دہشت گرد گروپ کا مقصد صرف اپنی ڈیہاڑی لگانا تھا ،متاثرین کے مسائل حل ہوئے نہ الاٹیوں کی مایوسی کم ہوئی
ڈائیریکٹر احسان الٰہی کو وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے ذیلی ادارے ڈائریکٹر ذیشان قاسم کو واپس گومل یونیورسٹی بھیج دیا گیا

اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر ہائوسنگ اینڈ ورکس کی آشیرباد پر وزارت ہائوسنگ اینڈ ورکس کے ذیلی ادارے فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہائوسنگ اتھارٹی میں ڈیپوٹیشن پر آکر اربوں کی کرپشن میں ملوث ( انی) ڈالنے والا دڈیرہ کا دہشت گرد گروپ واپس اپنے آبائی محکموں کو روانہ ہوگیا۔
سیکرٹری ہائوسنگ اینڈورکس کے آرڈر سے گزشتہ روز ڈفیڈرل گورنمنٹ ہائوسنگ اتھارٹی میں ڈیپوٹیشن پر آکر کرپشن کی انی ڈالنے والے 35 سے زائد افسران کو واپس ان کے آبائی محکموں میں بھجوادیا گیا ہے۔
ہائوسنگ اتھارٹی کو عملایرغمال بنا لینے والے کرپشن کے بادشاہ ڈائریکٹر احسان الٰہی کو واپس ان کی آبائی وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے ذیلی ادارے PCSIR میں واپس بھجوا دیا گیا ہے۔گریڈ انیس ہی کے ڈائریکٹر ذیشان قاسم واپس گومل یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان روانہ ہو چکے ہیں۔ڈائریکٹر برکت اللہ کی خدمات واپس خیبر پختون خوا حکومت کے سپرد کر دی گئی ہیں۔ جبکہ سعید اللہ بھی واپس اپنے آبائی محکمے پاکستان پوسٹ آفس روانہ ہو چکے ہیں۔ چار اس اس طرح ڈیپوٹیشن پر آئے چار ڈائریکٹر صاحبان کو واپس ان کے آبائی محکموں میں بھجوا دیا گیا ہے۔
واپس ہونے والوں میں گریڈ 19 کے چار، گریڈ 18 کے تین اور گریڈ 17 کے نو افسران شامل ہیں۔ جبکہ دیگر انیس ملازمین گریڈ 17 سے کم سکیل کے ہیں ۔
یاد رہے کہ 35 افسران اور ان کے پسندیدہ عملہ پر مشتمل یہ ایک گروہ تھا جس نے عملا ہائوسنگ اتھارٹی پر قبضہ کئے رکھا اور ڈیڑہ سال کے دوران ہائوسنگ اتھارٹی میں کرپشن اور بدعنوانی کو بام عروج پر پہنچا دیا۔
ادارے کا دیگر عملہ جو کئی سالوں سے وہاں کام کر رہا تھا اسے عملا بے عمل کر دیا گیا۔
یاد رہے کہ مذکورہ گروہ جس میں زیادہ تعداد ڈیرہ اسماعیل خان سے تعلق رکھنے والے افراد کی تھی اس گروپ کو پی ڈی ایم کی حکومت میں جمعیت علمائے اسلام سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر ہائوسنگ اینڈ ورکس کی خصوصی آشیرباد حاصل تھی۔
اس گروپ نے وفاقی وزیر کی آشیرباد سے متاثرین سے بغیر کسی مشاورت کے ہائوسنگ اتھارٹی کے ذیلی سیکٹر G14/1 میں بڑی تعداد میں پراپرٹی مافیا سے سستے داموں پلاٹوں کی خریداری کرائی اور پھر نام نہاد آپریشن کا شوشہ چھوڑ کر کہ عنقریب سیکٹر کا قبضہ حاصل کیا جارہا ہے قیمتوں میں مصنوعی اضافہ کیا ۔اضافہ کرنے کے ساتھ ہی مافیا کے ساتھ مل کر خریدے گئے پلاٹ منافع میں بیچ کر اربوں کمائے اور چلتے بنے ۔ کئی سال گزرنے کے بعد آج ایک بار پھر نہ صرف متاثرین کے مسائل جوں کے توں ہیں بلکہ الاٹی بھی ایک بار پھر مایوسی کا شکا ہیں۔




