ایک ہفتے کے اندر ڈیپارٹمنٹل سپورٹس کو بحال کریں گے ،احسن اقبال


پاکستان میں کھیلوںکی ترقی کے لئے بہترین غیر ملکی کوچز ہائر کریں گے
جو کھلاڑی بین الاقوامی مقابلوں میں حصہ لیتے ہیں انہیں خطے میں موجود دیگر ممالک جیسا الاوئنس دیں گیا، ملک میں احیا کھیل کی تقریب سے خطاب


اسلام آباد:بین الصوبائی رابطہ کے وفاقی وزیر احسن اقبال نے ہدایت کی ہے کہ اسلام آباد یونیورسٹیز میں سپورٹس ٹورنامنٹس کے انعقاد کو یقینی بنایا جائے، کھیلوں میں قومی نمائندگی کے لیے میرٹ پر انتخاب ہونا چاہئے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار قومی کانفرنس برائے احیا کھیل کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔کانفرنس میں وفاقی سیکرٹری برائے بین الصوبائی رابطہ، ندیم ارشاد کیانی، ڈائریکٹر جنرل سپورٹس، ظہور احمد، سابق اولمپک چیمپئنز، سپورٹس فیڈریشن کے نمائندوں سمیت مختلف یونیورسٹیز کے طلبا اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کی کثیر تعداد نے شرکت کی ۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ، احسن اقبال چودھری نے کہا کہ بڑے افسوس کی بات ہے۔ کہ پاکستان میں سپورٹس تنزلی کا شکار ہوگئی ہے۔ اولمپکس میں پچیس کروڑ کی آبادی 5 کھیلوں میں بھی کوالیفائی نہیں کر پائی. ہمیں معلوم ہے بھارت کھیلوں کے شعبے میں کہاں سے کہاں ترقی کرگیاہے، لیکن اب دائروں کا سفر ختم کر کے ترقی کا نیا باب رقم کرنا ہے۔ احسن اقبال چودھری کا کہنا تھا کہ پاکستان کو پہلی دس معیشتوں میں شامل ہونا ہے جس میں کھیلوں کا شعبہ بھی شامل ہے۔سپورٹس کی ترقی کے لئے غیرملکی بہترین کوچز ہائر کریں گے۔
سی پیک میں چین سے کھیلوں میں بھی تعاون لیں گے۔ کھلاڑی غریب گھر سے نکلتا ہے ، ایسی حکومت جو کھیلوں کی ترجمان ہو اس نے ڈیپارٹمنٹل اسپورٹس کو ختم کردیا۔ متعلقہ محکموں کو خط لکھ رہے ہیں کہ سات دنوں کے اندر ڈیپارٹمنٹل سپورٹس کو بحال کریں۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ 2028 اولمپکس کی تیاری آج سے شروع کر رہے ہیں۔اس سال کراچی میں نیشنل گیمز اور اسلام آباد میں قائد اعظم گیمز کا انعقاد کررہے ہیں 2025 میں سیف گیمز کی میزبانی کریں گے۔
ہاکی پر بات کرتے ہوئے، احسن اقبال چودھری کا کہنا تھا کہ دنیا میں ہاکی آسٹرو ٹرف پر آگئی لیکن پاکستان میں کھلاڑی گراس پر کھیلتے رہے اور تنزلی کا شکار ہوگئے، انہوں نے کہا کہ ہاکی 7 آسٹروٹرف بنانیکا پلان ہے جس میں سے چار بنا چکے ہیں،کھلاڑیوں کی ویلفیئر کے بارے، وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ کھلاڑیوں کی ویلفیئر کے لیے این ڈاوومینٹ فنڈ بھی قائم کررہیہیں تاکہ ان کا مستقبل محفوظ ہو اور وہ دل جمعی سے کھیل پر توجہ دیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے جو کھلاڑی بین الاقوامی مقابلوں میں حصہ لیتے ہیں انہیں خطے میں موجود دیگر ممالک جیسا الاوئنس دیں گے۔انہوں نے کہا کہ کھیلوں کی فیڈریشنز کو بھی ایمانداری اور محنت سے کام کرنا پڑیگا۔ کھیلوں میں سیاست کے کردار کے حوالے سے وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ کھیلوں کو سیاست سے بالاتر رکھنا چاہیے۔ کھیلوں میں سیاست کی مداخلت ہوئی تو کھلاڑی تباہ ہو جائیں گے، احسن اقبال نے کہا کہ مجھے کھیلوں سے شدید دلچسپی ہے۔ نارووال اسپورٹس سٹی بنانے کی پاداش میں اڈیالہ جیل میں قید کر دیا گیا۔ اپنے آپ کو کپتان کہنے والے صاحب نے نارووال اسپورٹس سٹی کے فنڈز بند کردیئے، جس سے منصوبے پر لاگت کئی گنا بڑھ گئی۔ ملک میں سپورٹس کے فروغ کے حوالے سے وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومتوں کے تعاون سے ملک کے ہر حصے میں سپورٹس کو فروغ دیں گے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کو کہا ہے کہ یونیورسٹیز میں سپورٹس ٹورنامنٹس کا باقاعدگی سے انعقاد کروایا جائے تاکہ نیشنل لیول پر ٹیلنٹ کھل کر سامنے آئے کھیلوں میں قومی نمائندگی کے لیے میرٹ پر انتخاب ہونا چاہئے،گروہ بندی سے کوئی نہیں جیت سکتا،کھلاڑی ذہنی تنائو کے ساتھ کبھی اچھی کارکردگی نہیں دکھا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ سات دن کے اندر اذلان شاہ ٹورنامنٹ میں شرکت کرنے والے ہر ہاکی کھلاڑی کو جاب لیٹر ملے گا، پاکستان سپورٹس بورڈ کو نوجوان نسل کے لیے چیمپئنز کی کامیابیوں کی سٹوریز دستیاب کرنے اور اردو میں ترجمہ کرنے کی ضرورت ہے، جیت کے لیے فوکس اور جذبہ ضروری ہے،حکومت کی ذمہ داری ہے کہ کھلاڑیوں کو تمام سہولیات فراہم کرے۔ تقریب کے آخر میں وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ و منصوبہ بندی احسن اقبال نے شرکا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی مرتب کردہ سفارشات پر تندہی سے عمل درآمد کریں گے ہر تین سے چار ماہ بعد کارکردگی جانچنے کے لیے دوبارہ ملاقات ہوگی اور سفارشات پر عمل درآمد کا جائزہ لیا جائے گا