عوام کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ریلیف کیوں نہ مل سکا، وجہ سامنے آگئی

اسلام آباد:عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں 5 ڈالر فی بیرل کمی ہونے کے پیشِ نظر اس بات کا غالب امکان ظاہر کیا جارہا تھا کہ یکم نومبر سے پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کر کے عوام کو ریلیف دیا جائے گا۔ مگر بوجہ ایسا نہ ہوسکا،یکم نومبر سے پیٹرول کی قیمت میں 15 سے 20 روپے فی لیٹر، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 10 سے 16 روپے کی فی لیٹر کمی متوقع تھی۔
وفاقی حکومت نے ایک بار پھر گنجائش کے باوجود پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی نہ کرکے عوام کو ریلیف سے محروم رکھا۔
نگران حکومت نے ریلیف عوام کو دینے کے بجائے ڈیزل پر لیوی کی شرح میں 5 روپے فی لیٹر کا اضافہ کردیا۔ہائی اسپیڈ ڈیزل پر پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی 5 روپے اضافے کے بعد 60 روپے فی لیٹر ہوگئی ہے، جب کہ پیٹرول پر لیوی پہلے سے ہی 60 روپے فی لیٹر مقرر ہے۔
حکومت نے ڈیزل پر فی لیٹر 25 پیسے کا ایسکٹرا مارجن بھی عائد کر دیا جس کے بعد ڈیزل پر ڈیلر مارجن 41 پیسے بڑھا کر8.64 روپے کر دیا گیا۔
دوسری جانب پیٹرول پر او ایم سی مارجن میں 47 پیسے فی لیٹر اضافے سے 7.87 روپے ہوگیا جب کہ پیٹرول پر ڈیلر مارجن بھی 41 پیسے فی لیٹر بڑھا کر8.64 روپے ہو گیا ہے۔دستاویز کے مطابق ڈیزل پر بھی تیل کمپنیوں کا مارجن 47 پیسے کا اضافہ کیا گیا اورنئی شرح 8.12 روپے مقرر کر دی گئی۔
اس طرح عوام کوریلیف دینے کی بجائے حکومت نے پٹرولیم لیوی کی شرح میں اضافہ کر دیا۔
یاد رہے کہ نگراں حکومت نے گزشتہ روز عوام کو ریلیف دینے کی بجائے 15 نومبر تک پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔