سابق امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ فائرنگ سے زخمی

ٹرمپ پر فائرنگ انتخابی ریلی کے دوران ہوئی ،گولی ان کے کان کو چھوتی ہوئی گزر گئی
طبعی معائنے کے بعد ٹرمپ ہسپتال سے فارغ،فائرنگ کرنے والا حملہ آور بھی مارا گیا

اسلام آباد: سابق امریکی صدر اور موجودہ صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ پر انتخابی ریلی کے دوران فائرنگ کی گئی جس سے وہ معمولی زخمی ہوئے ۔انہیں فوری طور پر ہسپتال لے جایا گیا جہاں طبی معائنے کے بعدا نہیں فارغ کردیا گیا ہے۔ امریکی صدر جوبائیڈن سمیت دیگر سربراہان مملکت نے ان پر قاتلانہ حملے کی مذمت کی ہے۔
امریکی ٹی وی کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ پر اس وقت فائرنگ ہوئی جب وہ پنسلوینیا کے علاقے بٹلر میں منعقدہ ریلی کے شرکا سے خطاب کر رہے تھے۔سابق امریکی صدر کو ریلی سے خطاب کرتے ہوئے 5 ہی منٹ گزرے تھے کہ فائرنگ کا واقعہ پیش آیا، واقعے کے بعد ریلی فوری طور پر ختم کر دی گئی۔امریکی ٹی وی کے مطابق ریلی میں پیش آئے واقعے میں زخمی ڈونلڈ ٹرمپ کے سر اور کان پر خون کے نشانات تھے۔ طبی معائنے کے بعد ٹرمپ کو اسپتال سے فارغ کر دیا گیا۔
ایک بیان میں سابق امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ مجھے گولی دائیں کان کے اوپرے حصے میں لگی۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق انتخابی ریلی کے دوران فائرنگ کرنے والا حملہ آور مارا گیا جبکہ ایک دوسرا شخص بھی ہلاک ہوا ہے۔حملے کے شبہے میں ایک شخص کو گرفتار بھی کر لیا گیا ہے۔دونوں حملہ آور ڈونلڈ ٹرمپ سے کئی سو گز دور موجود تھے اور اسنائپر یعنی نشانے باز تھے۔فائرنگ کی آوازیں آنے سیہ ریلی میں بھگدڑ مچ گئی۔امریکی میڈیا کے مطابق ممکنہ طور پر 2 حملہ آور تھے، دونوں کو گولی مار دی گئی جن میں سے ایک کی حالت تشویش ناک ہے۔ابتدائی رپورٹس کے مطابق ریلی کے دوران 8 سے 10 گولیاں چلنے کی آوازیں آئی تھیں۔ذرائع کے مطابق ٹرمپ کی ریلی میں جس رائفل سے فائرنگ کی تھی اسے بھی برآمد کر لیا گیا ہے۔
کاونٹی پراسیکیوٹر نے تصدیق کی ہے کہ ٹرمپ کی ریلی کے دوران فائرنگ سے ایک شخص ہلاک ہوا ہے۔
امریکی خفیہ سروس کا کہنا ہے کہ ریلی میں فائرنگ کے واقعے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ محفوظ ہیں اور ان کے حفاظتی اقدامات بڑھا دیے گئے ہیں۔ امریکی سیکرٹ سروس کے مطابق ریلی میں پیش آئے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی۔سیکرٹ سروس کا کہنا ہے کہ جیسے ہی معلومات حاصل ہوں گی، عوام کو آگاہ کر دیا جائے گا۔
ٹرمپ کی انتخابی ٹیم نے بھی کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ بالکل ٹھیک ہیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق صدر بائیڈن کو ڈونلڈ ٹرمپ کی ریلی میں فائرنگ کے واقعے پر بریف کر دیا گیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف سمیت دیگر عالمی رہنمائوں نے ٹرمپ پر فائرنگ کی مذمت کی ہے۔ برطانوی وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ وہ ٹرمپ پر فائرنگ کے دل دہلا دینے والے مناظر پر حیرت زدہ ہیں۔
ٹرمپ جونیئر کا کہنا تھا کہ والد امریکا کو بچانے کی جنگ سے کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
ڈونلڈ ٹرمپ پر فائرنگ کی ویڈیو سامنے آ گئی ہے ۔ٹرمپ ریلی کے شرکا سے خطاب کے لیے اسٹیج پر موجود تھے جب ان پر فائرنگ ہوئی، گولی بظاہر ٹرمپ کے کان کو چھوتی ہوئی نکل گئی۔ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر بیان میں کہا ہے کہ مجھے ایک گولی ماری گئی تھی جو میرے دائیں کان کے اوپری حصے میں لگی، جب بہت زیادہ خون بہا تب مجھے پتہ چلا کہ کیا ہوا ہے۔