
احتساب عدالت اسلام آباد میں اسحاق ڈار کے خلاف ریفرنس کی سماعت ، نیب نے اسحاق ڈار کی منقولہ اورغیرمنقولہ اثاثے منجمد کرنے کی رپورٹ عدالت میں پیش کی ، گواہ نجی بینک کے برانچ مینیجرعبدالرحمان نے بیان قلم بند کرایا،، جج محمد بشیرنے کالم آف ریمارکس کا ریکارڈ طلب کرلیا گواہ نے بتایاکہ کہ ریکارڈ دوبوریوں پر مشتمل ہے ،سماعت کے دوران وکیل حارث اورنیب پراسکیورٹرمیں دوبارتلخ جملوں کا بھی تبادلہ ہوا
احتساب عدالت میں اسحاق ڈارکیخلاف اثاثہ جات ریفرنس کی سماعت ہوئی ، استغاثہ کے گواہ نجی بینک کے برانچ مینیجر عبدالرحمان نے اسحاق ڈارکے بینک اکاونٹ کی تفصیلات سے اگاہ کیا ،گواہ کا کہنا تھاکہ اسحاق ڈارنے بینک اکاونٹ 25 مارچ دوہزارپانچ میں کھولا گیا 2005 سے2017 تک کی بینک اسٹیٹمنٹ سمیت دیگرریکارڈ تفتیشی افسرکوفراہم کیا
خواجہ حارث نے گواہ سے جرح شروع کی توگواہ نے کہاکہ نیب کوتصدیق شدہ دستاویزات فراہم کیں اصل دستاویزات دفتررہ گئی تھیں خواجہ حارث نے سوشل سیکیورٹی کارڈ کوکورنگ لیٹرسے کاٹنے کی وجہ پوچھی توگواہ نے کہاکہ اصل ایس ایس کارڈ نہ ہونے پرفہرست سے کاٹا گیا ، اسحاق ڈارکے وکیل خواجہ حارث نے غیر حاضری کے دوران دیے گئے ریمارکس پرشکوہ بھی کیا سماعت کے دوران وکیل صفائی خواجہ حارث اورنیب پراسیکیورٹرکے درمیان دوبارتلخ جملوں کو بھی تبادلہ خواجہ حارث نے نیب پراسیکیورٹرپرافسوس کا اظہارکیا تونیب پراسیکویوٹرعمران شفیق نے ذاتی حملے سے باز رہنے کا کہا جس پرجج نے مداخلت کرتے ہوئے سماعت آگے بڑھانے کی ہدایت کی ، گواہ نے بتایاکہ بینک دستاویزات نہ ہی موجودگی میں تیارہوئے نہ ان کے دستخط ہیں ، جج محمد بشیرنے کالم آف ریمارکس کا ریکارڈ پیش کرنے سے متعلق پوچھا توگواہ نے بتایاکہ کہ ریکارڈ دو بوریوں پر مشتمل ہے آئندہ سماعت پر پیش کردیں گے ، عدالت نے فراہم کردہ دستاویزات کوعدالتی رکارڈ کا حصہ بنا دیا نیب نے اسحاق ڈارکے منقولہ اورغیرمنقولہ اثاثے منجمد کرنے کی رپورٹ احتساب عدالت میں جمع کرائی ، نیب نے اسحاق ڈارکے اثاثےمنجمد کرنےکےفیصلےکی توثیق کیلئے احتساب عدالت میں درخواست بھی دی




