لاہور سے کراچی جانے والا ٹرالر پولیس نے تین روز سے بغیر وجہ کے روک لیا

چیچہ وطنی …رضوان احمد

پولیس تھانہ کسووال کی کارستانی
لاہور سے کراچی جانیوالے ٹرالر کو تین دن نیشنل ہائی وے پر بس سٹاپ 117 بارہ ایل کے قریب واقع ہوٹل پر روکے رکھا.
تین روز قبل ڈرائیور اللہ دتہ مسیح ٹرالر نمبرSLC 1302 کوہوٹل پہ روک کر ناشتہ کر رہا تھاکہ پیچھے سے آنیوالے ٹرالر نے ٹکر مار دی.
پولیس تھانہ کسووال نے عقب سے کھڑے ٹرالر سے ٹکرانے والے ڈرائیور کو مدعی بنا کر ان تین دنوں میں پولیس تھانہ کسووال کے تفشیشی افسر نے اللہ دتہ مسیح سے مختلف اوقات میں مجموعی طور پر بیس ہزار روپیہ رشوت لے کر اسے جانے کی اجازت دے دی…
گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن پاکستان کے صدر فیصل حسین بھٹی نےکراچی سے فون پر پولیس کے رویے کی مذمت کرتے ہوئے اعلی حکام سے اس ظالمانہ رویے پہ نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے.
ڈرائیور اللہ دتہ مسیح کے مطابق تین دن روکنے پر اسکا لاکھوں روپے کا نقصان ہوا ہے جبکہ ٹرالر میں لوڈ پچاس لاکھ روپے مالیت کے سامان کی بروقت ترسیل بھی نہیں ہوسکی.
واضع رہے کہ تفتیشی افسر غلام فرید بھٹی کی رشوت ستانی کی کہانیاں زبان زد عام ہیں.