدیل ہونا چاہیے،سکرین پر دیکھیں کن کی شکلیں مایوس ہیں،ہمارا موقف ہے احتساب سب کا اور ایک جیسا ہونا چاہیے،سپریم کورٹ کے فیصلوں سے متعلق فیصلہ تاریخ کرے گی۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ الیکشن کمیشن انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرے،پیپلزپارٹی کو لیول پلیئنگ فیلڈ دی جانی چاہیے،انتخابات کا شیڈول آنے پر انتخابی حکمت عملی سامنے لائیں گے۔چیئرمین پیپلزپارٹی نے ملک کی معاشی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ کوئی غلط فہمی میں نہ رہے کہ پیپلزپارٹی کسی ایک صوبے کی جماعت ہے،کردار کشی مہم کے سلسلے میں ایک جماعت کو نشانہ بنایا جاتا ہے، 2018کے انتخابات میں فیض حمید، ثاقب نثار اور ایک جماعت کا گٹھ جوڑ تھا،جنرل پاشا ،افتخار چودھری اور ایک جماعت نے سازش کرکے پی پی کو پنجاب سے نکالا،پیپلزپارٹی کو پنجاب سے نکالنے کا نقصان سازش میں شریک سیاسی جماعت کو ہوا۔بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ ہم سے سوال ہوتا ہے کہ لاہور کو وقت کیوں نہیں دیتے؟کسی نے میاں صاحب سے یہ سوال نہیں کیا کہ کراچی میں کتنا وقت گزارا،ان کا کہناتھا کہ عوام کو مہنگائی اور بے روزگاری سے ریلیف ملنا چاہیے، خیبرپختونخوا، بلوچستان اور گلگت بلتستان میں دہشت گردی کی مذمت کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ سندھ حکومت نے صحت کے شعبے میں اچھی کارکردگی دکھائی۔



