ڈیل کا تاثر مسترد، کپتان نے مذاکرات کیلئے اپنی شرائط رکھ دیں

صاف و شفاف الیکشن کروائے جائیں کارکنوں کے خلاف بوگس مقدمات کا خاتمہ کیا جائے تو فوج سے مذاکرات کیے جاسکتے ہیں

راولپنڈی:بانی پی ٹی آئی نے فوج اور تحریک انصاف کے درمیان کسی بھی ڈیل کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے فو ج کے ساتھ مذاکرات کیلئے اپنی شرائط رکھ دی ہیں۔پاکستان تحریک انصاف کے قائد عمران خان کا کہنا ہے کہ اگر صاف و شفاف الیکشن کروائے جائیں اور میرے کارکنوں کے خلاف بوگس مقدمات کا خاتمہ کیا جائے تو مذاکرات کیے جاسکتے ہیں۔ عالمی خبر رساں ادارے روئٹرز کو تحریری طور پر انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فوج کے ساتھ بہتر تعلقات کا نہ ہونا بیوقوفی ہوگی، ہمیں اپنے فوجیوں اور مسلح افواج پر فخر ہے، میں نے تنقید ادارے پر نہیں بلکہ افراد پر کی، فوجی قیادت کی غلط فہمیوں کو پورے ادارے کے خلاف نہیں ٹھہرایا جانا چاہیے۔ایک سوال کے جواب میں عمران خان نے ڈیل کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ جب تک 8 فروری کے الیکشن میں دھاندلی کو قبول کرتے ہوئے یہ تسلیم نہیں کرتے کہ پی ٹی آئی بڑی اکثریت سے جیتی ہے تب تک عدالت سے باہر فوج یا حکومت کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات یا ڈیل کے کسی بھی خیال کو مسترد کرتا ہوں، اگر صاف و شفاف الیکشن کروائے جائیں اور میرے کارکنوں کے خلاف بوگس مقدمات کا خاتمہ کیا جائے تو فوج سے مذاکرات کیے جاسکتے ہیں۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ ملک کی مخدوش صورتحال کو بہتر کرنے کیلئے ہم بات چیت کیلئے تیار ہیں لیکن حکومت سے بات کرنا بیکار ہے کیوں کہ انہیں عوامی حمایت حاصل نہیں ہے، انہوں نے 8 فروری کو چوری کرکے الیکشن جیتا، اس الیکشن میں پاکستان کی تاریخ کے انتخابات میں سب سے زیادہ دھاندلی ہوئی، اس صورتحال میں ان لوگوں کے ساتھ بات چیت کا ہونا زیادہ نتیجہ خیز ہوگا جو اصل میں طاقت رکھتے ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف کے قائدکا کہنا تھا کہ میں نے تنقید ادارے پر نہیں بلکہ افراد پر کی، فوج کے ساتھ بہتر تعلقات کا نہ ہونا بیوقوفی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ میں نے تنقید ادارے پر نہیں بلکہ افراد پر کی، ہمیں اپنے فوجیوں اور مسلح افواج پر فخر ہے، فوجی قیادت کی غلط فہمیوں کو پورے ادارے کے خلاف نہیں ٹھہرایا جانا چاہیے۔