سعودی عرب کاپاکستان میں 5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا مرحلہ جلد مکمل کرنے کا اعادہ


مکہ مکرہ: پاکستان اور سعودی عرب نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے پاکستان میں پانچ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا مرحلہ جلد مکمل کیا جائے گا۔ یہ اتفاق سعودی عرب کے ولی عہد و وزیراعظم محمد بن سلمان اور وزیراعظم شہبازشریف کی ملاقات میں ہوا۔ ملاقات کا مشترکہ اعلامیہ جاری کردیا گیا۔جس میں وزیراعظم محمد شہباز شریف اور سعودی عرب کے ولی عہد کا پاکستان میں 5 ارب ڈالر مالیت کے نئے سعودی سرمایہ کاری پیکیج کے پہلے مرحلہ کو جلد پایہ تکمیل تک پہنچانے کے عزم کا اعادہ کیاگیا۔ دونوں رہنمائوں کے درمیان باضابطہ ملاقات کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا۔
سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز السعود اور وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے الصفا پیلس مکہ المکرمہ میں ایک باضابطہ ملاقات کی۔سعودی ولی عہد نے وزیر اعظم محمد شہباز شریف کو منصب سنبھالنے پر مبارکباد دی اور ان کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے سعودی عرب کی غیر متزلزل حمایت اور مہمان نوازی پر سعودی ولی عہد کا شکریہ ادا کیا اور دوطرفہ تعلقات اور اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کے لئے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔دونوں رہنماں کے درمیان ہونے والی بات چیت کا محور دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور مختلف شعبوں میں تعاون کو بڑھانے کے راستے تلاش کرنا تھا۔
ملاقات میں پاکستان کی معیشت میں سعودی عرب کے تعاون کو سراہا گیا اور دونوں ممالک کے درمیان کاروبار اور سرمایہ کاری کے حوالے سے تعاون بڑھانے کے باہمی عزم کا بھی اظہار کیا گیا۔دونوں رہنماں نے پاکستان میں 5 ارب ڈالر مالیت کے نئے سعودی سرمایہ کاری پیکیج کے پہلے مرحلہ کو جلد از جلد پایہ تکمیل تک پہنچانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔
دونوں رہنماں نے غزہ کی تشویشناک صورتحال سمیت باہمی دلچسپی کی علاقائی اور عالمی پیشرفت پر بھی تبادلہ خیال کیا۔انہوں نے غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کو روکنے اور انسانی جانی نقصان کو کم کرنے کے لئے بین الاقوامی کوششوں پر زور دیا اور بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ اسرائیل پر دبائو بڑھائیں تا کہ وہ اپنے غیر قانونی اقدامات سے باز آئے اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کرے۔
دونوں رہنماں نے غزہ تک بلا روک ٹوک انسانی امداد کی رسائی کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کی متعلقہ قراردادوں کے ساتھ ساتھ عرب امن اقدام کے عمل کو آگے بڑھانے کی ضرورت پر تبادلہ خیال کیاجس کا مقصد ایک آزاد فلسطینی ریاست جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو ، کے قیام کے لئے ایک منصفانہ اور جامع حل تلاش کرنا ہے۔
فریقین نے خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنانے کے لئے پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعات بالخصوص جموں و کشمیر کے تنازع کو حل کرنے کے لئے دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کی اہمیت پر زور دیا۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز شہباز شریف کی سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے مکہ مکرمہ میں ون آن ون ملاقات ہوئی تھی۔ سعودی ولی عہد نے وزیراعظم کے اعزاز میں افطار ڈنر کا اہتمام کیا تھا۔وزیراعظم پاکستان نے سعودی ولی عہد کو جلد از جلد پاکستان کا سرکاری دورہ کرنے کی دعوت دی جسے ولی عہد نے قبول کرلیا۔