موبائل فون گاڑیاں اور سیمنٹ مہنگاجائیداد کی خریدو فروخت میں نان فائلرز پر 15 اور نان فائلرز پر 45 فیصد ٹیکس عائد

اسلام آباد:وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نئے مالی سال 25-2024 کا بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کردیا ہے۔ جس میں وفاقی ملازمین کی تنخواہوں میں 25 فیصد تک اضافے کے ساتھ ساتھ ملک میں ملازمین کی کم از کم تنخواہ 36ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے اور ملک کے دفاعی اخراجات کے لیے 21 سو 22 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
بجٹ اجلاس کے دوران حکومت کی اتحادی جماعت پیپلزپارٹی نے شروع میں اجلاس کا بائیکاٹ کیا ۔بعد میں مان گئے تاہم بلاول بھٹو نے اجلاس میں شرکت نہ کی اور گھر چلے گئے۔بجٹ اجلاس کے دوران تحریک انصاف کے ارکان عمران خان کی تصاویر کے ساتھ شریک ہوئے اور وزیر خزانہ کی بجٹ تقریر کے دوران شور شرابہ کرتے رہے۔
وزیر خزانہ نے قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کرتے ہوئے کہا کہ اس معزز ایوان کے سامنے مالی سال 25-2024 کا بجٹ پیش کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، فروری 2024 کے انتخاب کے بعد مخلوط حکومت کا یہ پہلا بجٹ ہے اور میں وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں اتحادی حکومت میں شامل سیاسی جماعتوں کی قیادت خصوصا محمد نواز شریف، بلاول بھٹو زرداری، خالد مقبول صدیقی، چوہدری شجاعت حسین، عبدالعلیم خان اور خالد حسین مگسی کی رہنمائی کے لیے دل کی اتھاہ گہرائیوں سے شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔
بجٹ کے اہم نکات
گریڈ 1 سے16 کے سرکاری ملازمین کیلئے تنخواہ میں 25 فیصد اضافہ تجویز
گریڈ 17 سے 22 کے سرکاری ملازمین کی تنخواہ میں 22 فیصد اضافہ
سرکاری ملازمین کی پنشن میں 15 فیصد اضافے کی تجویز
کم سیکم ماہانہ تنخواہ 32 ہزار سے بڑھا کر 36 ہزار روپیمقرر
ہائبرڈ اور لگژری الیکٹرک گاڑیوں کی درآمد پر دی جانے والی رعایت ختم
انجن کی استعداد کے بجائیگاڑی کی قیمت کی بنیاد پر ٹیکس لینیکا فیصلہ
سولر پینل کیلئے خام مال اور پرزہ جات کی درآمد پر رعایت کا اعلان
پنشن کے نظام میں اصلاحات لانے کی تجویز
دفاع کیلئے 2ہزار 122 ارب روپے مختص
موبائل فونز پر یکساں ٹیکس عائد کرنے کی تجویز
آئی ٹی سیکٹر کے لیے 89 ارب روپے مختص
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ سیاسی اور معاشی چیلنجز کے باوجود پچھلے ایک سال کے دوران اقتصادی محاذ پر ہماری پیشرفت متاثر کن رہی ہے، ہم سب نے معاشی استحکام اور عوام کی بہتری کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کے مل بیٹھنے کی بازگشت کئی بار سنی ہے ، آج قدرت نے پاکستان کو معاشی ترقی کی راہ پر چلنے کا ایک اور موقع فراہم کیا ہے، ہم اس موقع کو زائل کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔
انہوں نے کہا کہ پچھلے سال جون میں آئی ایم ایف پروگرام اپنے اختتام کو پہنچ رہا تھا اور نئے پروگرام سے متعلق بہت غیریقینی کیفیت تھی، نئے پروگرام میں تاخیر کافی مشکلات پیدا کر سکتی تھیں لیکن شہباز شریف کی سابقہ حکومت نے آئی ایم ایف سے اسٹینڈ بائی معاہدہ کیا، اس پروگرام کے تحت لیے جانے والے اقدامات کے نتیجے میں معاشی اصلاحات کی راہ ہموار ہوئی اور غیریقینی کی صورتحال اختتام کو پہنچی۔سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ مئی میں مہنگائی کم ہو کر تقریبا 12فیصد پر آ گئی ، اشیائے خورونوش اب عوام کی پہنچ میں ہیں اور درپیش چیلنجز کو دیکھا جائے تو یہ کوئی معمولی کامیابی نہیں اور آنے والے دنوں میں مہنگائی مزید کم ہونے کا امکان ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بتایا کہ ہم اس امید کے ساتھ ہوم گرون ریفارم ایجنڈے کو پختہ ارادے اور عزم کے ساتھ جاری رکھے ہوئے ہیں کہ پاکستان جلد ہی شمولیت اور پائیدار ترقی کے دور کی طرف لوٹ آئے گا۔انہوں نے کہا کہ ہر کوئی اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ راستہ بھت کٹھن ہے اور ہمارے پاس آپشنز محدود ہیں مگر یہ اصلاحات کا وقت ہے، یہی وقت ہے کہ ہم اپنی معیشت میں نجی شعبے کو مرکزی اہمیت دیں اور چند افراد کے بجائے پاکستان کو اپنی ترجیح بنائیں، ہم معاشی عدم توازن کے گرداب میں پھنسے ہیں، اس کی وجہ وہ اسٹرکچرل فیکٹرز ہیں جن کی وجہ سے سرمایہ کاری، معاشی پیداوار اور برا مدات دبا کا شکار ہیں، ماضی میں ریاست پر غیر ضروری بوجھ ڈالا گیا جس کی وجہ سے حکومتی اخراجات ناقاب برداشت ہوگئے، اس کا خمیازہ مہنگائی، کم پیداواری صلاحیت اور کم آمدن والی ملازمتوں کی سورت مین عوام کو بھگتناپڑا۔
وزیر کا کہنا تھا کہ اس کم ترقی کی سائیکل سے باہر آنے کے لیے اسٹرکچرل ریفارمز کو آگے بڑھانا ہے اور معیشت میں مراعات کو صحیح کرنا پڑے گا جیسا کہ:
1۔ ہمیں ایک حکومت کی جانب سے معاشی تعین کرنے کے بجائے مارکیٹ پر مبنی معیشت کی طرف جانا ہے۔
2۔ ہمارے معاشی نظام کو عالمی معیشت کے ساتھ چلتے ہوئے برآمدات کو فروغ دینا ہوگا۔
3۔ ہماری معاشی ترقی کو کھپت کی بنیاد کے بجائے سیونگز اور سرمایہ پر مبنی ہونا چاہیے۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ معاشی نظام میں یہ تبدیلیاں لاتے ہوئے ہمیں مساوات اور شمولیت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے، ہمیں درجہ ذیل پہلوں کا جائزہ لیتے ہوئے جرات مندانہ اقدامات کی ضرورت ہے۔
1 ۔ تمام جدید معیشتوں کی طرح ہمیں بھی وسیع پیمانے پر نجکاری اور ریگولیٹری اصلاحات کرتے ہوئے ریاست کے فٹ پرنٹ کو صرف اہم پبلک سروسز تک محدود رکھنا ہوگا۔
2 ۔ پیداواری صلاحیت میں بہتری لانے کے لیے اندرون ملک اور بیرون ملک سے سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی اور ریگولیٹری اور انویسٹمنٹ کلائمیٹ امپروومنٹس کرنی ہوں گی۔
3 ۔ بروڈ بیس فیئر ٹیکسیشن ریجیم کا قیام بھی انتہائی ضروری ہے جو سب کے لیے یکساں مواقع فراہم کرے برآمد مخالف تحریف کو ختم کرے۔
4 ۔ توانائی کی قیمت کو کم کرنے کے لیے توانائی کے شعبے میں مارکیٹ پر مبنی اصلاحات کرنے کی ضرورت ہے۔
5 ۔ جدید معیشت کے لیے صحت، تعلیم اور اسکل ڈیولپمنٹ کے نظام کی تشکیل انتہائی ضروری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بجٹ خسارے کو کم کرنا ہمارا اہم مقصد ہو گا اور اس سلسلے میں ایک منصفانہ ٹیکس پالیسی کی بدولت اپنی آمدن کو بہتر بڑھائیں گے اور غیرضروری اخراجات کو کم کریں گے لیکن یہ کمی کرتے ہوئے ہمیں انسانی ترقی، سماجی تحفظ اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے اقدامات کو ترجیح دینا ہو گی اور ان میں کمی نہیں لائی جائے گی۔انہوں نے توانائی کے شعبے کو موثر بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں پیداواری لاگت کو کم، ایس ای او کی تنظیم نو اور نجکاری کرنی ہے اور اچھی گورننس اور سب کو یکساں مواقع فراہم کر کے نجی شعبے کو فروغ دینا ہے جہاں اس سب کا مقصد آمدن سے زائد اخراجات کے دائمی مسئلے کو حل کرنا ہے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان جی ڈی پی کے مقابلے میں ٹیکس کی شرح میں دوسرے ممالک سے کافی پیچھے ہے، اسی لیے ٹیکس نظام میں اصلاحات ہماری معاشی کامیابیوں کے لیے انتہائی اہم ہیں، ایف بی آر میں کثیرالجہتی اقدامات پہلے سے جاری ہیں اور وزیر اعظم ڈیجیٹلائزیشن، ٹیکس پالیسی اور ایف بی آر میں انتظامی اصلاحات پر گہری نگاہ رکھے ہوئے ہیں اور ان کی واضح ہدایت ہے کہ ٹیکس نیٹ میں پہلے موجود لوگوں پر بوجھ نہ ڈالا جائے بلکہ ٹیکس کے دائرہ کار میں وسعت لائی جائے۔
تاجر دوست اسکیم کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس اسکیم کا مقصد ہول سیلرز، ڈیلز اور ریٹیلرز کو رجسٹر کرنا ہے اور اب تک ہم 30ہزار 400 افراد کی رجسٹریشن کر چکے ہیں اور آنے والے دنوں میں اس میں مزید تیزی لائی جائے گی جس کے لیے موجودہ ڈیٹا کا موثر استعمال کیا جائے گا۔انہوں نے مجموعی وسائل میں اضافے کے لیے صوبوں اور حکومت کے مل کر کام کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم تمام صوبائی حکومتوں کے ساتھ ایک جامع نیشنل فسکل پیکٹ تجویز کرتے ہیں کیونکہ ہم آہنگی اور یگانگت خودکفالت کے ہدف کو حاصل کرنے کا واحد راستہ ہے اور اس سلسلے میں صوبوں سے مشاورت جاری ہے۔
اخراجات میں کمی کے لیے کیے جانے والے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پی بی ایس ایک سے 16 تک تمام خالی آسامیوں کو ختم کرنے کی تجویز زیر غور ہے جس سے 45ارب روپے سالانہ کی بچت ہونے کا امکان ہے جبکہ وفاقی کابینہ کے حجم کو کم کرنے کے لیے بھی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی حکومت کے بجٹ کا بڑا حصہ گڈز اینڈ سروسز کی پروکیورمنٹ میں صرف ہوتا ہے، پروکیورمنٹ کے نظام میں آسانی اور شفافیت کے ذریعے حکومت کی کارکردگی میں بہتری لانے کے ساتھ ساتھ وسائل کی بچے بھی کی جا سکتی ہے اور ای پروکیورمنٹ کے ذریعے سرکاری خرچ میں 10 سے 20 فیصد تک کمی لائی جا سکتی ہے جبکہ یہ نظام میں کرپشن، فراڈ اور بدنیتی جیسے مسائل پر قابو پانے میں بھی معاون ثابت ہو گا۔
اس سلسلے میں مزید تفصیلات بتاتے ہوئے سینیٹر اورنگ زیب نے کہا کہ یہ نظام 37وزارتوں اور 279 پروکیورنگ ایجنسیوں میں نافذ ہو چکا ہے جس کے تحت 14 ارب روپے کی پروکیورمنٹ ہو چکی ہے، پروکیورمنٹ ایجنسیوں کے ساڑھے 8ہزار ملازمین کی تربیت مکمل کی جا چکی ہے اور 10ہزار 545 سپلائرز اس نظام میں رجسٹر ہو چکے ہیں۔
سرکاری اداروں اور اثاثوں کی نجکاری کا ذکر کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ ہم نے نجکاری کو کلیدی ترجیح بنانا ہے، ہم ناصرف پی آئی اے، روز ویلٹ ہوٹل، ہاس بلڈنگ فنانس کارپوریشن اور فرسٹ ویمن بینک جیسے اداروں کی جاری نجکاری میں تیزی لائیں گے بلکہ نجی شعبے میں سرمایہ کاری کے لیے دیگر ایس او ایز(سرکار کے زیر انتظام اداروں) کو پیش کرنے کا ٹھوس پروگرام بھی شروع کرنے جا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کی نجکاری میں 12 کمپنیوں نے دلچسپی کا اظہار کیا تھا اور 3 جون کو چھ کمپنیوں کو نجکاری کمیشن کے بورڈ نے پری کوالیفائی کیا، اگست 2024 کے پہلے ہفتے میں سرمایہ کاروں سے بولیاں منگوا لی جائیں گی جس کے بعد یہ سلسلہ پایہ تکمیل تک پہنچ جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ بین الاقوامی سطح پر رائج بہترین طریقوں پر عمل کرتے ہوئے حکومت ملک کے بڑے ہوائی اڈوں کو آٹ سورس کررہی ہے جس سے مسافروں کو بہترین سہولیات میسر آنے کے ساتھ ساتھ ہوائی اڈوں سے حاصل ہونے والی آمدن میں بھی اضافہ ہو گا، سب سے پہلے اسلام آباد ایئرپورٹ کو آٹ سورس کیا جائے گا اور پھر چھ ماہ بعد کراچی اور لاہور ایئرپورٹس کی آٹ سورسنگ کا آغاز کیا جائے گا۔
وفاقی حکومت پر کھربوں کی غیر فنڈ شدہ پنشن کی ذمہ داری ہے، پینشن کے اخراجات میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے، لہزا ان اخراجات میں اضافے کی شرھ کو کم کرنے کی ضرورت ہے۔حکومت نے اس کے لیے تین جہتی حکمت عملی ترتیب دی ہے جس میں کافی حد تک مشاورت مکمل ہوچکی ہے۔
1 ۔ بین الاقوامی بہترین طریقوں کے مطابق موجودہ پینشن اسکیم میں اصلاحات لائی جائیں گی، ان کے نتیجے میں اگلی تین دہائیوں میں پینشن کی ذمہ داری میں کمی آجائے گی۔
2 ۔ نئے ملازمین کے لیے معاون پینشن اسکیم ( contributory) متعارف کرانا ہے جس میں حکومت کی شراکت (contribution) ہر ماہ ادا کی جائے گی، اس سے مستقبل کے ملازمین کی پینشن ان کے ملازمت کے آغاز سے ہی مکمل فنڈڈ ہوگی۔
3۔ پینشن کی ذمہ داری کو سنبھالنے کے لیے پینشن فنڈ قائم کیا جائے گا۔
محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) ہمارے سماجی تحفظ کے اقدامات کے سنگ بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے، موجودہ اتحادی حکومت کا عزم ہے کہ کمزور طبقے کی زیادہ سے زیادہ معانت کی جائے، مالی سال 2024-2025 کے بجٹ کے ذریعے کمزور طبقوں کو بی آئی ایس پی پروگرام کے ذریعے معاونت کا سلسلہ جاری رہے گا، آئندہ مالی سال حکموت درجہ زیل پیشرفت کے ساتھ بی آئی ایس پی کی رقم کو 27 فہصد اضافے کے ساتھ 593 ارب روپے تک لے جائی گی:
کفالت پروگرام کے تحت مستفید ہونے والے افراد کی موجودہ تعداد کو 93 لاکھ سے بڑھا کر 1 کروڑ تک کردیا جائے گا، ان خاندانوں کو مہنگائی کے اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے کیش ٹرانسفر میں بھی اضافہ کیا جائے گا
۔تعلیمی وظائف میں مزید 10 لاکھ بچوں کا اندراج کیا جائے گا، جس سے ان کے وظائف کی کل تعداد 1 کروڑ 4 لاکھ ہوجائے گی۔نشونما پروگرام کا مقصد بچوں کی زندگی کے پہلے ایک ہزار دنوں کے دوران اسٹنٹنگ کو روکنا ہے، اگلے مالی سال کے دوران 5 لاکھ مزید خاندانوں کو اس پروگرام میں شامل کیا جائے گا۔
معاشی شمولیت (economic inclusion) کو فروغ دینے اور لوگوں کے معاشی حالات کو بہتر بنانے حکومت بی آئی ایس پی کے تحت پہلی مرتبہ پوورٹی گریجویشن ایند اسکلز ڈیولپمنٹ پروگرام کا آغاز کرنے جارہی ہے، اس کے علاوہ بی آئی ایس پی کے ذریعے مالی خودمختاری کا ایک ہائبرڈ سوشل پروٹیکشن پروگرام متعارف کرانے کے منصوبے کا بھی آغاز کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ انسانی ترقی میں سرمایہ کاری حکومت کی بہترین سرمایہ کاری ہے اور حکومت بچوں کی تعلیم کے لیے ماحول کی فراہمی میں خاطر خواہ سرمایہ کاری کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ اسلام آباد کے 167 سرکاری اسکولوں میں انفراسٹرکچر اور تعلیمی سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے رقم مختص کرنے کی تجویز ہے۔ جبکہ بچوں کی نشونما کے لیے ہم School meal program متعارف کروا رہے ہیں جس کے تحت اسلام آباد کے 200 پرائمری اسکولوں میں طلبہ کو متوازن اور غذائیت سے بھر پور کھانا فراہم کیا جائے گا۔
اسلام آباد کے سولہ (16) ڈگری کالجوں کو NUML ،NSU ،NUST اور COMSATS جیسی مشہور یونیورسٹیوں کے تعاون سے اعلی نتائج کے حامل تربیتی اداروں میں تبدیل کیا جائے گا۔
اس کے علاوہ دیہی سے شہری علاقوں تک طالبات کے سفر کے لیے پنک بسیں متعارف کرناے کے ساتھ ساتھ دانش اسکولوں کے پروگرام کو اسلام آباد، بلوچستان، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان تک پھیلایا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی ہمارے معاشی ڈھانچے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں لہذا ان کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر کے فروغ کے لیے بجٹ میں 86.9 ارب روپے کی رقم مختص کرنے کی تجویز ہے، یہ رقم Re-imbursment of TT Charges، سوہنی دھرتی اسکیم اور دیگر اسکیموں کیے لیے استعمال کی جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی غیر معمولی خدمات کو تسلیم کرنے کے لیے محسن پاکستان ایوارڈ متعارف کرایا جا رہا ہے اور اسی طرح کے دیگر اقدامات سمندر پار پاکستانیوں کی معاونت اور قومی ترقی میں ان کے تعاون سے فائدہ اٹھانے کے لیے حکومت کے عزم کی نشاندہی کرتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ برآمدات کے شعبے کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے EXIM Bank کے ذریعے ایکسپورٹ ری فنانس اسکیم کے لیے مختص رقم کو 3.8 ارب سے بڑھا کر تیرہ 13.8 ارب روپے کرنے کی تجویز ہے اور ان اقدامات سے پورٹ فولیو میں 100 سے 280 ارب روپے تک کا اضافہ متوقع ہے جبکہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ذریعے 539 ارب روپے کے ایکسپورٹ کریڈٹ کی فراہمی کی جائے گی۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ بیرونی سرمایہ کاری ہماری ادائیگیوں کے توازن اور پاکستان کی ساکھ میں اضافے کے لیے اہم ہے، اس سلسلے میں برادر اور دوست ممالک کے ساتھ بات چیت اور کوششیں اگلے مرحلے میں ہیں، وزیر اعظم کے دورہ چین کا مقصد سی پیک کے دوسرے مرحلے کو جلا بخشنا تھا، سی پیک کے اس مرحلے میں چینی کمپنیوں کو خصوصی اکنامک زون کے ذریعے پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کیے جائیں گے اور ساتھ ہی ساتھ پاکستانی کمپنیاں چینی کمپنیوں کے ساتھ جوائنٹ وینچر کر سکیں گی۔
ملک پر موسمیاتی تبدیلی کے مرتب ہونے والے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا شدید خطرہ لاحق ہے اور اس سلسلے میں حکومت کام کررہی ہے، نیشنل کلائمیٹ فنانس اسٹریٹیجی اکتوبر 2024 تک تیار کرلی جائے گی جس کا مقصد گلوبل کمائمیٹ فنانس کو پاکستان لانا ہے جس سے ملک میں کاربن کے اخراج میں کمی لانے کے منصوبوں پر عمل کیا جا سکے گا۔
ماحولیاتی آلودگی میں کمی کے لیے حکومت کی جانب سے کیے جانے والے اقدماات کا ذکر کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت ای بائیکس کے لیے 4 ارب روپے اور توانائی کی بچت کرنے والے پنکھوں کے لیے 2 ارب روپے مختص کر رہی ہے۔
مالی سال 25-2024 کے بجٹ کے اہم خدو خال پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگلے مالی سال کے لیے اقتصادی ترقی کی شرح 3.6 فیصد رہنے کا امکان ہے جہاں افراط زر کی اوسط شرح 12 فیصد متوقع ہے جبکہ بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا 6.9 فیصد جبکہ پرائمری سرپلس جی ڈی پی کا ایک فیصد ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایف بی آر کے محصولات کا تخمینہ 12 ہزار 970 ارب روپے ہے جو کہ رواں مالی سال سے 38 فیصد زیادہ ہے، وفاقی محصولات میں صوبوں کا حصہ 7 ہزار 468 ارب روپے ہو گا، وفاقی نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 3 ہزار 587 ارب روپے ہو گا۔اسی طرح وفاقی حکومت کی خالص آمدنی 9 ہزار 119 ارب روپے ہو گی اور کل اخراجات کا تخمینہ 18 ہزار 877 ارب روپے ہے جس میں سے 9 ہزار 775 ارب روپے انٹرسٹ(سود) کی ادائیگی کی جائے گی۔پی ایس ڈی پی کے لیے ایک ہزار 400ارب روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے، پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے ذریعے 100 ارب روپے اضافی مختص کیے گئے ہیں اور مجموعی ترقیاتی بجٹ تاریخ کی بلند ترین سطح پر یعنی ایک ہزار 500 ارب روپے ہو گا۔ان کا کہنا تھا کہ 2ہزار 122 ارب روپے دفاعی ضروریات کے لیے فراہم کیے جائیں گے اور سول انتظامیہ کے اخراجات کے لیے 839 ارب روپے مختص کیے جا رہے ہیں۔پنشن کے اخراجات کے لیے ایک ہزار 14 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، بجلی، گیس اور دیگر شعبوں کے لیے سبسڈی کے طور پر ایک ہزار 363 ارب روپے کی رقم مختص کی جا رہی ہے۔
مالی سال کے بجٹ میں ایک ہزار 777 ارب روپے پر مشتمل کل گرانٹس بنیادی طور پر بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام، آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا میں ضم ہونے والے اضلاع، ہائر ایجوکیشن کمیشن، ریلوے، ترسیلات زر اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے کو فروغ دینے کے لیے مختص کی گئی ہیں۔حکومت نے 25-2024 کے لیے تاریخ میں سب سے بڑا فیڈرل پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام وضع کیا ہے جس کا حجم ایک ہزار 500 ارب روپے ہے جو پچھلے سال کے نظر ثانی شدہ حجم سے 101 فیصد زیادہ ہے، 1500 ارب میں پی پی پی منصوبوں کے لیے 100 ارب روپے شامل ہیں۔اسی طرح 25-2024 میں جاری منصوبوں کی تکمیل کو ترجیح دی گئی ہے اور تقریبا 83 فیصد وسائل جاری منصوبوں کے لیے جبکہ صرف 17 فیصد وسائل نئے منصوبوں کے لیے مختص کیے گئے ہیں، پی ایس ڈی پی میں اس شعبے کے لیے 59 فیصد رقم مختص کرنے کی تجویز ہے، سماجی شعبے کے لیے ترقیاتی بجٹ کا میں (20) فیصد رکھنے کی تجویز ہے۔
آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کے ضم شدہ اضلاع کے لیے10 فیصد وسائل مختص کیے گئے ہیں، تقریبا 11.2 فیصد وسائل دیگر شعبوں جیسے آئی ٹی اور ٹیلی کام، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ، گورنس اور پروڈکشن سیکٹر وغیرہ کے لیے مختص ہیں۔
ٹرانسپورٹیشن کے شعبے میں ہائی ویز کے نیٹ ورک کو بہتر بنانے، بڑے شہروں اور علاقوں کے درمیان رابطے بڑھانے اور ٹریفک کے بڑھتے ہوئے حجم کو سنبھالنے کے لیے موجودہ انفراسٹرکچر کو اپ گریڈ کرنے کے منصوبوں پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔
اگلے مالی سال میں پی ایس ڈی پی میں انفراسٹرکچر کی فراہمی کے لیے 824 ارب روپے کی خطیر رقم مختص کرنے کی تجویز ہے جس میں سے توانائی کے شعبے کے لیے 253 ارب روپے، ٹرانسپورٹ اینڈ کمیونیکیشن سیکٹر کے لیے 279 ارب روپے، پانی کے شعبے کے لیے 206 ارب روپے، پلاننگ اور ہاسنگ کے لیے 86 ارب روپے شامل ہیں۔
سماجی شعبے کے لیے رواں سال میں 244 ارب روپے کے مقابلے میں 280 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، خصوصی علاقوں آزاد جموں و گلگت بلتستان کے لیے 75 ارب روپے، خیبر پختونخوا کے ضم ہونے والے علاقوں کے لیے 64 ارب روپے اور سائنس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے لیے 79 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ پیداواری شعبہ بشمول زراعت کے لیے 50 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
آئندہ مالی سال 24-2023 کے بجٹ میں گریڈ ایک سے 16 کے سرکاری ملازمین کی تنخواہ میں 25 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے جب کہ گریڈ 17 سے 22 تک کے ملازمین کے لیے 22 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔
اس کے علاوہ ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں بھی 22 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔اسی طرح ملازمین کی کم از کم تنخواہ 36 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز بھی بجٹ کا حصہ ہے۔فنانس بل میں پیٹرولیم منصوعات پر فی لیٹر لیوی 20 روپے تک بڑھانے کی تجویز دیتے ہوئے لیوی کی حد 60 روپے سے بڑھا کر 80روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
موبائل فونز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے کی تجویز بھی بجٹ کا حصہ ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



