صوبہ پنجاب اور سندھ میں وزرائے اعلیٰ کا انتخاب مکمل


قومی اسمبلی کا اجلاس 29 فروری کو طلب وزیراعظم کا انتخاب ہو گا
مریم نواز نے پنجاب جبکہ مراد علی شاہ نے سندھ میں میدان مار لیا

اسلام آباد(رپورٹ :محمد رضوان ملک )ملک بھر میں آٹھ فروری کو ہونے والے عام انتخابات کے نتیجے میں حکومتیں بننے کے عمل کا آغاز ہو گیا ہے۔ مسلم لیگ ن کی رہنماء مریم نواز وزیراعلیٰ پنجاب منتخب ہو گئی ہیں وہ پنجاب کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ بھی ہیں۔قبل ازیں ان کے والد میاں محمد نوازشریف اور ان کے چچا میاں محمد شہبازشریف بھی وزیراعلیٰ پنجاب کے منصب پر فائز رہ چکے ہیں۔سندھ کی وزارت اعلیٰ ایک بار پھر پیپلز پارٹی کے سید مراد علی شاہ کے حصے میں آئی ہے۔ وہ اس سے قبل بھی تین بار وزیراعلیٰ سندھ کے منصب پر فائز رہ چکے ہیں۔
مرکز میں بھی اگلے دو دنوں تک حکومت سازی کا عمل مکمل ہو جائے گا۔ صدر کی جانب سے قومی اسمبلی اجلاس کی سمری مسترد کئے جانے کے بعد سپیکرقومی اسمبلی کی ایڈوائس پر سیکرٹری قومی اسمبلی نے نومنتخب قومی اسمبلی کا اجلاس 29 فروری کو طلب کر لیا ہے ۔اجلاس میں نومنتخب ارکان اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے ۔ اسمبلی میں ان کے ناموں کا اندراج ہو گا جہاں وہ اپنے دستخط کریں گے ۔
اس کے بعد پہلے سپیکر کا انتخاب ہو گا ۔نومنتخب سپیکر حلف اٹھانے کے بعد ڈپٹی سپیکر کا انتخاب کرائیں گے اور اس کے بعد قائد ایوان یعنی وزیراعظم کا انتخاب ہو گا ۔امید ہے کہ نومنتخب وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف 29 فروری کو ہی اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیں گے۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کی چیف آگنائرز اور سینئر نائب صدر مریم نواز نے ملکی تاریخ کی پہلی خاتون وزیراعلی پنجاب منتخب ہوکر اپنے عہدے کا حلف اٹھالیاہے ۔ایوان میں اپنا پہلا خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا اپوزیشن میری تقریر کے دوران احتجاج کرتی تو مجھے خوشی ہوتی
گورنر ہاس میں نومنتخب وزیر اعلی کی تقریب حلف برداری ہوئی،گورنر پنجاب بلیغ الرحمن نے مریم نواز سے حلف لیا، تقریب حلف برداری میں نومنتخب ارکان اسمبلی، نواز شریف، شہباز شریف، کیپٹن (ر)صفدر، بیٹا جنید صفدر، حمزہ اور سلیمان شہباز نے شرکت کی۔حلف اٹھانے کے بعد مریم نواز نے والد نواز شریف کے ماتھے پر بوسہ بھی دیا۔
مسلم لیگ (ن) کی جانب سے نامزد مریم نواز نے 220 ووٹ لے کر ملک کی پہلی خاتون وزیراعلی بننے کااعزاز حاصل کیا ہے۔پنجاب اسمبلی کے اسپیکر ملک احمد خان نے کہا کہ مریم نواز نے 220 ووٹ حاصل کیے جب کہ ان کے مد مقابل سنی اتحاد کونسل کے امید وار آفتاب احمد نے کوئی ووٹ حاصل نہیں کیا۔
میرے دل میں کسی کیلیے انتقام، بدلے کاجذبہ نہیں، مریم نواز
اپنے انتخاب کے بعد ایوان میں اپنا پہلا خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلی پنجاب مریم نواز نے کہا کہ اللہ کا شکر ادا کرتی ہوں، قدرت کا نظام پہلے مشکلات پھر کامیابیوں سے گزارتا ہے، امیدہے اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر جمہوری عمل کو برقرار رکھیں گے، افسوس ہوا کہ اپوزیشن ارکان موجود نہیں ہیں، اپوزیشن ارکان کو جمہوری عمل مین شامل ہوناچاہیے تھا، اپوزیشن میری تقریر کے دوران احتجاج کرتی تو مجھے خوشی۔ان کا کہنا تھا کہ ہمیں ظلم و بربریت کا نشانہ بنایا گیا، تمام مشکلات کے باوجود میدان نہیں چھوڑا، ایوان جمہوریت کا پرچم سربلند رکھے گا، مقابلہ جمہوریت کاحسن ہے۔مریم نواز نے کہا جس نے ووٹ دیا اور جس نے نہ دیا سب کی وزیراعلی ہوں، میں اپوزیشن سمیت سب کی وزیر اعلی ہوں، میرے دل، چیمبر کے دروازے اپوزیشن ارکان کیلیے بھی ہر وقت کھلے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تمام رہنماں اور کارکنوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتی ہوں، میرا وزیراعلی منتخب ہونا تمام خواتین کیلیے اعزاز ہے، میرے دل میں کسی کیلیے انتقام، بدلے کاجذبہ نہیں ہے۔مریم نواز نے کہا کہ اللہ نے مجھے اس کرسی پر بیٹھنے کا موقع دیا جس پر نوازشریف جیسے عظیم لیڈر بیٹھے تھے۔
وزیر اعلی پنجاب نے کہا کہ ایک مشکل مرحلے سے گزر کر یہاں پہنچے، اپنے مخالفین کی شکرگزار ہوں، امتحانات، مشکلات سے نہ گزرتی تو یہاں تک نہ پہنچتی۔ کسی صورت تہذیب اور اخلاق کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑیں گے، نوازشریف کو پاکستان کو ناقابل تسخیر بنانے کا اعزاز حاصل ہے۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے منشور پر آج سے عمل ہوگا، حلف اٹھانے کے بعد آج سے اس پر جنگی بنیادوں پر عمل شروع کروں گی، میرا کام پنجاب میں پالیسی بنانا ہے۔
اپنے خطاب کے دوران وزیراعلی پنجاب نے نگہبان کے نام سے رمضان پیکج کا اعلان کیا، انہوں نے کہا کہ 75 لاکھ سے زائد پیکٹس مستحقین کو گھروں پر فراہم کریں گے۔مریم نواز نے کہا کہ رمضان المبارک میں سستے رمضان بازار لگائیں گے، پرائس کنٹرول کمیٹیوں کے آج سے اجلاس شروع ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ کوئی بچہ پڑھنا چاہتا ہے تو اعلی تعلیم کے لیے میرٹ پر وسائل دیں گے، 60 ہزار روپے سے کم آمدن والے مستحقین ہیں، ان کی مدد ہم پر فرض ہے۔وزیر اعلی پنجاب نے کہا کہ چاہتی ہوں بچے اپنے گھر سے کاروبار شروع کریں، اسٹارٹ اپ بزنس کیلیے مالی معاونت کریں گے، ابھی ہمارے پاس تمام مستحقین کا ڈیٹا نہیں، فراہم کرنے کا کہا ہے۔مریم نواز نے کہا کہ طلبا، نوجوانوں کو ای بائیک دیں گے، نوجوانوں کو سود سے پاک قرضے اور ٹریننگ دیں گے، نوجوانوں کو لیپ ٹاپ، آئی پیڈ اور ٹیبلٹس دیں گے، نہیں چاہتی پنجاب کا کوئی بچہ اسکول سے باہر ہو، نوجوانوں اور طلبا کے لیے انٹرن شپ پروگرام لائیں گے پولیس اور دیگر اداروں کو انٹرن شپ پروگرام کے لیے کہا ہے۔
وزیر اعلی پنجاب نے کہا کہ قوم کے نوجوانوں بچوں، بچیوں، بیٹے بیٹیوں کو کہتی ہوں کہ اپنے والدین کی عزت کریں، ان کی زندگی میں ان کی قدر کریں کیونکہ والدین کی دعائیں انسان کو وہاں تک پہنچا دیتی ہیں جن کا وہ تصور بھی نہیں کرسکتا۔
نو منتخب وزیر اعلی پنجاب مریم نواز نے لاہور میں فری وائی فائی منصوبہ شروع کرنے کا اعلان بھی کیا، مریم نواز نے کہا کہ پنجاب میں5سال میں 5 آئی ٹی سٹی بنا کر جائوں گی۔وزیر اعلی پنجاب نے کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو قسطوں پر سولر پینل دینے کے منصوبے کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ بجلی کے شعبے میں فوری ریلیف آسان نہیں ہے لیکن ہم نے اس سلسلے میں منصوبے پر کام شروع کردیا ہے، بجلی کے چھوٹے صارفین کو قسطوں پر سولر پینل دینے کا منصوبہ زیر غور ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کل سے نہیں بلکہ حلف اٹھانے کے بعد سیدھا آج سے ہی میں اپنے دفتر جاں گی اور منشور پر عمل درآمد کا آغاز ہوجائے گا۔مریم نواز نے کہا کہ تمام وزارتوں کی کارکردگی کا اسکور کارڈ عوام کے سامنے رکھوں گی، بہتر پنجاب کے لیے مجھے سب کی مدد درکار ہوگی، 5 سال بعد ایک بہت بہتر پنجاب عوام کو دیکر جائیں گے۔
دوسری طرف پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے امیدوار سید مراد علی شاہ وزیراعلی سندھ منتخب ہوگئے۔سید مراد علی شاہ تیسری بار وزیراعلی سندھ منتخب ہوئے ہیں، اسپیکر سندھ اسمبلی اویس قادر شاہ کے مطابق 148 ارکان اسمبلی نے انتخاب میں حصہ لیا۔سید مراد علی شاہ کو 112 ووٹ ملے جبکہ ان کے مقابل ایم کیو ایم کے علی خورشیدی کو 36 ارکان نے ووٹ دیا۔وہ سندھ کے 25ویں وزیراعلی سندھ منتخب ہوئے ہیں، اس منصب پر ان کے والد عبداللہ شاہ بھی فائز رہ چکے ہیں۔
11 اگست 1962 کو کراچی میں پیدا ہونے والے مراد علی شاہ نے 1985 میں این ای ڈی سے سول انجینئرنگ کی ڈگری لی اور 1987 میں امریکا کی اسٹینفورڈ یونیورسٹی سے سول، اسٹرکچرل انجینئرنگ میں ماسٹر کیا۔مراد علی شاہ نے سیاست کا باضابطہ آغاز 2002 میں کیا۔ وہ اسی برس سندھ اسمبلی کے رکن بنے، انہیں پارلیمانی پارٹی کا ڈپٹی لیڈر بنایا گیا۔وہ 2008 سے 2016 تک صوبائی وزیر رہے جبکہ جولائی 2016 میں مراد علی شاہ پہلی بار وزیراعلی سندھ بنے، دوسری بار 2018 میں اس منصب کی ذمے داری سنبھالی۔نو منتخب وزیراعلی سندھ 2008، 2013، 2018 اور 2024 کے عام انتخابات میں سندھ اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔